کمیل عباس کا تعلق جلال آباد گلگت سے ہے۔ ان دنوں وہ اعلی دینی تعلیم کیلئے بیرون ملک روانہ ہونے کو ہیں۔ ان کی ولادت 2002 میں ہوئی اور ان کے والد کا نام محمداکبر ہے۔وہ جامعۃ الرضا اسلام آباد کے طالب علم ہیں اورانہوں نے چھ سالہ دینی تعلیم کے ہمراہ ایف اے بھی کیا ہے۔ وہ کہتےہیں کہ مجھ میں دینی تعلیم کا شوق اپنے علاقے کے علماء کرام کی خدمات کو دیکھ کر پیدا ہوا۔ اُن کے بقول دینی طالب علم بننے سے اُن میں بہت زیادہ اخلاقی، معنوی، اور دنیا و آخرت کے تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے تبدیلی آئی۔
دینی تعلیم کےدوران وہ جامعۃ الرضا میں الرضا سوسائٹی کے فورم سے بھی فعال رہےاور اپنے علاقے میں بھی تبلیغی خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران وہ ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب، مولانا محمد حسین مبلغی صاحب، علامہ حسنین عباس گردیزی صاحب ، ساجد علی سبحانی صاحب، سید مزمل حسین نقوی صاحب اور اصغر عسکری صاحب اورحبیب الحسن صاحب سے بہت زیادہ متاثر ہوئے بلکہ وہ ان اساتذہ کو اپنے لئے آئیڈیل قرار دیتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک آج کے دور میں ایک جامع عالم دین وہ ہے جس کا ہر کام خدا کی خوشنودی کے لیے ہو۔ان کی پسندیدہ درسی کتابوں میں اصول فقہ سرِ فہرست ہے۔ اس کے علاوہ معصومین علیہ السلام کی تاریخ سے بھی انہیں خاص لگاو ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں ایک دینی طالب علم نہ ہوتا تو ایک کاروباری شخص ہوتا۔
اپنے بارے میں انہوں نے کہا کہ میں اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں سب دوستوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آتا ہوں۔
میں مستقبل میں عام لوگوں تک حقیقی معنوں میں محمدﷺ و آلِ محمد ﷺکے علوم پہنچانا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کیلئے بیرون ملک عازمِ سفر ہوں۔
اپنی زندگی میں قائد ملت جعفریہ شہید ضیاء الدین جیسا بننا چاہتا ہوں اور رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنائی سے ملاقات کی تمنّا ہے۔ انہوں نے جامعۃ الرضا سے الوداع ہوتے ہوئے اپنے طالب علم دوستوں کو رہبر معظم سے ملنے ، تاریخی کتابیں پڑھنے اور سوفٹ ویئرز میں مہارت حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے جامعۃ الرضا اسلام اباد میں اپنی چھ سالہ تعلیم مکمل ہونے پر اپنی زندگی کےان چھ سالوں کو ناقابلِ فراموش دورانیہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اپنے بہترین دوستوں کے حوالے سے مزمل حسین ،سبطین حیدر، سید قاسم اور حسن حیدر کے نام لئے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں