شبِ قدر میں قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں غوروفکر کرنا افضل ترین عبادت ہے،جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق:
:رپورٹ: نقی حسین جعفری: مورخہ ۱۹ مارچ ۲۰۲۵ کو شبِ ضربت امیرالمومنینؑ کی مناسبت سے اعمالِ شبِ قدرکے مقدمے کے طور پر جامعۃ الرضا کے شعبہ تحقیق نے غوروفکر اور تدّبر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ایک مجلسِ مذاکرہ کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر جامعۃ الرضا کے طلبا نے شبِ قدر اور شبِ ضربتِ مولا علی علیہ السلام کی مناسبت سے غور وفکر اور تدّبر کے موضوع پر اپنےمطالعات کا خلاصہ پیش کیا۔ اس مجلس میں تدبّر اور غور و فکر کی اہمیت پر بھی خصوصی گفتگو کی گئی۔ یہاں ہم اس مجلس ِ مذاکرہ کے اہم نکات پیش کر رہےہیں:
برادر واصف رضا نے معرفتِ قرآن اور معرفتِ امام کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اگر انسان کے پاس معلومات ہوں لیکن معرفت کی روشنی نہ ہو تو ایسی معلومات بےسود ہیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث بھی نقل کی
"مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ، مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً"
جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر جائے، وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
انہوں نے کہا کہ معرفت کا حصول ایک وسیع موضوع ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ معرفت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں صرف معلومات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ معلومات میں تدبّر اور غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ہم حقائق کی گہرائی میں اُتر سکیں اور اس کے بعد حقائق کو اپنی زندگی میں لاگو کر سکیں۔
برادر محمد دانیال نے قرآن اور سیرتِ امام علی ؑ میں غوروفکر کے تناظر میں کہا کہ تدبّر اور غور و فکر کے بغیر ہم قرآن اور امام علی ؑ سے حقیقی رہنمائی نہیں لے سکتے۔ انہوں نے کہ ہمیں شبِ قدر میں تعلیماتِ قرآن و امام علی ؑ پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اوروحدت کو فروغ دینا چاہیےاور امریکہ و اسرائیل جیسے دشمنوں کی سازشوں کو عوام پر آشکار کرنا چاہیے۔
اس موقع پر برادر علی عسکری نے قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں تفکر کی اہمیّت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ معاشرے کے مستضعف طبقات جیسے بیواوں، یتیموں اور غربا و فقرا کی دستگیری ، ان کی کفالت کرتے اور ان کی تعلیم و تربیّت کیلئے بھی ہمیں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ قرآن اور امام علی علیہ السلام انسانی ہمدردی کے مبلّغ ہیں۔ آپ نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن و امام کی سیرت پر غور و فکر سے ہمیں یہ تحریک ملتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں انسانیت کی خدمت کو اولویت دیں۔
برادر ذوہیر حسن نے قرآن اور امام علی علیہ السلام کی حکمت و دانائی کی جانب توجہ دلائی اور ذکر کیا کہ کس طرح ابو سفیان نے امام کے پاس آ کر خلیفہ اول کے خلاف مہم چلانی چاہی اور کہا: "اگر آپ چاہیں تو میں مدینہ کو گھڑ سواروں اور پیدل افواج سے بھر دوں اور آپ کو آپ کا حق دلاؤں۔" لیکن امام علی علیہ السلام نے اسے دندان شکن جواب دیتے ہوئے کہا کہ : "مجھے تمہارے عزائم کا علم ہے۔۔۔" آپ نے اس موقع پر تدبّر کی اہمیت کو واضح کیا اور کہا کہ امام علی علیہ السلام کا جواب اس بات کا غماز ہے کہ وہ ہر معاملے میں غور و فکر کے بعد فیصلہ کرتے تھے، اور یہی بات ہمیں بھی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ہر عمل اور ہر فیصلے میں تدبّر اور حکمت کو مدنظر رکھیں۔
اس موقع پر برادر علی حمزہ نے بھی تعلیمات قرآن اور امام علی علیہ السلام میں صبر کی اہمیت پر غوروفکر کرنے کی توجہ دلائی۔انہوں نے قرآن اور سیرت امام علی ؑ سے چند واقعات نقل کر کے یہ نتیجہ دیا کہ آج ہمارے معاشرے میں صبر و تحمل کا فقدان نمایاں ہے ، ہمیں غوروفکر اور گہری تدبیر کے ساتھ اپنے سماج میں صبر و تحمل کو رواج دینا چاہیے۔
اسی طرح، دیگر طلباء نے بھی اپنے مطالعات سے اخذ شُدہ اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا۔ منتظمِ مجلسِ مذاکرہ نے آخر میں تمام نکات کی جمع آوری کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ غوروفکر کرے سے ہر عبادت کا ثواب کئی گنا زیادہ بڑھ جاتا ہے اور افضل ترین غوروفکر وہ ہے جو افضل ترین شب میں قرآن اور ناطق قرآن کی تعلیمات میں کیا جائے۔ اس کے بعد اجتماعی دعا کے ساتھ اس محفل کا اختتام کیا گیا۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں