:رپورٹ: رفیق انجم:
ایران میں یوم یکجہتی کشمیر ۵فروری ۲۰۲۵ کو قم المقدس میں منایا گیا۔اس موقع پر سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے ایک تجزیاتی و تحلیلی نشست منعقد کی۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد منظوم ولایتی صاحب نے اپنی گفتگو میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کو ختم کرنے کےاقدام سے کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں زمین خریدنے اور مستقل رہائش کا حق ملنے سے مقامی آبادی میں آبادیاتی تبدیلیوں اور ثقافتی شناخت کے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی موجودگی، کرفیو، انٹرنیٹ بندش، اور گرفتاریوں کے واقعات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بعد بشیر دولتی صاحب نے اپنی گفتگو میں پاکستان اور اسرائیل کے قیام کے پس منظر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا قیام دو قومی نظریے پر مبنی ہے، لیکن ان کے مقاصد اور حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ان کی حمایت کریں۔
دیگر مقررین میں سید پرویز شاہ، سید فراز نقوی، اور مجلس وحدت المسلمین شعبہ قم کے نائب صدر شیخ احسان دانش صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی تنازعہ بنا ہوا ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر مثبت کردار ادا کرے اور امن و انصاف کے اصولوں پر مبنی حل کو یقینی بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں