منظوم ولایتی:
آج دنیا کی حالت عجیب ہے۔ افریقہ ہو یا ایشیا، یورپ ہو یا امریکہ ہر سو بے چینی کا راج ہے۔ امن و سکون گویا خواب ہو چکا ہے۔ جنگ کے طبل بج رہے ہیں، دھمکیوں کے تیر برس رہے ہیں، اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔
اس وقت دنیا پر تین ایسے حکمران مسلط ہیں جن کے موڈ کا کوئی پلہ نہیں۔ ان کے لیے ان کی اپنی ہی بات "حتمی حکم" ہے۔ بڑے بڑے مفکرین حیران ہیں کہ انسانیت نے کون سا قصور کیا ہے جو یہ جابر حکمران اس پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مشاورت کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور اپنی انا کو ہی ریاستی پالیسی بنا لیتے ہیں۔
ان تینوں کے نام ہیں: مودی، نیتن یاہو اور ٹرمپ ۔ یہ تینوں اپنی رائے کے سوا کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں۔ مودی کی فاشسٹ حکومت نے نہ صرف کشمیریوں، بلکہ کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں اور سکھوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف، نیتن یاہو نے غزہ پر دوبارہ حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سینکڑوں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے فلسطینیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ یہ قتلِ عام تاحال جاری ہے، اور معلوم نہیں کہ اس کی انتہا کہاں ہوگی۔
اور پھر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے "جرم" میں جنوبی افریقہ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا۔ لیکن نیلسن منڈیلا کی قوم نے کیپ ٹاؤن ہوائی اڈے پر اپنے سفیر کا شاندار استقبال کر کے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ "مظلوم کی حمایت کرنا ہمارے لیے اعزاز ہے، نہ کہ شرمندگی!" یہ جنوبی افریقہ کی انقلابی روایت ہے کہ وہ حماس-اسرائیل جنگ کے پہلے دن سے ہی فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے رہا ہے، حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف جیسے فورمز پر اسرائیل کو رسوا کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ فلسطین-اسرائیل جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی دنیا میں مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے والے بے خوف لوگ موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ظالم کے چہرے سے نقاب اکھاڑ پھینکا جائے اور انسانیت کو جنگ کی بجائے امن کی طرف لے جایا جائے۔
یوم القدس آنے والا ہے—وہ دن جب دنیا بھر کے مظلوم اپنے گھروں سے نکل کر مستکبرین کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہماری پہچان "ظلم ستیز" کے طور پر ہوگی یا پھر ہم خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔ حق کی بات ہر حال میں کہنی چاہیے، خاص طور پر یوم القدس کے موقع پر۔
بقول شاعر:
ہم کل بھی سرِدار صداقت کے امیں تھے
ہم آج بھی انکار ِ حقیقت نہ کریں گے








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں