زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

ہفتہ، 22 مارچ، 2025

خلافت ِ بلافصل کا انکار۔۔۔ اثرات و نتائج

ڈاکٹر نذر حافی:
امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل ایک مبنی بر حقیقت  اور غیر متنازعہ  مسئلہ ہے۔یہ کوئی تاریخی بحث نہیں بلکہ اس کا اعلان پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  دعوتِ ذوالعشیر سے لے کر غدیر خم تک باربار کیاہے۔   نبیؐ جانتے تھے کہ  امام علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت سے  قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے   ایک مضبوط سیاسی اتحاد، روحانی تکمیل اور اخلاقی ترقی کا راستہ کھلا رہے گا۔
یہاں خلافتِ بلافصل کا مفہوم سمجھنا بھی ضروری ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان نہ صرف ایک دینی حکم کے طور پر کیا بلکہ یہ ایک غیر متنازعہ سیاسی فیصلہ (undisputed political decision) تھا تاکہ مسلمانوں کو  نبی ؐ کے بعد کسی بھی قسم کی تاخیر یا تعطل کے بغیر قیادت و رہنمائی فراہم کی جا سکے۔ اگر اس فیصلے کو فوراً تسلیم کر لیا جاتا، تو  مسلمانوں  کے درمیان  اختلافات کی جگہ اتحاد  و  عدل کی مضبوط بنیادیں استوار ہو جاتیں، نیز  سیاسی و سماجی، تعلیمی و سائنسی اور تربیتی و اخلاقی  استحکام میں اضافہ ہوتا۔
خلافت بلافصل کے انکار نے مسلمانوں کے ہاں  ایک سنگین سیاسی بحران (political crisis) کو جنم دیا، جس نے مسلمانوں کو نہ صرف داخلی سطح پر تقسیم کیا بلکہ بعد کے ادوارمیں  اس کے سماجی و سیاسی اثرات بھی نمایاں ہوئے۔ خلافت کے انکار نے امت مسلمہ کو مختلف مکاتب فکر (schools of thought) میں تقسیم کر دیا، جس کے نتیجے میں اسلامی وحدت اور بھائی چارےکو شدید دھچکا لگا۔ اس کا اثر سماجی سطح  پر بھی محسوس ہوا، جہاں مسلمانوں کی یکجہتی اور ہم آہنگی متاثر ہوئی اور متعدد سیاسی تصادم (political conflicts) ہوئے، جیسے جنگ جمل ، جنگ صفین اور جنگ نہروان بعد ازاں کربلا۔۔۔اور پھر مکمل ملوکیّت و استبداد۔ ماضی میں مسلمانوں کے درمیان صرف خونریز جنگیں اور فسادات ہی نہیں ہوئے بلکہ  اسلامی دنیا  میں سیاسی و سماجی ہم آہنگی ہمیشہ کیلئے پامال ہو گئی۔
نبی ؐ کے فوراً بعد بلا فاصلہ حضرت  امام علی علیہ السلام کی حکومت یعنی بغیر کسی وقفے کے میرٹ،  تعلیم و تربیّت، ہدایت،  قانون کی بالادستی (rule of law)، انصاف (justice) اور مساوات (equality) کا جاری رہنا۔ اس کے برعکس  امام علی علیہ السلام کی خلافت ِ بلافصل کا  انکار  یعنی   مسلمانوں کی طرف سے تعلیم و تربیت،  میرٹ، عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی سے انکار تھا۔ اس انکار سے مسلمان آنکھیں نہیں چُرا سکتے چونکہ  امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل  کے انکار کے سے مسلمانوں کے ہاں اطاعتِ رسولؐ کی ساکھ (credibility)  متاثر ہوئی، اور یہیں سے اسلامی معاشرےمیں    پسماندگی ، جہالت اور انصاف کے فقدان (lack of justice) کا اژدھا سامنے آیا۔
حضرت امام علیؑ کی خلافت بلافصل کے انکار نے  اسلامی معاشرے  پر ایک سنگین بوجھ ڈالا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا  اُمّت کی ہدایت و تربیّت کیلئے اہل بیت کے بارے میں جو خاص موقف تھا وہ مسلمانوں پر   مبہم ہوگیا۔اس ابہام سے بعض مسلمانوں کے اندر  تعلیمات نبوی کے ساتھ ایک فکری تضاد پیدا ہو گیا۔   اس فکری تضاد کے باعث انہوں نے صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیتؑ کو  ایک جیسا کہنا اور سمجھنا شروع کر دیا۔ حالانکہ رسولؐ نے اہلِ بیت ؑ کی خاص طور پر یہ  تربیّت کی تھی کہ وہ  آگے چل کر  ساری اُمّت بشمول صحابہ کرام کی ہدایت و تربیّت کریں۔ یعنی نبی ؐ کے بعد اہلِ بیت کا اُمّت کو ہدایت کرنا یہ ختم نبوّت کہ مہر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب قیامت تک  نہ کوئی کتاب نازل ہو گی  اور  نہ ہی کوئی نبی  آئے گا لیکن  اب قیامت تک  عالمِ بشریت  کی ہدایت آخری نبی کی تعلیمات کے مطابق اہلِ بیت نبیؐ کرتے رہیں گے۔ 
اسی خلافتِ بلافصل نے مسلمانوں میں سیاسی احساسِ کمتری بھی پیدا کیا۔ مسلمانوں کی تاریخ حکمرانوں کے جبرواستبداد اور لوٹ مار سے بھری پڑی ہے لہذا  آج ساری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کوئی آئیڈیل اور متفقہ سیاسی نظام نہیں۔  گزشتہ چودہ سو سال سے اسلامی معاشرہ سیاسی طور پر  حکومت کی تشکیل میں بے چینی اور عدم استحکام (instability) سےروبر ہے۔ یہ عدمِ استحکام جہاں مسلمانوں  میں فرقہ واریت کا  باعث ہے وہیں عالمی سطح  پر اسلام کے پیغام کی تفہیم میں بھی رکاوٹ ہے۔اسلام کی عالمی ساکھ پر بھی خلافتِ بلافصل کے انکار کے منفی اثرات  آج قابلِ مشاہدہ ہیں۔
 دشمنان اسلام  آج مسلمانوں کے  جن داخلی اختلافات اور تنازعات کو اسلام کے خلاف پروپیگنڈاکرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں ، ان اختلافات کے وجود سے  اسلامی تعلیمات کی معنوی صداقت (moral integrity) پر بھی سوالات اُٹھتے ہیں۔ ہر منصف مزاج انسان یہ سمجھتا ہے کہ  اگر امام علی ؑ کا انکار نہ کیا جاتا تو آج یہ تضادات اور یہ سوالات وجود میں ہی نہ آتے ۔
ایک صادق اور امین نبیؐ کی امُت میں آج  روحانی اور اخلاقی فقدان بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ نبیؐ کے بعد  امام علی علیہ السلام کی شخصیت مسلمانوں کے لیے ایک مستحکم اخلاقی نمونہ (moral exemplar) تھی، اور ان کی خلافت کا انکار مسلمانوں کے روحانی اور اخلاقی زوال کا باعث بنا۔  بلا شُبہ حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل  اسلامی دنیا  میں ایمانداری، معاشی و اقتصادی ترقی، اور  سائنسی و علمی پیشرفت کی ضامن تھی۔
اس خلافتِ بلافصل کا انکار ایک ایسی تاریخی غلطی کے طور پر ہمارے سامنے ہے کہ جس کا خمیازہ صدیوں سے مسلمان بھگت رہے ہیں۔ یہ انکار مسلمانوں کو میرٹ، عدل و انصاف،  تعلیم و تربیّت، اطاعتِ رسول، اطاعتِ قرآن اور اتحاد و وحدت سے محروم کر دینے کا سبب بنا، اور اس کاثمر فرقہ واریت، سیاسی عدم استحکام، روحانی بحران نیز طرح طرح کے بحرانات کی صورت میں نکلا۔
دعوتِ ذوالعشیر سے لے کر غدیرِ خم تک خلافت علی ؑکے بارے میں نبیؐ کی باربار کی   تاکید سے یہ واضح اورروشن ہو جاتا ہے کہ در اصل امام علیؑ  کو نبویؐ معاشرے میں حضورؐ کے بعد حکومت کرنے کیلئے سیاسی اور مذہبی طور پر واضح   مینیڈیٹ   (political and religious mandate) حاصل تھا۔ امام علی ؑ کو یہ واضح مینیڈیٹ اُمّت کے درمیان سیاسی استحکام (political stability)،  اجتماعی ہم آہنگی  (social cohesion) اور رہبری کی غرض سے دیا  گیا تھا۔ یہ مینیڈیٹ  ایک قانونی اور نظامِ  عدل پر مبنی نظام (legal and judiciary-based system)  معاشرے کے قیام کیلئے تھے۔ نبیؐ کے بعد حضرت امام علی ؑ کی   اس واضح برتری اور مینیڈیٹ کے انکار کو بعض لوگوں نے اپنا مذہبی عقیدہ بھی بنا لیا۔ ایسے لوگ اپنے عقیدے کو ہزار طریقوں جسٹیفائی کرتے رہیں ہمیں اس کے غلط یا درست ہونے سے کوئی غرض نہیں۔ویسے بھی موجودہ دور میں  ان کے عقیدے کے ثمرات ہر صاحبِ عقل و شعور کے سامنے آشکار اور واضح ہیں۔
حضرت امام علی ؑ کی خلافتِ بلافصل کے عقیدے سے مسلمان فکری طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ وہ ہے کہ جنہوں نے اس خلافتِ بلافصل کا انکار کر دیا اور اُس کے بعد کے حالات میں آج تلک  سرگرداں و پریشاں ہیں۔  وہ نہیں جانتے کہ وہ آج کس کی معِیّت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جبکہ دوسرا گروہ  اس عقیدے پر آج بھی قائم ہے اور وہ  ایک مرتبہ پھر اپنے نبیؐ کی  احادیث کی روشنی میں حضرت امام مہدیؑ کا منتظر ہے۔
ارباب فہم و سخن کیلئے عرض کرتا چلوں کہ اگر انسان حقائق سے نظریں چُرا بھی لے تو اس کے باوجود حقائق اُس سے نظریں نہیں چُراتے۔ لوگ منبر و محراب اور قرطاس و قلم سے امام علیؑ کی خلافتِ بلافصل کے انکار پر جتنے مرضی ہے دلائل لاتے رہیں لیکن معاشرے میں اس انکار کے چودسو سالہ منفی  اثرات بتا رہے ہیں کہ یہ انکار دلیل پر نہیں  بلکہ ضِد پر قائم ہے۔ کوئی سمجھے یا نہ سمجھے یہ انکار  میرٹ اور مینیڈیٹ کا انکار ہے۔جب تک منبر و محراب اورقرطاس و قلم سے یہ انکار ہوتا رہے گا معاشرہ برائیوں اور جہالت  کی صورت میں  اس کا خمیازہ بھگتتا رہے گا۔آپ عمل جاری رکھیں گے تو   ردِّ عمل جاری رہے گا۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...