رپورٹ: محمد تقی متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
غزوہ بدر مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان پہلا بڑا معرکہ تھا۔ 17 رمضان المبارک 2ھ (17 مارچ 624ء) کو فجر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہاد کیلئے مسلمانوں کی صفیں درست کیں۔یہ جنگ الہی مدد اور حضرت محمدﷺ کی حکمت عملی اور جنگی مہارت کا مظہر تھی۔ اس جنگ میں ۳۱۳ مسلمانوں نے ایک ہزار کافروں کو شکستِ فاش دی۔ حضرت حمزہ ؑنے شیبہ کو جہنم رسید کر دیا اور حضرت علیؑ نے ولید کو قتل کر ڈالا اور لشکر اسلام سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی۔ اس دوران میں عتبہ اور حضرت عبیدہ نے ایک دوسرے پر بھرپور وار کیا اور دونوں زخمی ہو کر گر پڑے۔ حضرت علی ؑاپنے مد مقابل سے فارغ ہو کر عتبہ کی طرف لپکے اور ایک ہی ضرب سے اس کا کام تمام کرکے حضرت عبیدہ کو لشکر میں اٹھا لائے۔ قریش نے اپنے نامور سرداروں کو یوں کٹتے دیکھا تو انہوں نے مل کر مسلمانوں پر ایک بڑا حملہ کیا۔اسی جنگ میں ابوجہل کے علاوہ امیہ بن خلف جس نے حضرت بلال پر بے پناہ ظلم ڈھائے تھے اور ابوبختری جیسے اہم سرداران قریش بھی مارے گئے۔
غزوہ بدر کے حوالے سے اس نشست میں جنگ بدر میں خدائی نصرت، نبی ؐ کی حکمت عملی، اور حضرت امام علی ؑ کی شجاعت کے حوالے سے مختلف پہلووں پر بات چیت کی گئی۔
متعلم ظفر عباس نے اپنی گفتگو میں مسلمانوں کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کے پختہ ایمان اور ثابت قدمی کو قرار دیا۔برادر کاشف علی نے کہا کہ یہ جنگ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر خدا پر ایمان کامل ہو تو پھر خدا بھی مدد و نصرت کرتا ہے۔ اس موقع پر محترم واصف رضا نے اس کامیابی کیوجوہات میں سے صحابہ کرام کی تربیت کوبھی قرار دیا۔ اس موقع پر جناب ا حسن رضا کاظمی نے اپنے تجزیے میں یہ کہا کہ غزوہِ بدر سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ فتح اور کامیابی کا انحصار تعداد کے بجائے پختہ ایمان ، ثابت قدمی اور بابصیرت قیادت پر ہے ۔
انہوں نے علامہ اقبال کے اس شعر کے ساتھ اپنی گفتگو کو مکمل کیا:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
نشست کے اختتام پر شہدائے بدر کی تکریم اور ایصال ثواب کیلئے اجتماعی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں