حسن رضا کاظمی ﴿شعبہ تحقیق و ابلاغ عامہ جامعۃ الرضا اسلام آباد﴾
محمد ریحان بوٹو جامعۃ الرضا کے سینئر طالب علم ہیں ۔ وہ بھی دی ایم سکول اینڈ کالج میں منعقدہ کریکٹر بلڈنگ ورکشاپ میں شریک تھے۔ ان کے مطابق یہ ایک نہایت معلوماتی اور مفید سیشن تھا، جس میں ہمیں کردار سازی کی اہمیت، اخلاقی اقدار اور عملی زندگی میں اچھے کردار کے اثرات سے تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔اس سیشن کی سب سے خاص بات اس کا انٹرایکٹو انداز تھا، جس میں ہمیں
اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور سوالات کرنے کا موقع ملا۔ اس سے نہ صرف ہمارے سیکھنے کے عمل میں بہتری آئی بلکہ ہمیں اپنے کردار کو مزید نکھارنے کی رہنمائی بھی حاصل ہوئی۔
اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور سوالات کرنے کا موقع ملا۔ اس سے نہ صرف ہمارے سیکھنے کے عمل میں بہتری آئی بلکہ ہمیں اپنے کردار کو مزید نکھارنے کی رہنمائی بھی حاصل ہوئی۔
وہ کہتے ہیں کہ مجموعی طور پر، یہ ایک زبردست تجربہ تھا جو میری شخصیت سازی اور مستقبل کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ میں منتظمین اور مقررین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے اس کارآمد سیشن کا انعقاد کیا اور ہمیں اس میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا۔کاشف علی کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ وہ بھی جامعۃ الرضا کے طالب علم ہیں۔ اُنہوں نے ورکشاپ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس ورکشاپ سے پہلے ہم کردارسازی کی طرف اس طرح متوجہ نہیں تھے۔ ہم نے اس دوروزہ ورکشاب کے بعد شدّت سے یہ محسوس کیا کہ ہمیں کردار سازی کے پہلو پر علمی و سائنسی انداز میں کام کرنا چاہیے۔ پہلے ہم اسلامیات کی کتاب کو سب کچھ سمجھتے تھے لیکن اس ورکشاپ نے ہمیں یہ سمجھایا کہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے کردار سازی کا موضوع بہت ہی اہم ہے۔ اس سیشن سے پہلے ہم بہت سے کاموں کو ضروری نہیں سمجھتے تھے یعنی اس طرف توجہ نہیں تھی لیکن اب انشاءاللہ ہم ان تمام پہلووں پر توجہ دینے لگے ہیں۔
اقبال حسن شگری جو کہ گلگت بلتستان کے رہنے والے ہیں ، وہ بھی اس ورکشاپ میں شامل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کردار سازی کیلئے علم و عمل کو ایک ساتھ ہونا چاہیے۔ اس ورکشاپ کے دوران ہم نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کو قریب سے دیکھا اور دو دنوں میں یہ محسوس کیا کہ یہ ادارہ علم و عمل کا بہترین شہکار ہے۔ اس کی صفائی بہترین اور ماحول علمی تھا ۔ ادارے کی ساری اکائیاں بہترین بہترین نظم و ضبط کی حامل تھیں۔ اساتذہ اور طلبا سب کے سب یونیفارم میں ایک بہترین سسٹم کے تحت نظر آ رہے تھے۔
خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے حسن حیدر نے ایک دینی طالب علم ہونے کے ناتے اس ورکشاپ کو ایک ضروری اور غیرمعمولی درسی سرگرمی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ طلبا کے کردار کی تعمیر استاد کی محنت پر موقوف ہے۔ ان دو دنوں میں ہم نے بہت سی مفید باتیں سیکھیں۔ خصوصاً ایمز کے پرنسپل صاحب اور سی ای او نے ہمیں بہت متاثر کیا۔
صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے سید سجود علی شیرازی بھی اس ورکشاپ کے شرکا میں سے ایک تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے ورکشاپ کے دوران وقت کی پابندی اور انتہائی ماہرانہ انداز میں لیکچرز کی ڈلیوری نے بہت متاثر کیا۔
قاری محمد ابراہیم نے ورکشاپ کے حوالے سے کہا کہ اس ورکشاپ میں کم وقت کے اندر ہمیں بہت کچھ سکھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایسی ورکشاپس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔اس موقع پر ہم نے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنےوالے جامعۃ الرضا کے طالب علم طیّب حسین سے بھی پوچھا کہ انہوں نے اس ورکشاپ کو کیسا پایا ؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ اس کورس میں میرے لئے سب سے اہم چیز کردار سازی پر فوکس کرنا تھا۔ آج ہماری سب سے بڑی مشکل ہی کردار کا بحران ہے۔ یہ انتہائی اہم موضوع ہے اور اس پر مزید کام ہوتے رہنا چاہیے۔
محمد زمان کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے ۔ وہ اس بات پر بہت خوش تھے کہ دی ایمز سکول اینڈ کالج نے کردار سازی کو اہمیت دے کر جدید تعلیمی اداروں کو ایک انتہائی اہم خلا کی طرف متوجہ کیا ہے قرآن و حدیث، تاریخ اسلام اور سیرت النبی ؐ میں انسان کی کردار سازی کے حوالے سے سب کچھ موجود ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دی ایمز سکول اینڈ کالج کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے اتنے اہم موجوع پر ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں