علی عسکری:
قران کریم اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں تربیت اور تزک نفس کے مسئلے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔اس سلسلے میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ تربیت کے بغیر علم سراج منیر کے بجائے حجاب بن جاتا ہے اور ترقی و کمال کی راہ میں رکاوٹ قرار پاتا ہے ۔اس لیے تربیت و تزکیہ نفس کو نظام تعلیم میں بنیادی رکن کی حیثیت حاصل ہے اور انہیں نظر انداز کر دینے کی وجہ سے معاشرہ میں بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔
تعلیمات دین میں "تعلیم اور طالب علم"کی بہت اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں بہت ساری احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ"علم"کتنا ضروری ہے اور اس کی کتنی فضیلت ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "یستغفرللعلم ما فی السموت والارض"۱ "زمین و اسمان کی ہر مخلوق عالم کے لیے استغفار کرتی ہے"-
ایسے ہی بہت ساری احادیث بیان کی گئی ہیں اور قران میں بھی ارشاد ہوتا ہے:"الذی علم بالقلم- علم الانسان ما لم یعلم"۲"جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا"اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو قلم کے بغیر علم حاصل نہیں ہوتا اور اللہ نے اس قلم میں تمام علوم کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں ـ جو قلم کے ذریعے سے علم حاصل کرے گا اس کو وہ تمام بتا دیا جائے گا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو ایت کریمہ سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ان میں انسان کے خلقت کے بعد سب سے پہلے جس نے نعمت کا ذکر ہوا وہ "علم" ہے: اقرا بسم ربک الذی خلق ـ خلق الانسان من علق ـ اقرا و ربک الاکرم ـ الذی علم بالقلم ـ علم الانسان ما لم یعلم"۳"اس خدا کے نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے پڑھو اور تمہارا رب پروردگار بہت کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا “اس ایت کے بعد ہمیں پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے تاکہ ہم علم حاصل کر کے عرفان الہی تک پہنچ سکیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حدیث فرمائی: طالب العلم فریضۃ علی کل مسلم"۴"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے"ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں"اطلوب العلم و لوبالعین فریضۃ علی کل مسلم"۵"علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"ـ
خداوند عالم جس کے لیے بھلائی چاہتا ہے اس کو دن قدرک عطا کر دیتا ہے علم کی فضیلت کے بارے میں بہت بتایا گیا ہے ایک حدیث میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں"من تفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ ہمہو ورزقہمن حیث لا یحتسب"۶"جو اللہ کے دین کی راہ میں غور و فکر کرے گا تو خداوند عالم اس کے ہر غم کے لیے کافی ہے اور جس جگہ کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا اسے وہاں سے روز فراہم کر دے گا ایک حدیث میں ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: العلم افضل من عبادت"۷"علم عبادت سے افضل ہے"اس طرح علم کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں"من طلب بابا من العلم لیحیی الاسلام بہ الاسلام کان بینہ و بین الانبیاء درجتہ فی جنتہ"۸"جو شخص اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم حاصل کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا ـ
ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کا اغاز کرنے سے پہلے اچھی طرح مادہ کرے یعنی اپنا نفس اور دل کو بالکل صاف ستھرا بنا لے اور دل کو پاک و صاف بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسان کھیت میں بیج بونے سے پہلے زمین کو کاشت کرنے کے لیے زمین کو صاف کر کے ایسے کرتا ہے اسی طرح علوم الہیہ حاصل کرنے سے پہلے دل کو کینہ اور گناہ وغیرہ سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہوتا ہے"ان فی الجسم مضغتہ اذا صلاحت الجسد لکہ واذا فسدت فسد الجسد لکہ الا وھی القلب"۹"جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو سالم رہے تو پورا جسم صحیح و سالم رہتا ہے اگر وہ خراب ہو جائے تو جسم بھی خراب ہو جاتا ہے وہ دل ہے"اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر دل صاف ہوگا تو علم بھی اچھی طرح ائے گا ایک اور جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علم حاصل کرنے کا ایسا بیان کیا وہ یہ ہے۔
"مثل الذی یتعلم العلم فی صغرہ کالنقش علی الحجر و مثل الذی یتعلم فی کبرہ کا کا لذی یکتب علی الما ء"۱۰"
جو شخص بچپنے میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ پتھر کی لکیر کی طرح باقی رہتی ہے اور جو شخص بڑھاپے میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے پانی کے اوپر کوئی تحریر بنائی جائے"کیونکہ اس دور میں انسانی جسم کے تمام صلاحیتیں اور قوتیں اپنے عروج پر رہتی ہیں اور وہ معمولی سی محنت بہت زیادہ استفادہ کیا جا سکتا ہے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں یا دیگر متعلقین سے اپنے روابط کے بارے میں غور کرے اور ان دوستوں کا انتخاب کرے جو علم دوست ہوتے ہیں حوصلے اور ہمت کو بہت بلند رکھے تاکہ اس کے اندر اعلی علم مدراج تک پہنچنے کا جذبہ رہے علمی باتوں میں اس کے اندر لگن اور شوق ہونا چاہیے۔
طالب علم کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں اور ان حادث سے پتہ چلتا ہے کہ طالب علم یا الم عام لوگوں اور عابدوں سے بہت زیادہ مقام رکھتے ہیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ"علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل"۱۱"میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں"پھر اپ نے ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا"العماء ورثتہ الانبیاء"۱۲"اہل علم انبیاء کے وارث ہیں"ـ پروردگار نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی"یا ابراہیم انی علیم کل علیم"۱۳"میں صاحب علم ہوں اور ہر صاحب علم سے محبت کرتا ہوں"ـ
اس طرح بہت سے احادیث بیان کی گئی ہیں جس سے طالب علم یا عالم کی اہمیت اور فضیلت کا پتہ چلتا ہے ایک اور حدیث میں اتا ہے"من خرج یطلب بابا من علم لیر دبہ با طالا الی حق او ضلا لتہ الی ھدی کان علمہ ذلک کعبادہ متبعد اربعین عاما"۱۴"جو شخص اس نیت سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلے کہ اس کے ذریعے باطل کی جگہ حق اور گمراہی کی جگہ ہدایت کو رواج دے گا تو اس کا یہ علم بد کے 40 سال عبادت کے برابر ہے"یو ہمیں طالب علم یا عالم کے فضیلت پتہ چلتا ہے کیا کیا فضیلت اور اہمیت ہے۔
استاد کے بارے میں طلبہ کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ نیک اور صالح استاد کے انتخاب کرے کیونکہ ان کی فکری اور روحانی تعلیم و تربیت میں استاد کا بنیادی کردار ہوتا ہے استاد کو اپنے باپ کی طرح بلکہ اس سے بھی برتر سمجھنا چاہیے کیونکہ والدین بچے کے جسمانی نشونما کرتے ہیں لیکن استاد اس کے روحانی تربیت کرتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے استاد کے احترام کے متعلق ایک بیان فرمائی ہے کہ"تعلمو العلم و تعلمو العلم السکینہ وا لوقار و تواضعو المن تتعلمون منہ"۱۵"علم حاصل کرو اور پھر علم کے لیے سنجیدگی اور وقار کا درس حاصل کرو اور جس سے علم حاصل کرو اس کے ساتھ تواضع انکساری سے پیش اؤ"-اپنے استاد کا سامنے تواضع اور انکساری سے پیش اؤ کیونکہ ہر عالم کے سامنے تواضع ضروری ہے لہذا جو شخص عالم بھی ہو اور استاد بھی ہو وہ تواضع کا زیادہ حقدار ہے اور دوسرے یہ کہ تواضع تعلیم کی بنیادی شرط بھی ہے حتی الامکان استاد کو زحمت نہیں دینا چاہیے اور صرف مناسب اوقات میں ہی ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔
علمائے اخلاق نے حافظہ کی مضبوطی کے لیے تقوی اختیار کرنے اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی تاکید کی ہے کیونکہ روحانی بیماریاں علوم الہیہ کے دروازے کو بند کر دیتی ہیں اسی لیے مناسب یہی ہے کہ طلبہ کرام حتی لمکان اپنے نفوس و ارواح اور دلوں کو ہر قسم کے گناہ اور برائیوں سے محفوظ رکھیں تعلیم حاصل کرتے وقت عقل و منطق و معیار قرار دے اور صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کرے اور جب تک ابتدا یو مقدماتی درجے طے نہ کرے امیر اور پچیدہ مطالب کی طرف قدم نہ بڑھائے کیونکہ بنیاد مضبوط کیے بغیر بڑی بڑی کتابوں میں مشغول ہونا ایک غلط طریقہ کار ہے ـ جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے علمی باتوں کے بارے میں اس کے اندر لگن اور شوق ہونا چاہیے اور جہاں بھی کوئی علمی بات نظر ائے اس کے بارے میں کسی قسم کی سستی سے کام نہیں لینا چاہیے اپنے دوستوں اور دیگر متعلقین سے اپنے روابط کہ بارے میں غور کرے اور ایسے دوستوں کا انتخاب کرے جوعلم دوست ہوں۔
حوالہ جات:
1: سنن ابی داؤد ج2ص285
2: سورہ علق: 4-5 ایت
3: سورہ علق:1-5 ایت
4: سنن ابن ماجہ: ج1 باب 17 حدیث 224
5: بہار الانوار: ج1ص180 حدیث 224
6: احیاءلعلوم الغزالی: کتاب العلم
7: کنز الایمان:حدیث2857
8: کنز الامان:حدیث28833
9: صحیح بخاری: ج1 کتاب الایمان, بہار الانوار: ج57ص23
10: الجامعہ الصغیر: ج2 حرف میم, منیت المرید: ص225
11: بہار الانوار:ج2ص22 باب 8
12: سنن ابن ماجہ: ج1 باب 17ص223
13: احیاءالعلوم غزالی: کتاب العلم
14: کنز العمال: حدیث 28835
15: کنز العمال:خ28717, منیتہ المرید:ص243









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں