زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 27 مارچ، 2025

دنیا کے تین جابر حکمران اور انسانیت کی سسکیاں

منظوم ولایتی:     
آج دنیا کی حالت عجیب ہے۔ افریقہ ہو یا ایشیا، یورپ ہو یا امریکہ ہر سو بے چینی کا راج ہے۔ امن و سکون گویا خواب ہو چکا ہے۔ جنگ کے طبل بج رہے ہیں، دھمکیوں کے تیر برس رہے ہیں، اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔  
اس وقت دنیا پر تین ایسے حکمران مسلط ہیں جن کے موڈ کا کوئی پلہ نہیں۔ ان کے لیے ان کی اپنی ہی بات "حتمی حکم" ہے۔ بڑے بڑے مفکرین حیران ہیں کہ انسانیت نے کون سا قصور کیا ہے جو یہ جابر حکمران اس پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مشاورت کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں اور اپنی انا کو ہی ریاستی پالیسی بنا لیتے ہیں۔  
ان تینوں کے نام ہیں:    مودی، نیتن یاہو اور ٹرمپ  ۔ یہ تینوں اپنی رائے کے سوا کسی اور کی بات سننے کو تیار نہیں۔ مودی کی فاشسٹ حکومت نے نہ صرف کشمیریوں، بلکہ کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں اور سکھوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کرنے کا سلسلہ جاری ہے، اور اقلیتوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں۔  
دوسری طرف، نیتن یاہو نے غزہ پر دوبارہ حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سینکڑوں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے فلسطینیوں کو خاک و خون میں نہلا دیا گیا ہے۔ یہ قتلِ عام تاحال جاری ہے، اور معلوم نہیں کہ اس کی انتہا کہاں ہوگی۔  

اور پھر امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے "جرم" میں جنوبی افریقہ کے سفیر کو ملک بدر کر دیا۔ لیکن نیلسن منڈیلا کی قوم نے کیپ ٹاؤن ہوائی اڈے پر اپنے سفیر کا شاندار استقبال کر کے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ         "مظلوم کی حمایت کرنا ہمارے لیے اعزاز ہے، نہ کہ شرمندگی!"         یہ جنوبی افریقہ کی انقلابی روایت ہے کہ وہ حماس-اسرائیل جنگ کے پہلے دن سے ہی فلسطین کے مظلوم عوام کا ساتھ دے رہا ہے، حتیٰ کہ عالمی عدالت انصاف جیسے فورمز پر اسرائیل کو رسوا کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔  
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ فلسطین-اسرائیل جنگ نے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی دنیا میں مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے والے بے خوف لوگ موجود ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ظالم کے چہرے سے نقاب اکھاڑ پھینکا جائے اور انسانیت کو جنگ کی بجائے امن کی طرف لے جایا جائے۔  
یوم القدس آنے والا ہے—وہ دن جب دنیا بھر کے مظلوم اپنے گھروں سے نکل کر مستکبرین کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہماری پہچان  "ظلم ستیز" کے طور پر ہوگی یا پھر ہم خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے۔ حق کی بات ہر حال میں کہنی چاہیے، خاص طور پر یوم القدس کے موقع پر۔  
        بقول شاعر:          
ہم کل بھی سرِدار صداقت کے امیں تھے
ہم آج بھی انکار ِ حقیقت نہ کریں گے

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...