ڈاکٹر نذر حافی:
بغیر سمت معین کئے خود انقلاب ایک گرداب بن جاتا ہے ۔ انقلابی سفر کو ریل کی پٹری کی مانند اپنی منزل کی طرف سیدھا رکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک انقلاب کے دوران اور انقلاب کے بعد سب سے مشکل کام انقلابیوں کیلئے اپنا قبلہ سیدھا رکھنا ہوتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی تاریخ ہمیں یہ درس دیتی ہوئی نظر آتی ہے کہ ناسمجھ افراد کو اپنے گرد اکٹھا کرنے سے گریز کیجئے۔ ذہنی آمادگی اور شعور کے بغیر لوگوں سے کسی قسم کی تبدیلی اور انقلاب کی بات کرنے والے اپنا وقت بھی ضائع کرتے ہیں اور دوسروں کو ذہنی اذیت بھی دیتے ہیں۔ 1979 میں اسلامی انقلاب کا ظہور ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔ اسلامی انقلاب کی شروعات کے دوران بہت سارے لوگ انقلاب کے نعرے لگاتے ہوئے میدان میں اُترے اور اپنی کج فکری اور شعوری ناپختگی کے باعث اسلامی انقلاب سے دور ہوتے گئے۔
ذرا آبادان کے ریکس سینما کو آگ لگانے کا سانحہ اپنے اذہان میں لائیے۔۱۹ اگست۱۹۷۸ کی رات تقریباً ساڑھے نو بجے جب سینکڑوں لوگ سینما میں ایک فلم دیکھ رہے تھے تو سینما آگ سے دہک اٹھا۔ اس آتش سوزی کی واردات میں چار سو کے قریب افراد جاں بحق ہو گئے۔
رضا شاہ پہلوی اور ساواک کے ہاتھوں میں کھیلنے والے بے شعور لوگوں نے اس سانحے کو اسلامی انقلاب سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حقیقی انقلاب کا شعور رکھنے والوں نے ایسے لوگوں کو اپنے قریب نہیں ہونے دیا۔ حضرت امام خمینی ؒ نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ کوئی مسلمان حتی کہ کوئی انسان ایسی وحشیانہ کارروائی کر سکتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایسی درندگی کے عادی ہو چکے ہیں اور جن کی درندگی اور بربریّت نے ان کی انسانیت کو ان سے چھین لیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ایک انتہائی فکر انگیز جملہ ارشاد فرمایا:"شواہد موجود ہیں کہ اسلامی انقلاب کو دنیا کے سامنے بدنما اور بد شکل بنا کر پیش کرنے کیلئے ظالم حکمرانوں کا ہاتھ اس ظلم میں شامل ہے۔ "
اسی طرح ایران میں مجاہدینِ خلق کو ہی لیجئے۔ ابتدا میں یہ ایک اسلامی و انقلابی نقطہ نظر رکھنے والی تنظیم تھی۔ ایران میں انہوں نے پہلوی حکومت کے مظالم کا مسلحانہ جواب دینے کا راستہ اختیار کیا۔ اس کے بانیوں محمد حنیف نژاد، سعید محسن اور عبدالرضا نیکبین کو پھانسی دے دی گئی۔ اپنی قربانیوں کی وجہ سے یہ لوگ اپنے آپ کو ایران میں انقلاب کا وارث سمجھتے تھے۔ اِن کے ہاں نظریاتی تربیت کا فقدان اُس وقت سامنے آیا، جب انہوں نے حضرت امام خمینیؒ سے فاصلہ اختیار کیا اورپھر اسلامی انقلاب کے ہی خلاف مورچہ زن ہو گئے۔ ان کا آج بھی یہی نعرہ ہے فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ أَجْرًا عَظِیمًا: “اللہ نے مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت اور اجر عظیم عطا کیا ہے۔” اسلامی انقلاب کے مقابلے میں ان کے اس نعرے کی وہی حیثیت ہے، جو خوارج کے نعرے “لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّه: اللہ کے حکم کے سوا کوئی حکم نہیں ہے” کی تھی۔ جوش و جنون سر آنکھوں پر، لیکن نظریاتی تربیت اور پُختگی کے بغیر یہی جوش و جنون وبال بن جاتا ہے۔
اگر کسی ادارے،تنظیم یا شخص کی سمت مشخص نہ ہو اور وہ حرکت میں نظر آئے تو سب سے پہلے اُسے اپنی سمت اور قبلہ درست کرنا چاہیے۔ بصورتِ دیگر جتنی حرکت زیادہ ہو گی اتنی ہی منزل سے دوری ہوتی جائے گی۔ اسلامی تنظیموں کی زندگی میں ان کے نظریات اس قطب نما کی مانند ہیں، جس سے سمت معلوم کی جاتی ہے۔
ایران میں گروہ فرقان کی بھی بہت شہرت ہے۔ اس گروہ نے محمد قرنی، مرتضیٰ مطهری شہید، ہاشمی رفسنجانی (دو گولیاں لگنے کے باوجود زندہ بچ گئے) حاجی طرخانی، رضی شیرازی، مهدی و حسام عراقی، حسین مهدیان، آیت اللہ محمد علی قاضی طباطبائی جیسی متعدد شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا یا۔ یہ کوئی ان پڑھ یا دین کے دشمن نوجوان نہیں تھے بلکہ اس کے برعکس انتہائی نیک اور صاحبِ مطالعہ شمار ہوتے تھے۔ اُن کا سربراہ اکبر گودرزی صرف بیس سال کی عمر میں قرآن مجید کی تفسیر لکھنے میں مشغول تھا۔ اُس نے اپنا گروہ ہی تفسیرِ قرآن کے نام پر اکٹھا کیا تھا۔ یہ گروہ کسی کی بات پر کان ہی نہیں دھرتا تھا اور اپنے علاوہ باقی سب کو منحرف سمجھتا تھا۔ اس گروہ کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس گروہ نے اسلامی انقلاب کے عظیم مفکر شہید مطہری کو بھی ضدِ انقلاب کہہ کر شہید کر دیا۔
اس سے پتہ چلا کہ انقلاب اور تبدیلی کے زاویے سے افراد کی ظاہری حرکت اوراُن کے نعرے حقیقی انقلابی ہونے کا معیار نہیں۔ اسی طرح اقوام اور تنظیموں کی ظاہری حرکت اور فعالیت بھی اُن کی انقلابی زندگی کی غماض نہیں ۔ حرکت کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اُن کی حرکت کی سمت کیا ہے۔چونکہ یہ ممکن ہے کہ ایک شخص زندگی کی آغوش میں بیٹھا ہوا ہو، لیکن موت کی طرف حرکت کر رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص موت کے سائے میں جی رہا ہو، لیکن زندگی کی طرف گامزن ہو۔
جیسے بہت سارے لوگ حضرت امام خمینی کے گرد جمع تھے لیکن حقیقت میں شعورِ انقلاب نہیں رکھتے تھے ویسے ہی عبداللہ ابن ابیّ جیسے بہت سارے لوگ بظاہر پیغمبر اسلام (ص) کے پرچمِ حیات کے زیرِ سایہ زندگی گزار رہے تھے، لیکن وہ پیغمبرِ اسلام کے ویژن کو نہیں سمجھتے تھے اور ان کی حرکت کی سمت حیات و نجات کے بجائے ہلاکت و بدبختی تھی۔
دوسری طرف حضرت سلمانؓ و ابوذر ؓ کی مثالوں کو سامنے رکھئے۔ ایسے لوگ ظہورِ اسلام سے پہلے ہلاکت و بد بختی کے سائے میں سانس لے رہے تھے، لیکن ان کی حرکت کا قبلہ سچائی اور ایمان تھا۔ بظاہر دونوں طرف حرکت تھی، اسی حرکت نے عبداللہ ابن ابیّ کو ہلاکت تک پہنچا دیا اور اسی حرکت نے سلمان (ر) و ابوذر (ر) کو حیاتِ ابدی سے ہمکنار کیا۔
یہاں پر یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ جو طاقت افراد اور تنظیموں کی حرکت کو انقلاب کےراستے پر گامزن رکھتی ہے اور انقلاب کی سمت یا قبلہ تبدیل نہیں ہونے دیتی وہ نظریاتی تربیت ہے۔ اگر کہیں پر نظریاتی تربیت کا عمل رک جائے یا کھوکھلا ہوجائے تو وہ سوسائٹی یا کمیونٹی بھنور میں گھومنے والی اس کشتی کی مانند ہوتی ہے، جو جتنی تیزی سے حرکت کرتی ہے، اتنی ہی ہلاکت سے قریب ہوتی جاتی ہے۔چنانچہ انقلابیوں کیلئے ہر انقلابی قدم اٹھانے اور دوسروں کو سیدھا کرنے سے پہلے لحظہ بہ لحظہ اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور سیدھا رکھنا ضروری ہے۔ ہماری اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو اپنے آپ میں، اپنے خاندان اور اپنے ملک کے اندرایک اچھی اور مثبت تبدیلی کو لانا چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ کیسے لائیں!۔ بسا اوقات یہی ناسمجھی ہی انقلاب کو گرداب بنا دیتی ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں