زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 28 مارچ، 2025

عوام کو توہین اور اختلافِ رائے کا فرق سمجھائیں

عوام کو توہین اور اختلافِ رائے کا فرق سمجھائیں:
حافظ سید ذہین علی نجفی: 
حالیہ برسوں میں ہمارے معاشرتی تانے بانے میں ایک سنگین رجحان ابھرا ہے جس میں توہین کے نام پر انارکی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ یہ رجحان تکفیری ذہنیت کا نمائندہ ہے، جو نہ صرف دین کے حقیقی فہم سے بے بہرہ ہے، بلکہ ان عناصر کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے جو ملک میں بدامنی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہاں پر یہ ضروری ہے کہ عوام کو توہین اور اختلافِ رائے  کا فرق  سمجھایا جائے۔توہین  کسی کو گالی دینا ہے جبکہ اختلاف رائے کسی کی رائے کو رد کرنا ہے۔  اختلافی رائے  ہر گز توہین نہیں ہوتی۔ اگر اختلافی رائے کو توہین  مانا جائے  تو پھر اسلامی کتب میں موجود تاریخی واقعات کو بھی توہین قرار دینا  پڑے گا۔  
عوام چونکہ اختلافِ رائے اورتوہین کے فرق کو نہیں جانتےاس لئے بعض عناصر ملک میں امن و مان کو پامال کرنے کیلئے  توہین کے نام پر عوام کے  مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور عوام کو مشتعل کر کے معاشرتی انتشار پیدا کرتے ہیں۔ یہ تکفیری ذہنیت اسلامی تعلیمات کے برعکس شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے۔ قرآن مجید کی رہنمائی اس حوالے سے  ہمیں ایک مضبوط لائحہ عمل فراہم کرتی ہے یہ رہنمائی  قیامت تک ہماری  ہدایت کا ذریعہ ہے۔
قرآن میں ان لوگوں کے بارے میں پہلے ہی خبردار کیا جا چکا ہے:
"اور جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں، لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔" (البقرہ: 11-12)
یہ آیت اوراس جیسی کئی دیگر آیات  ہمیں بتاتی ہیں کہ بعض افراد جو خود کو اصلاح کنندہ سمجھتے ہیں، درحقیقت فتنہ و فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔ اسی لئے قرآن نے لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف حکمت و موعظہ حسنہ سے دعوت دینے کا حکم دیا ہے:
"لوگوں کو اللہ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت و موعظہ حسنہ سے، اور اگر بحث و مباحثہ ہو جائے تو بھی اچھے انداز میں بات کرو۔" (النحل: 125)اسلامی دعوت حکمت، نرمی اور احترام پر مبنی ہے، اور کسی بھی صورت میں تشدد یا شدت پسندی کی اجازت نہیں دیتی۔
تکفیری عناصر فوراً قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں  اور فردی طور پر فیصلہ سنا دیتے ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کی حاکمیت  کو اہمیت دی گئی ہے۔  اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اگر کسی سے  کوئی جرم سرزد ہو تو اس کا فیصلہ ایک منظم عدالتی نظام کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ فردی طور پر۔لہٰذا، ضروری ہے کہ ہم قانون کے مطابق مسائل حل کریں اور اسلام کی اصل روح کو سمجھیں تاکہ معاشرتی استحکام متاثر نہ ہو۔
اسلام کی بنیاد عدل، حکمت اور صبر پر رکھی گئی ہے۔ رسول اللہ (ص) اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دین کے نام پر انتشار کو فروغ دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ نرمی اور حکمت سے بات  کرنے پر متعدد احادیثِ نبوی  شاہد ہیں۔رسول اللہ (ص) نے فرمایا:
"إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ"
نرمی جس بھی شے میں ہو، اسے حسن دے دیتی ہے، اور جس سے نکال دی جائے، اسے بے رونق کر دیتی ہے۔
امام علی (ع) فرماتے ہیں:
"الْحِلْمُ غِطَاءٌ سَاتِرٌ، وَ الْعَقْلُ حِصْنٌ حَامٍ، فَاسْتُرْ خَلَلَ خُلُقِكَ بِحِلْمِكَ، وَ قَاتِلْ هَوَاكَ بِعَقْلِكَ."
(بردباری ایک چھپانے والی ڈھال ہے، اور عقل ایک محفوظ قلعہ ہے۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
"إِيَّاكُمْ أَنْ تَقْضُوا عَلَى أَحَدٍ قَبْلَ أَنْ تَسْمَعُوا مِنْهُ، فَرُبَّمَا كَانَتْ لَهُ حُجَّةٌ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ"
(کسی پر فیصلہ صادر کرنے سے پہلے اس کی بات ضرور سنو، ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی دلیل ہو جس سے تم بے خبر ہو۔)
پس ہمیں  نرمی، حکمت اور صبر کو اپنانا چاہیے اور شدت پسندی اور تکفیر سے اجتناب کرنا چاہیے۔ تمام معاملات میں قانون،  اور عدل و  انصاف کے اصولوں کو مدنظر  رکھنا ضروری ہے۔ اختلاف کے باوجود عزت و وقار کے ساتھ بات اورمعاملات کو سدھارنے کی سوچ کو فروغ دینا اسلام اور قانون کا  پہلا تقاضا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...