زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 19 جنوری، 2025

عقل کے قصیدہ خوان

عقل کے قصیدہ خوان:

عقل کے گُن گا  کر عقلمند بننا ممکن نہیں۔ کوئی شخص سارا دن عقل کے قصیدے پڑھتا رہے کہ عقل بہت اچھی شئے ہے، عقل انسانی نفس و غرائض کو لگام دیتی ہے، عقل کو لغت اور اصطلاح میں یہ کہتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ صبح سے شام تک ان چیزوں کو بار بار دہراتے رہنے سے شام کے نزدیک وہ شخص عقلمند نہیں بن جائے گا۔


:تحریر ڈاکٹر نذر حافی:

اگر ایک آدمی زبانی طور پر عقل کو نفس اور غرائض کیلئے لگام تو قرار دے لیکن عملی طور پر اُس کے نفس اور غرائض کو بے لگام پایا جائے۔وہ غیبت بھی کرے، رشوت بھی کھائے، جھوٹی گواہی بھی دے، ملاوٹ بھی کرے، اس میں عدمِ برداشت بھی ہو، دوسروں کی دل آزاری بھی کرتا ہو، اور کسی کی عزت نفس کو بھی ملحوظِ خاطر نہ رکھتا ہو۔۔۔کیا ایسے شخص کو اُس کی حکیمانہ گفتگو، تعلیمی ڈگریوں، اسناد اور سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر عقل مند کا لقب دینا درست ہے؟

جب ایسے کسی ایک شخص کو ہم عقلمند نہیں کہہ سکتے تو کیا جہاں اقتصاد میں کرپشن، سیاست میں بدعنوانی، تجارت میں ٹیکس چوری، جمہوریّت میں کنٹرولڈ ڈیموکریسی، تھانوں میں رشوت، اسمبلیوں میں دھونس، سڑکوں پر خوف، گھروں میں عدمِ اطمینان، مکالمے میں عدمِ رواداری، مباحثے میں تحمل کی کمی، دودھ میں ملاوٹ ، عدالتوں میں نا انصافی اور نظامِ تعلیم میں عدمِ مساوات کا عُنصریقینی ہو! ایسے سماج کو ہم عقلمندوں کا سماج کہہ سکتے ہیں؟

لمحہ فکریہ ہے یا نہیں کہ اپنی اقدار اور روایات کے اعتبار سے، ہمارا سماج نہ اسلامی بن سکا اور نہ مغربی۔ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر پیچھے کی طرف تیزی سے دوڑ رہا ہے۔کیا ہمارے ہاں علمائے کرام، خطبا، منقبت خوانوں، رائٹرز، شعرا، انجینئرز، ڈاکٹروں، صحافیوں، تاجروں، صنعت کاروں، قانون دانوں، فوجیوں، سیاست دانوں، دینی مدارس،مساجد، امام بارگاہوں، اولیائے کرام کے مزارات ، مشائخ حضرات، پیروں و فقیروں ، سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی کمی ہے؟ اگر کمی تو نہیں، پھر سماج کا پہیہ پیچھے کی طرف کیوں گھوم رہا ہے؟

ان سب عقلمندوں ، دانشوروں، سیاست دانوں، سائنس دانوں، ڈاکٹروں، انجینئروں، اللہ والوں، عاشقانِ رسولؐ، ماہرینِ تعلیم ، وکلااور ڈگری ہولڈرز نے ہی تو اس سماج کو آگے لے کر جانا تھا۔آپ کسی شخص کی تعلیم و تربیّت پر لاکھوں روپے خرچ کریں، اور وہ اُس کے بعد ایک انجینئر بن جائے۔ انجینئر بننے کے بعد وہ ایک ایسی ٹرین بنائے جو اسٹارٹ ہوتے ہی بے قابو ہو کر آگے کے بجائے پیچھے کی طرف اندھا دھند دوڑنا شروع کر دے۔۔۔کیا ایسا شخص انجینئر کہلانے کا حقدار ہے؟

ہمارے سماج میں جو بچہ آنکھ کھولتا ہے، وہ اپنی زندگی کے اسٹارٹ میں ہی بے قابو ہو کر آگے کے بجائے پیچھے کو دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔ یہ اُلٹی دوڑ کسی ایک فرقے، قوم، علاقے یا نسل تک محدود نہیں۔چنانچہ معدنی و قدرتی وسائل سے مالامال، ہمارا یہ پیارا وطن آگے کے بجائےتیزی سے پیچھے کی طرف بھاگ رہا ہے۔ یہ وطن جو کہ اسلامی و نظریاتی ، جمہوری اور ایٹمی بھی ہے ، اس میں عوام کے پاس نہ معیاری اور مفت تعلیم ہے، نہ مطلوبہ صحت کی سہولتیں ہیں، نہ عدل و انصاف کی فراہمی ہے، نہ اچھی پبلک ٹرانسپورٹ ہے، نہ معاشرتی و طبقاتی مساوات ہے، نہ حسُنِ اخلاق ہے، نہ باہمی تحمل ہے، نہ قومی شعور ہے، نہ حقیقی جمہوریت ہے، نہ نظریاتی سیاست ہے اور نہ ہی انسانی حقوق ہیں۔

اس بے عقل سماج میں آئے روز توہینِ مذہب کا الزام لگا کر بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دی جاتی ہیں، یہاں جعلی پیروں اور جھوٹے نبوّت و امامت کے دعویدار وں کو بھی بکثرت پیروکار مل جاتے ہیں، امریکہ جیسا کافر ملک بھی یہاں کے مجاہدین اسلام کو پالتا ہے، اور اسی سماج کےدینی مدارس میں دین کی وہ تفسیر و تعبیر رائج ہے جس کے نتیجے میں اے پی ایس پشاور کے ننھے منھے بچوں اور راہ چلتے لوگوں کو بے دردی سے شہید کر دیا جاتا ہے۔یہیں پر جمہوریّت کا مطلب عوام کو کولہو کے بیل کی مانند دائرے میں دوڑانا ہے۔۔۔اس بے عقل سماج کی تیز رفتار ٹرین تیزی سے بے قابو ہو کر پیچھے کی طرف دوڑ رہی ہے۔۔۔

آئیے تھوڑی دیر کیلئے سوچتے ہیں کہ یہ عقل کہاں پر دستیاب ہے؟اگر یہ تعلیمی ڈگریوں اور سرکاری یا نجی اداروں کی عمارتوں یا مختلف قسم کے القابات میں نہیں تو پھر یہ کہاں پائی جاتی ہے؟اگر ہم میں سے کسی کو اس کا سراغ مل جائے تو اس پر لازم ہے کہ اسے ہر قیمت پر حاصل کرے چونکہ وطنِ عزیز کو اس کی اشد ضرورت ہے۔ماقبلِ تاریخ سے لے کر آج تک ان گِنت لوگ عقل کے سراغ میں نکلےہیں۔ان سب کی یہی چیخ و پکار ہے کہ عقل کی دیوی بڑی بڑی بلڈنگوں، القابات اور ڈگریوں پر مہربان نہیں ہوتی بلکہ یہ علم کے طُور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

عقل اپنے وجود کا اظہار تعلیمی اسناد، ڈگریوں اور القابات کے سرٹیفکیٹس کی صورت میں نہیں کرتی بلکہ یہ علم کے آئینے میں جھلکتی ہے۔ جہاں ڈگری ، سرٹیفکیٹ اور ٹائٹل ہو وہاں ضروری نہیں کہ عقل بھی ہو لیکن جہاں علم ہو گا وہاں لازمی طور پر عقل بھی ہو گی۔ہمارے اس بے عقل سماج کی نسل در نسل پیچھے کو دوڑ یہ بتا رہی ہے کہ ہمارے ہاں علم کے بغیر اسناد و القابات اور ڈگریوں سے مسلح “بے علم روحوں” کی حکمرانی ہے۔یہ بے علم روحیں اپنی ڈگریوں، القابات، مال و زراور طاقت کے زور پر بے رحم بد روحوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ہمارے عہد کی بدروحیں وہ نہیں ہیں جو کسی کو خواب میں آکر ڈرائیں، بلکہ ہمارے عہد کی بدروحیں وہ ہیں جو جیتے جاگتے ہمارے تعلیمی اداروں ، منبر و محراب، تھانے و کچہری، سیاست و اقتصاد، اور میڈیا و ٹرانسپورٹ سے لے کر ایوانِ اقتدار تک ہر چیز پر بغیر علم اور اہلیّت کے نسل در نسل حاکم ہیں۔

یہ بے عقل سماج یونہی عقل سے عاری نہیں ہُوا اور یونہی پیچھے کو نہیں دوڑ رہا بلکہ یہاں بدروحوں کے راج کا رواج پڑ چکا ہے۔ جہاں عقل سے عاری ،بے علم اور بے استعداد “بدروحوں کا راج ہو وہاں انسانی سماج، انسانی سماج نہیں رہتا بلکہ پیچھے کی طرف دوڑنے والی ٹرین بن جاتا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...