چاول۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 900 ۔
آٹا چکی۔۔۔۔۔. 400۔
آٹا نارمل۔۔۔۔۔ 300 ۔
کھجور ۔۔۔۔۔. 1050۔
کشمش۔۔۔۔۔۔۔. 3600 ۔
آٹا ، چاول مکس۔. 600 ۔
مد طعام ایک روزہ۔. 150۔
مد طعام مہینہ۔۔۔ 4500
،
کفارہ ایک روزہ ،۔۔
9000 ، ساٹھ مسکینوں کو کھانا
کھلانا ہوتا ہے۔
بے شک انہوں نے فطرانہ ادا کر دیا ہے لیکن اللہ کے ہاں وہ جوابدہ ہیں کہ اُنہوں نے ایسا کیوں کیا!؟ اور قیامت کے دِن اگر اُن کے عزیزواقارب یاہمسائے میں سے کسی نے آواز بلند کی کہ اس شخص نے قرب اور نزدیکی کے باوجود مجھے نظر انداز کیا ہے تو پھر اُس کا سامنا کرنا آسان نہیں ہوگا۔لہذا فطرانہ دینے کے بعد اگر معلوم ہو جائے کہ مستحق تک نہیں پہنچا تو اس کا واپس لے کر مستحق تک پہنچانا ضروری ہے اور اگر واپس نہیں لے سکتے تو پھر دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے۔بعض لوگ صرف اُسے فطرانہ دینا ضروری سمجھتے ہیں، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور پرانے ہوں لیکن فطرانے کا مستحق ہر وہ خوددار اور غیرت مند شخص بھی ہے جس کے پاس سال بھر کا خرچہ نہیں ہوتا، اور جو شرم کے مارے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔جب ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ ہمارا یہ رشتے دار یا ہمسایہ ضرورت مند ہے تو پھر اس کی مدد کرتے ہوئے اسے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ ہم آپ کو صدقہ یا فطرانہ دے رہے ہیں بلکہ ہم اسے اخلاق و مروت کے ساتھ بغیر صدقے اور فطرانے کا عنوان بتائے اس کی مدد کر سکتے ہیں، اللہ اکبر! دینِ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ اگر کسی کی عزت نفس کے مجروح ہونے کا خدشہ ہواور اس کا دل ٹوٹنے کا اندیشہ ہو تو لازمی ہے کہ ہم ضرورت مند کو صدقے یا فطرانے کا شک تک نہ ہونے دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کو سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں