زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 16 فروری، 2025

اہلِ تشیع اور چار اہم غلط فہمیاں

ڈاکٹر نذر حافی:

ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔ پہلے ہم حقائق تسلیم کرنے پر راضی تو ہو جائیں؟ گذشتہ چودہ سو سالوں میں حضرت علیؑ اور اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں ، گالیوں،  مغالطوں اور فتووں تک کا استعمال کیا گیا۔ اسی طرح ان کے خلاف تلوار کا استعمال، گرفتاریوں اور ٹارچر سیلوں، بہمیت،ٹارگٹ کلنگ ۔۔۔ ہر طرح کا جبر روا رکھا گیا۔ مغالطوں کا اندازہ اس سے لگائیے کہ حضرت عمار یاسر ؓ کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کے قاتل خود حضرت علیؑ ہیں، چونکہ وہی انہیں میدان میں لے کر آئے ہیں اور شیعیانِ علی کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اس لئے روتے اور ماتم کرتے ہیں، چونکہ انہوں نے خود امام حسین ؑ کو شہید کیا ہے۔


آج بھی آپ سروے کر لیں۔ کسی دور دراز کے ایسے گاوں میں چلے جائیں، جہاں پرائمری سکول بھی نہ ہو، وہاں لوگوں سے پوچھیں کہ شیعہ کون ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ وہاں بھی لوگوں کو یہ پتہ ہوگا کہ شیعہ کافر ہیں، یہ دس محرم کو خون پیتے ہیں، شامِ غریباں میں۔۔۔  آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح نسل در نسل ان کے خلاف پروپیگنڈہ جاری ہے۔
 یہ سب ہونے کے باوجود میرے جیسے ایک سوچنے سمجھنے والےانسان کیلئے یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی صحابہ کرام کا ایک گروہ شیعیانِ علی کہلاتا تھا یا نہیں؟۔

اہلِ تشیع کے خلاف پروپیگنڈوں اور مغالطات سے کئی پڑھے لکھے اور باشعور افراد بھی متاثر ہیں۔ چنانچہ مجھے کئی مرتبہ یہ جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اہلِ تشیع کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی اور ان کے عقائد و نظریات کیا ہیں؟کہانیوں کے بجائے جب میں نے شیعیانِ علی کی ابتدا کا سراغ لگانا شروع کیا تو ابو حاتم رازی[1]، ابن خلدون[2]، محمد کرد علی[3]، صبحی صالح [4]، عبدالله عنّان [5] سمیت بہت سارے اہل سنت علماu اور دانش مندوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی علیہ وآلہ کے زمانے میں ہی متعدد صحابہ کرام ؓ کو شیعیانِ علی کہا جاتا تھا۔

انہیں شیعیانِ علی کہنے کی وجہ یہ تھی کہ بہت سارے صحابہ کرام ؓ  اُسی زمانے میں یہ جان گئے تھے کہ پیغمبرِ اسلام ؐ کی عدم موجودگی میں صرف حضرت علی ؑ ہی مسلمانوں کے سرپرست اور ولی ہیں۔بطورِ خاص حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت سلمان فارسیؓ، مقداد بن اسوؓد، حضرت مالِكِ بنِ نوَيرَة، جابر بن عبداللهؓ، ابی بن کعبؓ، ابوالطفیل عامر بن واثلهؓ، عباس بن عبد المطلبؓ اور ان کی تمام اولاد، عمار یاسرؓ، ابو ایوب انصاریؓ، أبى سعید الخدرى، وحذیفة بن الیمان، خزیمة بن ثابت، خالد بن سعید بن العاص، قیس بن سعد بن عُبادہ خَزرَجی کو شیعیان علیؑ میں سے جانا جاتا تھا۔[6] اب میرے لئے سوال یہ پیدا ہوا کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں ہی شیعیانِ علی موجود تھے اور میدانِ غدیر میں جب امام نبیؐ نے بھی من کنت مولاہ فھذا علی مولا کا اعلان کر دیا تھا تو پھر  سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے وقت  حضرت امام علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ میں سے کسی کو بھی نہ بلانے اور ان سے مشورہ نہ کرنے سے خود نبی ؐ کی سیرت کی تعمیل ہوئی یا عدمِ تعمیل؟ 

سیرت النبیؐ کی عدمِ تعمیل سے انحراف نے مسلمانوں کے درمیان جس خلا کو ایجاد کیا اُس خلا کو پُر کرنے کیلئے بعد والے مسلمانوں نے کیا خدمات انجام دی ہیں؟یہ ہمارے سامنے ہے کہ نبیؐ کے بعد مسلمانوں میں اربابِ اقتدار کے خلاف ایک مستقل اور مزاحمتی تحریک نے جنم لیا۔ کیا یہیں سے فرقہ واریت اور فرقہ پرستی کا آغاز نہیں ہوا؟ اسکے بعد علیؑ، آلِ علیؑ اور شیعیانِ علیؑ کے ساتھ جو ہوا اُس کا خلاصہ ۶۱ ھجری میں معرکہ کربلا کی صورت میں عیاں ہے۔ 

کربلا کے بعد شیعیانِ علی ایک گروہ سے ایک تحریک میں تبدیل ہوگئے۔ ایک ایسی تحریک جو کھل کر بادشاہت و ملوکیت کے خلاف  تھی۔ اب اس تحریک کو ماضی کی نسبت کئی گنا زیادہ پروپیگنڈے، تلوار اور قید و بند  کا سامنا تھا۔میں نے اس حقیقت سے انکار کرنے کی بہت کوشش کی لیکن مجھے اس حقیقت سے انکار ممکن نظر نہیں آرہا کہ تاریخ ِاسلام اور اہلِ تشیع ہم عمر ہیں۔ نبی اکرمؐ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی شیعیانِ علیؑ کہلانے والے صحابہ کرام در اصل نبی اکرمؐ کی احادیث اور تاکید کی روشنی میں حضرت امام علی ؑکی ولایت و امامت پر قائم رہے۔ جب سقیفہ بنی ساعدہ کا مسئلہ پیش آیا تو اسی گروہ نے اربابِ اقتدار کے مدِّمقابل مقاومت کی۔ اگرچہ مزاحمت و مقاومت کرنے والے مسلمانوں کے کئی گروہ تھے لیکن اُن سب میں شیعیانِ علی سب سے زیادہ سخت جان واقع ہوئے چونکہ باقی سب کو کافر و مرتد کہہ کرانہیں اسلام سے خارج کہہ کر ان کا قلعہ قمع کر دیا گیا۔ ویسے تو اہلِ تشیع کو کافر و مشرک اور مرتد کہنے کیلئے ہزاروں غلط بیانیوں اور لاکھوں غلط فہمیوں کا سہارا لیا گیا ہےلیکن ہم اس وقت اہلِ تشیع کے صرف عقیدہ امامت کے بارے میں پھیلائی گئی چار غلط فہمیاں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ 

پہلی غلط فہمی:۔ اہلِ تشیع کے بارے میں یہ غلط فہمی مشہور ہے کہ شیعہ اپنے اماموں پر فرشتہ وحی کے نازل ہونے کے معتقد ہیں اور اُن کے بارہ امام نعوذ باللہ بارہ نبی ہیں۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

غلط فہمی کا جواب:۔ ختمِ نبوّت کا مطلب ہے کہ اب نبوّت ختم ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قیامت تک اُمّت کی ہدایت کی ضرورت بھی ختم ہوگئی ہے۔ یقیناً ہدایت کی ضرورت باقی ہے۔ اس ہدایت کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے اہلِ سُنّت ختم نبوّت کے بعد خلافت کے قائل ہیں۔ یہ خلافت کیا ہے۔؟ 

اہلِ سُنّت کی طرف سے خلافتِ راشدہ دراصل ختم نبوّت پر مہر ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اب خلیفہ ہدایت کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں جب خلافت کا سلسلہ شروع کیا گیا تو حضرت علی ؑ اور شیعیانِ علی ؑ کو اُس میں شامل نہیں کیا گیا، اس لئے شیعہ کے ہاں ختمِ نبوّت کے بعد اُمت کی ہدایت کیلئے خلافتِ راشدہ  کے بجائے امامت در اصل ختمِ نبوّت کی مہر ہے۔ اہلِ تشیع کے ہاں امامت کامطلب یہ ہے کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا اور امت کی ہدایت اب امام نے کرنی ہے جوکہ آخری نبی کا خلیفہ اور امت کا امام ہے۔

لہذا یہ کہنا کہ اہلِ تشیع کے ہاں امام نعوذ باللہ نبی ہوتے ہیں، یہ سراسر یا تو لاعلمی ہے، یا غلط فہمی اور یا پھر تعصب۔

دوسری غلط فہمی:

 شیعہ بارہ اماموں کے قائل ہیں، اہل تشیع کے مطابق یہ بارہ امام آلِ رسولؐ یا قریش  سے ہونگے، اب قیامت تک یہی نسل انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی، یہ تو نسل پرستی ہے۔ اب تو نسلیں بھی مخلوط ہیں۔ لہذا اگر پیغمبرِ اسلام نے یہ فرمایا ہے کہ میرے جانشین قریش میں سے ہونگے یا میرے اہل بیت میں سے ہوں گے تو کیا پیغمبر ؐ یہ نہیں جانتے تھے کہ قیامت تک تو میری نسل بھی مخلوط ہو جائے گی۔

غلط فہمی کا جواب: پیغمبر نے اپنے اہل بیت ؑ کو اس لئے اپنے بعد ہدایت کا مرکز قرار دیا کہ آپ نے اپنے اہلِ بیت کی تربیت خود کی۔ اُس وقت لوگ نئے نئے مسلمان ہو رہے تھے۔ لہذا پیغمبر انہیں بتا رہے تھے کہ دین میرے اہلِ بیت سے سیکھنا۔ نبی ؐ نے پہلے حضرت امام علیؑ اور حضرت فاطمۃ الزہرا ؑ کو خود پالا، ان کی تربیت کی، پھر اُن کے بچوں کو بھی خود پالا اور تربیّت کی۔ یہ پیغمبر کی تربیّت کے شہکار تھے۔ اب یوں نہیں ہے کہ قیامت تک ان کی نسل سے معصوم امام پیدا ہوتے رہیں گے۔صرف حضرت امام علیؑ، ان کے دو بیٹے جو رسولؐ کی آغوشِ تربیت میں پلے اور آگے صرف امام زین العابدینؑ جو امام حسین کی تربیت کا ثمر ہیں اور آگے صرف امام محمد باقر جو کہ امام زین العابدین ؑ کی تعلیم و تربیّت کا عکس ہیں اور آگے صرف امام جعفر صادقؑ۔۔۔۔ یعنی اُسی دور میں بارہ کے بارہ امام جو کہ صدرِ اسلام، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے عہد میں مکمل ہوگئے۔ 

اہلِ تشیع کے ہاں صرف یہ بارہ امام ایسے تربیّت یافتہ ہیں کہ معصوم  کہلانے کے حقدار ہیں اور قیامت تک میزانِ عمل ہیں۔ نہ کہ جو شخص بھی یہ کہے کہ میں آلِ رسول ہوں، وہ امام یا معصوم ہے۔ حتی کہ ان بارہ اماموں کے سگے بہن بھائی بھی قیامت تک کیلئے معیارِ قرآن و سُنّت، امام یا معصوم نہیں ہیں۔

پس پیغمبر ؐ کی حدیث کی روشنی میں بارہ امام اوائلِ اسلام میں ہی مکمل ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ قیامت تک کوئی آلِ رسول سے ہو یا کسی بھی دوسری نسل سے، عرب میں پیدا ہو یا عجم میں، وہ غیر معصوم ہے۔ وہ محتاج ہے کہ اپنے اعمال کو قرآن و سُنّت کے مطابق انجام دے۔ اس کیلئے اُسے ان معصوم اماموں سے رہنمائی لینی ہوگی کہ میرے اعمال درست ہیں یا نہیں۔ اب جو لوگ پیغمبرِ اسلام ؐ کی حدیث کے مطابق آج تک اپنے بارہ امام پورے نہیں کرسکے، ان کیلئے یہ مسئلہ ہے، وہ اپنے اماموں کی معرفت اور شناخت قائم کریں۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن سمرہ  سے روایت ہے: "میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپﷺ نے فرمایا: "یكون بعدی اثنا عشر امیراً۔۔۔ كلهم من قريش۔"، "میرے بعد بارہ امیر اور خلیفہ ہوں گے اور وہ سب قریش سے ہوں گے۔" یہ حدیث اسی صورت میں شیخ صدوق کی الامالی اور الخصال میں بھی نقل ہوئی ہے اور دوسرے شیعہ منابع میں بھی۔

محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری ؒ نے صحیح مسلم میں آٹھ مرتبہ یہ حدیث مختلف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ بطورِ نمونہ حضرت جابر بن سمرہ ؓسے انہوں نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "لا یزال هذا الامر عزیزاً الی اثنی عشر خلیفهً۔۔۔ كلهم من قریش۔" امامت کا یہ امر باقی ہے اور بارہ خلفاء کے ذریعے ہمیشہ قائم و دائم رہے گی اور وہ سب خلفاء قریش سے ہیں۔[11]  

اسی طرح  فقیہ، محدث اور علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی المعروف امام نوی نے اپنی شرح میں بھی اس حدیث کو لکھا ہے۔[12] مسند أحمد میں صحاح ستہ کے ثقہ راوی اور عظیم محدث امام شعبی نے حضرت مسروق رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ہم عبداللہ بن مسعودؓ کے پاس بیٹھے تھے اور وہ ہمارے لیے قرآن پڑھ رہے تھے۔

ایک شخص نے ابن مسعودؓ سے کہا: "کیا آپ نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے پوچھا ہے کہ کتنے افراد اس امت پر خلافت کریں گے؟ تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں! ہم نے پوچھا اور آپﷺ نے جواب دیا: بارہ افراد بنی اسرائیل کے دینی پیشواؤں کے تعداد کے برابر۔ [13] یہ حدیث کئی محدثین نے اپنی کتابوں میں متعدد مرتبہ لکھی ہے۔ ہم بطورِ نمونہ چند اہم کتابوں کے صرف ایک ایک مقام کا ذکر کر رہے ہیں۔مثلاً یہ حدیث  کنزالعمال،[14] صحیح ترمذی، [15] مسند احمد، [16]  اور محدث امام حاکم نیشاپوری ؒنے المستدرك على الصحيحين [17] میں بھی نقل ہوئی ہے۔

بعض روایات میں بارہ اماموں کے نام بھی بیان کئے گئے ہیں۔ خوارزمی نے مقتل الحسین میں حضرت سلمان فارسی ؓسے نقل کیا ہے کہ: "ہم رسول خداﷺ کی خدمت میں شرفیاب ہوئے جبکہ حسین (ع) آپﷺ کی آغوش میں تھے، آپﷺ نے ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا اور فرمایا: "بے شک آپ سیّد ابن سیّد ہیں، بے شک آپ امام  ابن امام ابوالآئمہ ہیں، آپ حجت ہیں اور نو حجتوں کے باپ، جو آپ کی صلب سے ہیں، جن میں آخری قائم آل محمدﷺ ہیں۔"[18] معروف اہلِ سُنّت عالم دین، امام صدر الدین ابراہیم بن محمد بن مؤید جُوینی شافعی (م 722ھ) نے فرائد السمطین میں نقل کیا ہے کہ نعثل نامی یہودی نے رسول اللہﷺ  سے عرض کیا: ہمیں اپنے جانشین سے آگاہ کریں، کیونکہ کوئی بھی ایسا پیغمبر نہیں ہے، جس کا کوئی جانشین نہ ہو اور ہمارے نبی نے یوشع بن نون کو اپنا وصی اور جانشین قرار دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: "بے شک میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ علی بن ابی طالبؑ ہیں اور ان کے بعد ان کے دو بیٹے حسنؑ اور حسین ؑاور ان کے بعد نو مزید امام ہیں، جو حسین بن علیؑ کی صلب سے ہیں۔ نعثل نے کہا: اے محمدﷺ! ان نو جانشینوں کے نام بھی میرے لیے بیان کریں اور رسول اللہﷺ نے ان کے نام بھی بیان فرمائے۔ اسی طرح ینابیع المودّہ میں بارہ اماموں کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔[19]

تیسری غلط فہمی:اہلِ تشیع کے بارے میں ایک غلط فہمی یہ بھی پھیلائی گئی ہے کہ جو ہمارے اماموں کی پیروی نہیں کرتا، اُسے بے شک ہم دنیا میں مسلمان کہیں، لیکن وہ آخرت میں جہنم میں جائے گا۔

غلط فہمی کا جواب:اہلِ تشیع کے ہاں عقائد میں تقلید حرام ہے۔ آپ عقائد میں کسی بھی مجتہد یا مفتی کی تقلید نہیں کرسکتے۔ آپ کو عقیدے کیلئے تحقیق کرنی ہوگی۔ جس نے عقیدے کی تحقیق میں سُستی یا کوتاہی کی، وہ عنداللہ سزا کا مستحق ہے۔ لیکن جس نے  اقرارِ توحید و رسالت کو تحقیق کے ساتھ انجام دیا اور اپنا عقیدہ تحقیق کی روشنی میں بنایا، پھر وہ جس بھی نتیجے پر پہنچا، تحقیق کے ساتھ، چاہے فقہ حنفی پر، مالکی پر، شافعی پر یا جعفری پر۔۔۔ جس پر بھی اور اُس نے اپنے یقین کے مطابق ٹھیک طریقے سےاپنے اعمال کو انجام دیا تو وہ عنداللہ اجروثواب پائے گا۔

خلاصہ: انسان اپنی تحقیق اور عمل کے مطابق جنت یا جہنم میں جائے گا، نہ کہ دوسروں کی تحقیق اور عمل کے باعث۔

چوتھی غلط فہمی:شیعہ اپنے اماموں کے فرامین کو حدیث اس لئے کہتے ہیں کہ وہ نعوذ باللہ اپنے اماموں کو نبی سمجھتے ہیں۔

غلط فہمی کا جواب:حدیث ایک علمی اصطلاح ہے، جس کا اطلاق سب سے پہلے نبی اکرمؐ کے فرامین پر کیا جاتا ہے۔ بارہ اماموں کو چونکہ نبیؐ نے اپنے جانشین اور اپنے خلفاء کہا ہے اور اُن کی سُنّت کو اپنی سُنّت کہا ہے۔ لہذا پیغمبرؐ کے فرامین کو حدیث کہنے کی اتباع میں بارہ اماموں کے فرامین کیلئے بھی وہی حدیث کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اب اس اصطلاح کو کھینچ کر یہ کہنا کہ شیعہ اپنے اماموں کو نبی کہتے ہیں، یہ ایک انتہائی حد سے بڑھا ہوا الزام ہے۔ جو لوگ جان بوجھ کر ایسا کہتے ہیں، وہ یقیناً خدا کے ہاں جوابدہ ہونگے اور جو نہیں جانتے، اُن کیلئے ہم نے واضح کر دیا ہے۔

ہمارے نزدیک اہلِ تشیع غلط ہیں یا درست، یہ فیصلہ کرنے میں ہر شخص آزاد ہے۔ البتہ کوئی بھی شخص جس بھی نتیجے پر پہنچے وہ حقیقت کی روشنی میں پہنچے نہ کہ مغالطوں، غلط بیانیوں اور الزامات و جھوٹ پر مبنی مفروضات پر اپنی رائے قائم کرے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں جو کہانی بتائی اور سمجھائی گئی ہے وہ سرے سے ہی غلط ہو۔


 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...