۸ فروری ۲۰۲۵کے سیشن میں جاوید احمد غامدی صاحب کے فقط ایک نظریے " نظریہ مہدویت" پر گفتگو کی گئی ۔ جس میں سب سے پہلے غامدی صاحب کے امام مہدی ع کے بارے میں نظریے کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دلائل پر منصفانہ انداز میں نقد کیا گیا۔ ان کے بہت سارے نظریات اہل سنت کی عام روش سے ہٹ کر ہیں۔ جیسے سنت سے مراد سنت ابراہیمی ہے، عیسی ع کا نزول نہیں ہونا، امام مہدی کا ظہور نہیں ہونا، زکوٰۃ کا نصاب معین کرنا ریاست کا حق ہے، حلال اور حرام ہونے کا معیار انسانی عقل و فطرت ہے وغیرہ۔
سیشن کے اہم نکات کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:
1. قرآن میں امام مہدی ع کا عقیدہ صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔
اس کا جواب یہ دیا گیا ۔
الف) عمر بن عبد العزیز جس کے امام مہدی ع ہونے کے آپ قائل ہیں، ان کا ذکر بھی تو قرآن میں نہیں، انہیں آپ نے امام کیسے مان لیا؟
ب) آپ کے بقول ہر مہم مطلب قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہونا چاہیے، تو آپ بھی بہت سے مہم عقیدتی مسائل کے قائل ہیں جو قرآن میں اس صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔ جیسے نبی اکرم ص کو دنیا کے معاملات کی بالکل خبر نہیں تھی لوگ پیغمبر سے دنیاوی
معاملات میں اعلم تھے۔
ج) ہر مہم مطلب اگر قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہونا چاہیے تو یہ نظریہ چونکہ مہم بھی تھا اور مبتلی به اور رائج بھی تو قرآن اور احادیث میں آنا چاہیے تھا کہ کوئی منجی نہیں آئے گا۔
د) مفسرین نے بعض آیات کے ذیل میں رسول خدا سے روایات نقل کی ہیں جو امام زمان کے ظہور اور زمانے کے بارے میں ہیں۔
2. ساری کی ساری احادیث جو امام مہدی ع کے بارے میں آئی ہیں وہ ضعیف اور من گھڑت ہیں۔اس پر بھی عقلی نقد پیش کیا گیا۔
3 بعض روایات جو قابل قبول ہیں لیکن وہ بعض روایات عمر بن عبد العزیز پر تطبیق کرتی ہیں۔ رسول خدا کی ساری روایات جو امام مہدی ع کے بارے میں آئی ہیں وہ حرف بہ حرف عمر بن عبد العزیز کے بارے میں پوری ہو چکی ہیں۔ اس لیے اب کسی مہدی کے انتظار کی ضرورت نہیں ۔
اس کا جواب نصوص کی بجائے عقلی استدلالات سے دیا گیا۔۔ تقریباً 19 عقلی استدلال غامدی صاحب کے مبانی اور اصولوں کے مطابق کیے گئے جس سے ان کا یہ نظریہ نہ فقط باطل ہو گیا بلکہ ان کے دوسرے نظریات بھی زیر سوال چلے گئے۔ اور یہ استدلال دوسرے محققین کے لیے ایک روش کے طور پر بیان کیے گئے جن کے پیش نظر دوسرے محققین باقی اعتراضات کے جوابات دے سکیں گے۔
جاوید احمد غامدی کی پیدایش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔ آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ اور آبائی پیشہ زمینداری ہے۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن اور اس کے نواحی دیہات میں پائی۔ اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور اس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز (حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی۔ دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے۔ قرآن و حدیث کے علوم و معارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دادا نور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ دانش سرا، المورد، ماہنامہ اشراق، ماہنامہ رینی ساں رینایسینس کے بانی اور برہان، میزان، البیان، اشراق اور خیال و خامہ کے مصنف ہیں۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں