جنگِ بدر آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ سترہ رمضان المبارک کو جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کی تحلیلی نشست۔
رپورٹ:واصف رضا متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
اس جنگ سے اسلامی ریاست کو مضبوطی ملی اور مسلمانوں کا حوصلہ بڑھا۔پاکستان جیسی اسلامی نظریاتی ریاست کی نوجوان نسل کو غزواتِ پیغمبر میں پوشیدہ حکمتوں سے آشنا کیا جانا چاہیے۔ غزوہِ بدر کے بعد قریش کی طاقت کمزور ہو گئی اور ان کے کئی نامور سردار مارے گئے۔ اتنی بڑی کامیابی کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے پسِ منظر پر غوروفکر کریں۔ اس جنگ کا ایک روش پہلو قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک ہے۔ کچھ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑا گیا، جبکہ کچھ نے مسلمانوں کو تعلیم دے کر رہائی پائی۔ اس کے علاوہ مدینہ میں اسلامی حکومت کا وقار بڑھا اور کئی قبائل نے مسلمانوں سے اتحاد کر لیا۔ تحلیلی نشست میں اس طرح کے متعدد نکات پر طلبا نے روشنی ڈالی۔
یاد رہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو قریش مکہ مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوفزدہ ہو گئے۔ انہوں نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مدینے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی دوران، مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ ابو سفیان ایک بڑا تجارتی قافلہ لے کر شام سے مکہ واپس جا رہا ہے، جس میں قریش کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ مسلمانوں نے قافلے کو روکنے کا ارادہ کیا، لیکن ابو سفیان کو خبر ہو گئی اور اس نے مکہ سے مدد طلب کی۔ چنانچہ قریش نے ایک ہزار افراد پر مشتمل لشکر مدینہ پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کر دیا۔اس پسِ منظر کے ساتھ جنگ بدر سترہ رمضان المبارک ۲ ھجری بمطابق کو مدینہ کے قریب بدر کے مقام پر ہوئی ۔ یہ اسلام کی پہلی بڑی جنگ تھی، جو مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان لڑی گئی ۔اس جنگ میں قریش کے ۷۰ افراد قتل ہوئے، جن میں ابو جہل بھی شامل تھا، جبکہ ۷۰قیدی بنائے گئے۔ یوں مسلمانوں نے اللہ کی مدد اور نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی کے تحت شاندار فتح حاصل کی۔ مسلمانوں کے صرف ۱۴ افراد شہید ہوئے۔













0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں