زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 10 مارچ، 2026

یومِ علیؑ اورقائداعظم

​حضرت علیؑ کرم اللہ وجہہ کی شہادت کی مناسبت سے برّصغیر میں بھی رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی 21تاریخ کو یومِ علیؑ کے طور پر سوگ کا دن منایاجاتا ہے۔
1944 میں جب مہاتما گاندھی مذاکرات کرنے بمبئی آ ئے تو قائد اعظم نے 7 ستمبر کو حضرت علیؑ کی یوم ضربت کی وجہ سے ملاقات کرنےسے معذرت کی اور مذاکرات 9 ستمبر کو شروع ہوئے۔
یاد رہے کہ بمبئی میں یومِ علیؑ انیس، بیس اور اکیس رمضان المبارک کو منایا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مذاکرات اکیس کی تقریبات کے بعد شروع ہوئے۔
اس بات پر لکھنؤ میں مجلس الاحرار کے رہنما مولانا ظفر الملک بھڑک اٹھے اور قائد اعظم کو کھلا خط لکھ کر کہا:
’’مسلمانوں کا 21 رمضان سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ خالص شیعہ دن ہے۔ اسلام کسی قسم کے سوگ کی اجازت نہیں دیتا۔ در حقیقت اسلام کی روح اس قسم کے یہودی تصورات کے بالکل خلاف ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ خوجہ شیعہ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آپ کو مسلمانوں پر ایک شیعہ عقیدہ تھوپنے کا کوئی حق نہیں‘‘[1]۔
قائد اعظم نے اس خط کے جواب میں لکھا:
’’یہ شیعہ عقیدے کی بات نہیں، حضرت علیؑ چوتھے خلیفہ بھی تھے۔ اور میں جانتا ہوں کہ حقیقت میں 21 رمضان کا دن اکثر مسلمان، شیعہ سنی اختلاف سے بالاتر ہو کر مناتے ہیں۔ مجھے آپ کے رویے پر تعجب ہوا ہے‘‘[2]۔
اس واقعے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سیکولر قومیت کے نام پر کانگریس کو بیوقوف بنانے والے یہ علما اندر سے کس حد تک متعصب تھے۔ یہ لوگ قائد اعظم کے غم و خوشی کے ذاتی جذبات اور مذہبی وابستگی پر حملہ آور ہو رہے تھے۔
البتہ ان علما کو عوام میں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔فرنگی محل لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے اہلسنت نے قائد اعظم کو خط لکھ کر مولانا ظفر الملک کی اس حرکت کی مذمت کی اور آپ کو مکمل حمایت کا یقین دلایا[3]۔
ان دنوں مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کے طور پر سامنے آ رہی تھی، اور کانگریس نے اس کے مینڈیٹ کو تسلیم کر کے معاہدہ لکھنؤ جیسی کسی مفاہمت کی طرف جانے کے بجائے سیاسی طور پر یتیم علما کا سہارا لے کر مسلم لیگ کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔
ان علما نے اپنے تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے کانگریس کو مسلمانوں میں مزید بیگانہ بنا دیا۔
قائد اعظم، ابوالحسن اصفہانی اور راجہ صاحب محمود آباد کے شیعہ ہونے کی وجہ سے مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ کے خلاف فرقہ وارانہ تعصب کی مہم چلائی۔
قائد اعظم کی مرحومہ زوجہ رتی جناح، جنہوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا تھا اور جن کی وفات کے بعد ان کو شیعہ طریقے سے بمبئی کے خوجہ اثنا عشری قبرستان میں دفن کیا گیا تھا، کو ان کی وفات کے کئی سال بعد جمعیت علمائے ہند نے غیر مسلم کہنا شروع کیا۔ حالانکہ اگر وہ اپنے آبائی مذہب پر ہوتیں تو تدفین کے بجائے ان کی آخری رسومات پارسی مذہب کے مطابق ادا کی گئی ہوتیں۔
مولانا حسین احمد مدنی نے ’سول میرج اور لیگ‘ کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں قائد اعظم پر الزام لگایا کہ انہوں نے سول میرج ایکٹ کے مطابق ایک غیر مسلم عورت سے شادی کی تھی اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کی قیادت کے قابل نہ رہے تھے[4]۔
مولانا حسین احمد مدنی نے بطورِ تکفیری مولوی کی طرح اشتعال دلاتے ہوئے کہا:
’’مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ اور کیا وہ اپنی اور اسلام کی اسی حالت میں، ایسی جماعت میں، آبیاری کر رہے ہیں، یا اسلام کی کشتی کو ڈبونے کی تیاری کرتے ہوئے اس کے سامان بہم پہنچا رہے ہیں۔ ہم اس کا فیصلہ مسلمانوں کی دیانت اور غیرت پر چھوڑتے ہیں‘‘[5]۔
ان علما کی یہ حرکتیں نہ صرف اخلاقی لحاظ سے پست تھیں بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی ان کو ایک بالشتیہ ثابت کرتی تھیں۔
عوام جتنے بھی سادہ ہوں، ان کی چھٹی حس انہیں ایسے لوگوں کو رہنما بنانے سے روکتی ہے جو ان کے اصلی مسائل پر بات کرنے کے بجائے اس قسم کی گھٹیا حرکتیں کرتے ہوں۔
بہر حال اس کے جواب میں مسلم لیگ نے محترمہ رتی جناح کے قبول اسلام کے ثبوت شائع کیے اور وہ نکاح نامہ پیش کیا جس میں ان کا مذہب اثنا عشری مسلمان ظاہر کیا گیا تھا۔
یہ سب ایسے ماحول میں ہو رہا تھا جب خود کانگریس اور جمعیت کے کئی مسلم ممبران نے ہندو خواتین سے شادیاں کر رکھی تھیں۔
مثال کے طور پر جمعیت علمائے ہند کے رکن بیرسٹر آصف علی نے بنگالی ہندو خاتون، محترمہ ارونا، سے سول میرج ایکٹ کے تحت شادی کر رکھی تھی جو کبھی مسلمان نہ ہوئیں۔
باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ایک انگریز خاتون، جو علیٰ الاعلان غیر مسلم تھیں، سے شادی کر رکھی تھی اور ان کی بیٹی نے ایک سکھ لڑکے سے سول میرج ایکٹ کے تحت شادی کی تھی[6]۔
مولانا مودودی بھی میدان میں آ گئے اور کہا:
’’محمد علی جناح جنت الحمقا کا بانی اور رجلِ فاجر ہے۔ پاکستان جنت الحمقا اور مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہے‘‘[7]۔
یہاں پر تاریخ کے طالب علموں کے لئے یہ سوال بہت اہم ہو جاتا ہے کہ کانگریس کے مسلمان عوام میں مقبولیت حاصل نہ کرنے اور مسلم لیگ کے تقسیم ہند کے سوا کسی اور آپشن کو قبول نہ کرنے میں ان علما کا کیا کردار ہے؟
یہ علما نہ صرف کانگریس کی بدنامی کا باعث بنے بلکہ انہوں نے مسلم لیگ کی سیاست کو بھی متاثر کیا اور کانگریس کے کندھے کو استعمال کرتے ہوئے برصغیر میں شیعہ مخالف تشدد کی بنیاد مستحکم کی۔
محقق: حمزہ ابراہیم
…….حوالہ جات۔۔۔۔
[1] Liaqat H. Merchant, “Jinnah: A Judicial Verdict”, East and West Publishing Company, Karachi (1990).

[2] Ibid

[3] Jinnah Papers, second series, volume XI (1 August 1944-31 July 1945); page 174.

[4] مولانا حسین احمد مدنی، "سول میرج اور لیگ”، دفتر جمیعت علمائے ہند، ولی پرنٹنگ ورکس، دہلی (1946)

[5] Ibid

[6] Khawaja Razi Haider, "Ruttie Jinnah”, Ch. 7, Oxford University Press, (2011).

[7] مولانا مودودی ، ترجمان القران فروری 1946 ص -154-153


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...