معروف صحافی، شاعر اور سینیئر کالم نگار اثر علی چوہان کا اتوار کی شام رضائے الہیٰ سے انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 86 برس تھی۔ ان کا جنازہ کل بروز منگل دوپہر 1 بجے مرحوم کی اقامت گاہ 447 عمر بلاک نزد کریم بلاک مارکیٹ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور سے اٹھایا جائے گا۔۔ انہوں نے 90ء کی دہائی میں ’’نوائے وقت‘‘ میں اپنے کالم ’’سیاست نامہ‘‘ کا آغاز کیا اور اپنی زندگی کے آخری سانس تک وہ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ وابستہ رہے۔ وہ اپنی سوانح حیات مرتب کر رہے تھے تاہم فرشتہ اجل نے تکمیل کی مہلت نہیں دی۔ ان کی نماز جنازہ ان کے صاحبزادوں کی برطانیہ اور امریکہ سے پاکستان آمد پر ادا کی جائے گی۔ وہ گذشتہ تین سال سے 447 عمر بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں مقیم تھے اور علالت کے باعث ان کی نقل و حرکت گھر تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔
وہ گزشتہ 60 برس سے پیشہ صحافت سے وابستہ تھے اور پیرانہ سالی کے باوجود" نوائے وقت" میں باقاعدگی کے ساتھ کالم لکھ رہے تھے۔ مرحوم نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز سرگودھا میں نوائے وقت کے نامہ نگار کی حیثیت سے کیا تھا۔ بعد ازاں وہ لاہور منتقل ہو گئے اور اردو روزنامہ سیاست اور پھر ایک پنجابی جریدہ چانن نکالا۔ ان کی اہلیہ نجمہ اثر چوہان پیپلز پارٹی کے پہلے دور حکومت میں پنجاب اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی سیکرٹری جنرل منتخب ہوئیں۔ اہلیہ کے انتقال کے بعد انہوں نے دوسری شادی کی تاہم ان کی دوسری اہلیہ بھی انہیں داغ مفارقت دے گئیں۔ جبکہ ان کے بیٹے اپنے اپنے اہل خانہ کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ میں مقیم ہیں۔ اثر چوہان بااصول اور بیباک صحافی جنہوں نے صحافت ہی کو اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ مرحوم مجید نظامی کے ساتھ ان کی خصوصی انسیت تھی جنہوں نے انہیں شاعر نظریہ پاکستان کا لقب دیا تھا۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں