نذر حافی:
ہماری اس مادی دنیا میں ملکوتی سفر پر کوئی پابندی نہیں۔یہیں کہیں عالم ملکوت کی شاہراہ بھی موجودہے۔ یہ شاہراہ عام نہیں لہذا ہمارے جیسے عام لوگ اسے پہچاننے سے قاصر ہیں۔ اسے پہچاننےاور اس پر چلنے کیلئے ایک خاص قسم کی تربیّت درکار ہے۔ ویسے عام لوگ اسی شاہراہ کو شہادت اورجو اس شاہراہ پر چلے اُسے شہید کہتے ہیں۔ شہید و شہادت دونوں کی جہاں تکریم ضروری ہے وہیں پر شہادت کے فروغ اور شہید پروری کیلئے معاشرتی تربیت بھی لازمی ہے۔ کبھی فرصت ملے تو حسبِ توفیق شہدا کی زندگیوں کا تربیتی زاویے سے جائزہ لیجئے۔ مجھے کئی مرتبہ پاکستان میں نشانِ حیدر پانے والے شہدا اور خاص کر شہید قاسم سلیمانی کی حیات و شہادت کے واقعات نے اپنے آپ کو از سرِ نو جانچنے اور پرکھنے پر مجبور کیا۔ ابھی بھی وطنِ عزیز میں جب کوئی بے گناہ انسان کسی تکفیری ٹولے یا باالفاظِ دیگر خوارج کے ہاتھوں کہیں پر بم دھماکے یا ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوجاتا ہے تو میں اچانک چونک جاتا ہوں گویا خوابِ غفلت سے کچھ لمحوں کیلئے بیدار سا ہو جاتا ہوں کہ ہماری اس مادی زندگی سے اچانک جدا ہونے والا یہ شخص کس مخفی دروازے سے فوراً جہانِ ملکوت میں داخل ہو گیا۔ میں ابھی تک سکتے میں ہوں کہ سانحہ اے پی ایس پشاور کے شہید بچے کیسے اچانک اناً فاناً اپنے والدین کی آغوش کو ترک کر کے حیاتِ ابدی کے آنگن میں چلے گے؟
اس سے پتہ یہ چلا کہ ہماری اس دنیا سے کوچ کرنے کا ایک عام دروازہ ایسا ہے کہ جسے سب لوگ جانتے اور پہچانتے ہیں لیکن اس کے علاوہ ایک خاص دروازہ ایسا بھی ہے کہ جو عام لوگوں کو نہ دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی وہ اُس کی موجودگی کا احساس کرتے ہیں۔یہ جو مادی و فانی دنیا سے ملکوتی و ابدی دنیا میں داخل ہونے کا خاص لوگوں کیلئے خاص دروازہ ہے اُسے بغیر روحانی تربیّت اور ذہنی آمادگی کے دیکھنا ممکن ہی نہیں۔
ہماری اکثریت اس دنیا سے کچھ یوں جدا ہوتی ہے کہ جیسے کسی جنگل میں درخت پر لگا ہوا پھل اپنے مقررہ وقت پر پکنے یا کیڑا لگنے کے بعد زمین پر گِر جاتا ہے لیکن شہید کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے کسی باغ میں پھل پکنے پر باغ کا مالی اور رکھوالا اُسے بڑی محبت سے درخت سے اتارتا ہے، دھوتا ہے، صاف ستھرا کر کے انمول طشتری میں رکھ کر انتہائی نفاست اور ادب و احترام کے ساتھ باغ کے مالک کی بارگاہ میں پیش کر دیتا ہے۔
حقیقتِ حال یوں ہے کہ کچھ لوگ اپنی زندگیوں میں اپنی قوّتِ تفکر و تعقل کے اعتبار سے اتنے بالغ ہوتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ ہم نے دیگر موجودات کی طرح اس دنیا کی زندگی کو نہیں گزارنا۔ وہ اپنے آپ کو ساری کائنات کا محافظ، مسئول اور مدیر پاتے ہیں۔ وہ غوروفکر اور علم و عمل کے باعث احساس ، شعور اور معرفت کی اس منزل پر پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں انہیں اِس ساری کائنات کے صحت افزاماحول، انسانوں، جانداروں، جنگلات، معدنیات ، آبی حیات، چرندوپرند ، تہذیب و ثقافت، اعلی اخلاقی و انسانی اقدار ۔۔۔ کی حفاظت کرنا " انسان کا فریضہ" نظر آتا ہے۔ایسے لوگ بحیثیتِ انسان اپنی فطری، جسمانی، فکری و عقلانی صلاحیتوں کو عام لوگوں کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ انہیں یہ سمجھ آجاتی ہے کہ انسان ہونے کے ناتے خدا نے ہمیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ہم اپنی ان صلاحیتوں کو استعمال کر کے اس ارض ِخاکی کو بہشتِ بریں بنا سکتے ہیں۔
یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ایک انسان اور دیگرموجودات میں فرق یہ ہے کہ انسان جوکچھ بھی بنتا ہے وہ اسی اپنی مادی زندگی میں اپنے فیصلوں سے اپنی تربیّت کر کے بنتا ہے۔ کوئی بھی انسان کسی کتاب، پتھر یا سیب کی مانند نہیں ہے کہ کوئی دوسرا شخص اُسے زبردستی اٹھا کر کسی بلند یا پست مقام پر رکھ دے۔ انسان اپنے لئے بلندی یا پستی کا فیصلہ اور انتخاب خود کرتا ہے۔ جب کوئی شخص ایک فیصلہ کر لیتا ہے تو پھر اُس کی زندگی میں اُس کے آثار اوراثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔ مثلا کسی نے یہ فیصلہ کر لیا ہو کہ میں نے فلاں امتحان یا مقابلے میں فرسٹ آنا ہے تو وہ دِن رات اُس کیلئے محنت کرتا نظر آئے گا۔ کسی نے ڈرائیور یا تیراک بننے کا فیصلہ کر لیا ہو تو اُس کا شب و روز ڈرائیونگ یا تیراکی سیکھنے میں مشغول ہونا فطرتِ سلیم نیز عقل و شعور کا تقاضا ہے۔
شہید حسن نصراللہ کی زندگی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ انہوں نے اپنی مادی زندگی میں ہی فنافی اللہ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔چنانچہ اُن کےنزدیک خدا کی ساری مخلوق محترم اور سارے انسان لائق تعظیم تھے۔ وہ ظلم کو انسانی اقدار کے خلاف سمجھتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ صرف اپنے جسم، گھربار اور اولاد کے ساتھ فنا فی اللہ نہیں ہوئے بلکہ اپنی ساری صلاحیتوں کے ہمراہ فنا فی اللہ ہوئے۔ آپ کسی کے مذہب و دین یا جغرافئے و علاقے کی وجہ سے اُس کا ساتھ دینے کے قائل نہیں تھے بلکہ آپ کا مشن یہ تھا کہ جو بھی اپنے حق کیلئے ظالم کے خلاف کھڑا ہو جائے ، اُس کے ساتھ ساری صلاحیتوں اور پوری طاقت کے ساتھ ، آخری سانس تک کھڑے ہو جاو۔
دشمن صرف آپ کی تنظیم یا آپ کی مجاہدانہ کاروائیوں سے خوفزدہ نہیں تھا بلکہ آپ کے ہتھیاروں کی مانند آپ کا ایک ایک جملہ، حتی کہ گفتگو کےدوران ایک ایک اشارہ دشمن پر ایٹم بمب کی طرح گرتا تھا۔ آپ کی خاموشی اور سکوت سے بھی دشمن پر موت کا خوف اور قیامت کی ہیبت کا سماں چھا جاتا تھا۔ چشمِ فلک نے آپ کے سوا ابھی تک ایسا کوئی منفرد رہنما نہیں دیکھا کہ جنگی حملوں کی مانند اُس کی خاموشی بھی عینِ جنگ ہو۔ اگر کچھ دن آپ تقریر نہ کرتے تو دشمن بوکھلا جاتا تھا کہ اب پتہ نہیں کہ اگلے ہی لمحے کیا ہونے جا رہا ہے۔
جس طرح زندگی میں شہید حسن نصراللہ کا سکوت منفرد تھا اور اُن کی خاموشی دشمن پر ہیبت طاری کر دیتی تھی ویسے ہی آج شہید کا خاموش تابوت بھی دشمن کے ایوانوں پر بجلیاں گرا رہا ہے۔ یہ خاموش تابوت جہاں اپنی زبانِ حال سے دشمنوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ یہ مت سمجھنا کہ میں تمہاری دنیا چھوڑ چکا ہوں، وہیں یہ تابوت اپنے چاہنے والوں کو بھی یہ خوشخبری سنا رہا ہے کہ شہادت اُسی لمحے شروع ہو جاتی ہے کہ جس لمحے کوئی بھی شخص نہ مرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ہر انسان وہی بنتا ہے جس کا وہ فیصلہ کرتا ہے۔ جو لوگ اپنی زندگی میں اپنے پورے ہوش و حواس اور ایمان و یقین کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں اور پھر اپنے فیصلے کے مطابق اپنی تربیت بھی کرتے ہیں، وہی لوگ پھر ہمیشہ زندہ بھی رہتے ہیں۔پس یہ دنیاوی زندگی کوئی فضول شئے نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑی نعمت اور تربیت گاہ ہے۔ جو لوگ بھی اس مادی زندگی میں اپنی ایسی تربیّت کرتے ہیں کہ اپنی ساری صلاحیتوں ، مال و دولت، گھربار اور جسم و جان کے ساتھ فنا فی اللہ ہوجاتے ہیں، انہی لوگوں کیلئے شہادت کا خصوصی دروازہ بھی کھلتا ہے۔ اُنہی لوگوں کی خاموشی اور سکوت کو بھی خدا باعظمت اور منفرد اور بنا دیتا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں