زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 19 جنوری، 2025

ذہانت پر قبضے کی جنگ

 ذہانت پر قبضے کی جنگ 
اب ایٹمی جنگ کا دور گزر چکا۔ جب  انسان مشین بن جائے گا تو مشینیں انسان بن جائینگی۔ مشینوں کے عہد میں جب ساری ضروریات مغربی علومِ انسانی اور سائنس و ٹیکنالوجی نے ہی پوری کرنی ہیں تو پھر دین کس درد کی دوا ہے؟
اصل میں تو انسان کی ساری ضروریات پوری کرنا  دین کی ذمہ داری ہے، اب یہی کام علومِ انسانی اور سائنس و ٹیکنالوجی نے کرنا شروع کر دیا ہے۔یہ امر اظہر من الشّمس ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی بھی دین کے پیروکار جس طرح علومِ انسانی اور سائنس و ٹیکنالوجی کی پیروی کر رہے ہیں، اس طرح اپنے اپنے  دین کی پیروی نہیں کر رہے۔ 

ہمارا یہ دور اور یہ زمانہ   ہر دین کے علمبرداروں خصوصاً  دین اسلام کے علمائے کرام کے سامنے  یہ سوال بار بار اٹھا رہا ہے کہ کیا علومِ انسانی اور سائنس و ٹیکنالوجی کو دین کا متبادل سمجھ کر اس کا بائیکاٹ کر دیا جائے؟  یا پھر کیا تمام علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی پر میڈ اِن اسلام کی مُہر لگا دی جائے؟   یعنی جو  بھی کوئی  ایجاد ، اختراع اور علمی نظریہ سامنے آئے تو یہ کہہ دیا جائے کہ یہ سب تو ماضی کے مسلمان سکالرز کی وجہ سے ہے لہذا یہ سب اسلامی ہے؟  ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جدید انسانی  علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی میں سے جو کچھ ہماری سوچ  اور فہم کے مطابق اسلامی ہے اسے لے لیا جاِئے اور باقی سب کو  کفر اور شرک قرار  دے دیا جائے؟
تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
  اگر ایسا کیا جائے تو پھر خود علمائے کرام کے نزدیک جیسے  آج تک دینی مسائل پر ہی اتفاق نہیں ، ویسے ہی  سائنسی مسائل پر بھی ان کا اتفاق ناممکن ہے اور وہ عالمِ بشریت کو دین اور سائنس کے حوالے سے ہر گز کسی متفقہ نکتے پر قائل نہیں کر پائیں گے۔
انسان جس چیز کو نہیں جانتا اور نہیں سمجھتا، اُس کی مخالفت کو ضروری سمجھتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو نہ جاننے اور نہ سمجھنے کے باعث دیندار طبقہ اس کی مخالفت کر کے اپنا اور لوگوں کا نقصان کر بیٹھے۔ خصوصا اب جبکہ مصنوعی ذہانت ” آرٹیفیشل انٹیلیجنس ” کا سیلاب آ چکا ہے اور یہ سیلاب اپنے ہمراہ بہت بڑا  علمی انقلاب لئے ہوئے ہے۔
ہمارے علمائے کرام کو آنے والے کل سے پہلے ہی یہ طے کرنا ہے کہ کیا ذہانت بھی قدرتی وسائل کی مانند کوئی خداداد خزانہ ہے؟ کیا  دینی طالب علموں میں موجود اس خزانے کو دریافت کرنا ،اس  کی پیمائش کر کے طالب علموں کی درست سمت میں تربیّت بھی ممکن ہے؟  کیا انسان کی جسمانی اور ذہنی عمر میں فرق ہوتا ہے؟  کیا کچھ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے انسان کی ذہانت میں بہت زیادہ کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے؟ کیا  ایک ریاست، معاشرے، سماج یا  کمیونٹی کی بھی  مجموعی ذہانت ہوتی ہے اور اس  کی کوئی سطح  معیّن کی جاسکتی ہے؟
انسانی کی ذہنی عمر یعنی  ذہانت کی پیمائش کے لئے الفرڈ بینٹ نے آئی کیو  نامی ۱۹۰۵ میں ایک نظریہ دیا۔اس نے  ثابت کیا  کہ انسان کی قدرتی زندگی  کے مقدمات ومراحل کی مانند اُس کی ذہنی عمر کے بھی مقدمات و مراحل ہوتے ہیں۔یوں ممکن ہے کہ جسمانی اور طبعی عمر کے کئی مقدمات و  مراحل گزارنے والا ایک عمر رسیدہ شخص ذہانت کے اعتبار سے کسی نوعمر اور  نوجوان  لڑکےسے بہت پیچھے اور عقب ماندہ ہو۔ اسی طرح سماجی ذہانت ، اور مشکلات سے نمٹنے اور حالات پر قابو پانے کی ذہانت کے نظریات بھی موجود ہیں۔
 اس وقت جب ہم ان سوالات پر غوروفکر  کر رہے ہیں تو ہمارے ارد گرد لاکھوں لوگ یہ کھوج لگانے میں مشغول ہیں کہ اگلے چند سالوں میں جب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور دورہ ہوگا تو ذہانت پر قبضے کی جنگ ایک مقبول تجارت کی شکل اختیار کر لے گی،  اس وقت ہمیں  کون کون سے علوم و فنون چاہیے ہونگے ؟۔  
اُس وقت جب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی بدولت  علم ،  انسان، تجارت اور ذہانت کی تعریف بدل جائے گی تو  آرٹیفیشل انٹیلی جنس ” اجتہاد ”  پر کیا اثرات ڈالے گی؟  کیا انسان دینی مسائل میں کسی مجتہد کا سراغ ڈھونڈنے کے بجائے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے مدد لے گا؟  جیسے ابھی ریاضی میں کیلکولیٹر سے یا دیگر امور میں گوگل یا کسی دوسرے سرچ انجن سے مدد لی جاتی ہے۔  جب دین تک انسان کی دسترسی اتنی آسان ہو جائے گی تو کیا پھربھی کسی دیندار  انسان کو اجتہاد و تقلید کی قدیم روش پر باقی رکھنا ضروری ہوگا؟  جب آرٹیفیشل انٹیلی جنس دینی معلومات میں ایک عام انسان سے آگے نکل جائے گی تو کیا ایک دینی طالب علم کے نصابِ تعلیم پر جو اثر پڑے گا، اُس کیلئے آج ہماری دینی دنیا آمادہ ہے؟
 یہ بات بہت پیچیدہ ہے کہ جب انسان مشین بن جائے گا اور مشین انسان ! تو کیا دین کی طلب بڑھ جائے گی یا کم ہو جائے گی؟ اگر بڑھ جائے گی تو رسد کا طریقہ کار کیا ہوگا اور اگر کم ہو جائے گی تو اس طلب کو بڑھانا کس کی ذمہ داری ہے؟
ڈینیل گولمین ایک امریکی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے چند دہائیاں پہلے اِیموشنل کوشنٹ سے دنیا کو متعارف کرایا۔ آئی کیو کے بعدEQ  یعنی جذباتی ذہانت ۔ان کے مطابق انسان کے جذبات اُس کی ذہانت کے عکاس ہیں۔لہذا انسان کو اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے میں بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ جذبات کی تسکین کے بغیر کوئی انسان کسی بھی کام پر تمرکز ﴿فوکس﴾ نہیں کر سکتا۔  انسان کا ماحول، حالات اور مختلف عوامل اُس کے جذبات پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ آپ کا آئی کیو لیول چاہے جتنا بھی بلند ہو لیکن اگر آپ  اپنے اور دوسروں کے جذبات کو متوازن نہیں رکھ پاتے تو آپ کبھی بھی باصلاحیّت افراد پر مشتمل کوئی اچھی ٹیم تشکیل نہیں دے سکتے اور کسی بڑے ویژن پر کام نہیں کر سکتے۔ عملی زندگی میں اپنے اور دوسروں کے احساسات اور جذبات کو   کسی ایک نکتے پر متمرکز کئے بغیر نیز احساسات و جذبات کے اظہار کےطریقوں کو سمجھے بغیر   کوئی ٹیم تشکیل نہیں پا سکتی اور پھر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے کسی ادارے میں  آئی کیو لیول  کے امتحان میں کتنے نمبر  آئےہیں اور ماضی میں  آپ کا کسی بھی شعبے میں اپنا ذاتی تجربہ کتنا اور کیسا رہاہے۔ مطالعات کے مطابق ای کیو اور ایس کیو  میں  برتری رکھنے والے لوگ  زیادہ آئی کیو  والی شخصیات کی نسبت گئی گنا بہتر ٹیم تشکیل دے لیتے ہیں۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ جب آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے عہد میں انسان کے جذبات و احساسات کو مشینی طریقہ کار سے کچل دیا جائے گا تو دینی تعلیمات و دینی  اقدار میں انسان کیلئے کشش کیسے باقی رہے گی؟ کیا مشینوں کی حکومت میں انسان آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی زد میں آنے کے بعد اپنے دین کو بچا سکے گا؟ اور کیا بچانے کے بجائے اپنانے کا بھی کوئی راستہ موجود ہے یا نہیں؟
آرٹیفشل انٹیلی جنس ہمیں ایسے ان گنت سوالات پر سوچنے اور غوروخوض کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔میں بھی سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچئے، اس لئے کہ سوچنے والوں کی دنیا ، دنیا والوں کی سوچ سے مختلف ہوتی ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...