یوم القدس صرف ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ ایک نظریاتی تحریک ہے۔جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق
رپورٹ: ریاض احمد مطہری متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد
جامعہ رضا کے شعبہ تحقیق کی جانب سے یوم القدس پر روشنی ڈالنے کیلئے ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر جامعۃ الرضا کے طلبا نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنےمطالعات کا خلاصہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے مطالعات میں عالمی اسلامی اتحاد، استعماریت کے خلاف جدوجہد، اور اسلامی نظریۂ مقاومت کو بھی محور بنایا ۔
بلاشبہ حضرت امام خمینیؒ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دے کر صرف ایک احتجاجی دن ہی نہیں، بلکہ مسلم اُمہ کی سیاسی بیداری اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا ایک نظریاتی ڈھانچہ پیش کیا ہے ۔ چنانچہ یوم القدس کے روز ساری دنیا کے مسلمان مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ مختلف انداز میں اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں۔ ایسا کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے، بلکہ بین الاقوامی انسانی اقدار اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حق خودارادیت کے اصولوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یوم القدس کی اہمیّت پر روشنی ڈالنے کیلئے جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق کے زیرِ اہتمام مجلسِ مذاکرہ میں مندرجہ زیل نکات اخذ کئے گئے:
۱۔ بیت المقدس کی حفاظت محض فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری مسلم اُمہ کا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔
۲۔ فلسطین پر صہیونی قبضے اور اسرائیلی ظلم کے خلاف علمی بصیرت، سیاسی اتحاد، اور مستقل مزاجی سے کام لینا ضروری ہے۔
۳۔ یوم القدس کا مقصد صرف مظلوموں کی ہمدردی نہیں، بلکہ استعماری طاقتوں کے خلاف ایک منظم عالمی تحریک کو فروغ دینا ہے۔
۴۔ عوام کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ قدس کی آزادی کا دروازہ یوم القدس ہے۔
۵۔ یوم القدس صرف ایک دن کا احتجاج نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ایک نظریاتی تحریک ہے۔
نشست میں شرکانے کہا کہ یوم القدس ایک علمی اور فکری تحریک ہے جو اسلامی اصولوں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات، اور قانونی جواز کو یکجا کرتی ہے۔یہ تحریک بین الاقوامی برادری کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو صرف ایک علاقائی تنازعہ نہ سمجھے، بلکہ انسانی حقوق کی عالمی جنگ کے طور پر دیکھے۔ یوم القدس مسلمانوں کو ان کے تاریخی اور تہذیبی ورثے سے جوڑتے ہوئے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں