ڈاکٹر نذر حافی:
آج ہم جس فتنہ الخوارج سے زِچ ہو کر طالبان کےسامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں، یہ سارے فتنہ باز جتھہ بردار کوئی اجنبی اور ہمارے نامحرم نہیں بلکہ ہمارے ہی مجاہد بھائی ہیں۔ حالیہ چند دنوں میں ہمارے ان مجاہد بھائیوں نے بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں شاہرگ کے مقام پر کوئلے کی کان کے قریب دھماکہ کر کے گیارہ مزدوروں کو خاک و خوں میں غلطاں کر دیا ۔ اسی طرح دو دِن پہلے ایک بار پھر پارا چنار جانے والے قافلے پر حملہ ہوا۔ بڑے مزے کے ساتھ مجاہدبھائیوں نے بگن ، مندروی ، ڈاڈ کمر چارخیل اور اوچت کے مقام پر گاڑیوں کو لوٹا اور لوٹنے کے بعد آگ بھی لگائی گئی۔ اس حملے میں کئی لوگ زخمی اور جاں بحق ہوئے۔ تاجر برادری کے مطابق پندرہ سے زائد ڈرائیور اس مرتبہ بھی لاپتہ ہو گئے ہیں۔ آگاہ رہیں کہ اس کا عتاب بھی مجاہد بھائیوں کے بجائے بےچارے عام افغان مہاجرین پر ہی نازل ہو گا۔
عرصہ دراز سے مذکورہ بالا علاقوں کا طالبان یا مجاہد بھائیوں کے قبضے میں چلے جانا اور پاکستان کےہاتھوں سے نکلنا کسی سے مخفی نہیں۔ان علاقوں کو طالبان سے واپس لینے کے بجائے عام افغان مہاجرین پر شکنجہ کسنا در اصل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔کیا طالبان یعنی مجاہد بھائیوں کے ہاتھوں رفتہ رفتہ پاکستان کے جغرافئے سے دستبردار ہوتے جانا ہماری قومی پالیسی ہے؟
ایک طرف خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہمارے مجاہد بھائی ہماری ریاستی رِٹ کیلئے چیلنج بن چکے ہیں اور دوسری طرف خیبر پختونخوا کی حکومت بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں اپنے دو وفد طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیلئے افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ایک وفد کے بارے میں شنید ہے کہ وہ سفارتی معاملات طے کرے گا اور دوسرا وفد ایسے اسٹیک ہولڈرز کا ہے جو اللہ ہی جانے مجاہدین کے ساتھ مل کر اپنے ملک کے ساتھ کیا کرے گا۔ ملکی تاریخ میں ، صوبوں کی طرف سے ایسی انوکھی پلاننگ پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ کیا پاکستان کے صوبے براہِ راست بین الاقوامی مذاکرات کرنے اور اپنی خارجہ پالیسی طے کرنے میں خود مختار ہیں؟
اب تو بچے بھی یہ لوری نہیں سُنتے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ نئی نسل افغانستان اور ہندوستان سمیت سب ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات چاہتی ہے۔ دہشت گردوں کو مذہب کا شیلٹر فراہم کرناکسی کو بھی پسند نہیں۔ ہم لوگوں کو تو یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں لیکن جوانوں کویہ سوچنے سے کون روک سکتا ہے کہ پاکستان کے علاقوں پر مختلف شکلوں میں قبضہ جمانے والے یہ سارے مجاہد بھائی ایک ہی مذہب سے کیوں تعلق رکھتے ہیں؟ کیا ہمیں اپنے ہاں کی مذہبی اقلیتوں نیز بلوچوں ، پختونوں ، سندھیوں اور پنجابیوں کو مجاہد بھائیوں کے ذریعے تلف کرنے، ختم کرنے اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کے بجائے ان کےروزگار، تعلیم، اور فلاح و بہبود کیلئے کچھ کرنے کا نہیں سوچنا چاہیے؟۔
بات یہ نہیں کہ بلوچستان دہشت گردی کی زد میں ہے یا آئےروز بگن ، مندروی ، ڈاڈ کمر چارخیل اور اوچت کے مقام پر مسافروں کو قتل کیا جاتا ہے اور مال بردار گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے بلکہ بات کچھ اور ہے۔ بات یہ ہے کہ اب بھارت کو بُرا بھلا کہنے سے یہ لوٹا ہوا مال ، جاں بحق ہونے والے لوگ اور مجاہد بھائیوں کے زیرِ قبضہ علاقے واپس نہیں آ سکتے۔ ساری دنیا یہ تماشا دیکھ رہی ہے کہ ہم نے اب تک اپنے مجاہد بھائیوں کے بجائے بے چارے افغان ماجرین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔
کیا ہے کوئی جو یہ سوچے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا اپنے دو وفد طالبان حکمرانوں کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کیلئے بھیجنا دوسرے صوبوں اور ملکی سالمیت کیلئے کیا پیغام رکھتا ہے؟ وفد بھیجنے والوں کو یہ طے کرنا چاہیے کہ ہمارےعوام کو تحفظ ، روزگار، علاج، تعلیم اور عدل و انصاف کی ضرورت ہے یا خود کُش دھماکوں، منشیات اور اسلحے کی؟ اپنے وفود افغانستان ضرور بھیجئے لیکن کیا عوام کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ اس وقت مسلک وہابیت ، اہلحدیث یا مکتب سلفی کے مرکز سعودی عرب میں کوئی داعش، القاعدہ، طالبان، سپاہِ صحابہ، لشکرِ جھنگوی اور خود کُش بمباروں کا کیمپ نہیں؟ بھارت ہمارا دشمن ہی سہی ، وہیں پر دیوبندی مکتب کا مرکز دارالعلوم دیوبند موجود ہے، پورے ہندوستان میں کہیں بھی ایک انچ زمین بھی کسی سپاہِ صحابہ، داعش، القاعدہ، طالبان یا لشکرِ جھنگوی کے قبضے میں نہیں؟ہمارے ہمسائے میں شیعہ اکثریتی ملک ایران ہے۔ کیا ایران میں کوئی ایسا علاقہ ہے کہ جہاں اہلِ تشیع کے مسلح جتھے اہلِ سُنّت کو کھانا، غذا اور ادویات نہ پہنچنے دیتے ہوں اور اہلِ سُنّت کی مال بردار گاڑیوں کو لوٹ لیتے ہوں؟
یہ توجہ طلب نکتہ ہے کہ ہمارا یہی تفتان بارڈر جہاں پاکستانی مسافروں کو جی بھر کر ذہنی ٹارچر کیا جاتا ہےوہیں ایرانی اسٹاف اپنے شہریوں کے ساتھ کتنے ادب و احترام کے ساتھ پیش آتا ہے ؟ کیا ہم نے اپنے ہمسایہ ممالک سے کوئی اچھی چیز سیکھنے کے بجائے ہمیشہ نفرت، دشمنی ، کینہ، منشیات اور اسلحہ ہی درآمد کرنا ہے؟
بالاخر یہ کس نے سوچنا ہے کہ کیوں سعودی عرب ، ہندوستان اور ایران میں دیوبندی ، وہابی اور شیعہ مسالک کے مراکز ہونے کے باوجود مسلح جتھے وہاں کبھی اس طرح نہ ہی مسافروں کو مارتےہیں اور نہ ہی گاڑیوں کو لوٹتے ہیں اور نہ ہی جابجا مختلف علاقوں پر قبضہ جماتے ہیں؟
ہمارے مجاہد بھائیوں کے پاس عوام کُشی، عوام دُشمنی اور ملکی بدحالی کے سوا کچھ نہیں ۔ یہ طالبان نے نہیں بلکہ ہم نے خود سوچنا ہے کہ عوام افغانستان کے ہوں یا پاکستان کے دونوں طرف کے لوگ ہم پاکستانیوں سے نالاں ہیں۔ دونوں طرف کے لوگوں کو ناراض کر کے آخر مسلح جتھوں یعنی مجاہد بھائیوں کو ہم کب تک پالتے رہیں گے؟








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں