زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 24 اپریل، 2025

عقیدہِ ختمِ نبوّت یا آخری نظامِ حیات

عقیدہِ ختمِ نبوّت کو بطورِ نظامِ حیات سمجھنے کی ضرورت :
ڈاکٹر نذر حافی : 
انسان محض گوشت پوست کا پیکر نہیں بلکہ  ہدایت کا طلبگار ہے۔ اس کی ضرورت فقط کھانا پینا ہی نہیں بلکہ علم و معرفت کا حصول بھی ہے۔اسی لئے  ہر انسان کے بظاہر چھوٹے سےدماغ کے اُفق پر ہر لحظہ سینکڑوں تصوّرات اور سوالات طلوع  و غروب ہوتے رہتے ہیں۔مسلمانوں کے نزدیک وحی پروردگار کے مطابق  انسانی زندگی بسر کرنے کے حوالے سے ہر سوال کا جواب عقیدہِ ختمِ نبوّت  کی صورت میں موجودہے۔ 
گویا انسان کے دماغ  میں اس کی ہدایت اور زندگی  کے حوالے سے جو سوال بھی جنم لیتا  ہے،  عقیدہ ِ ختمِ نبوّت  اُسے تسلّی بخش جواب دیتا  ہے ۔  یعنی  عقیدہ ِ ختمِ نبوّت ، قیامت تک کیلئے ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ مگر کیا وحی، ختمِ نبوّت ، ہدایت و ایمان وغیرہ  کے بارے میں سوالات و جوابات  کو رٹنے کا نام ختمِ نبوّت یا نظامِ حیات ہو سکتاہے؟ کیا محض عربی الفاظ کا تلفظ کر لینے سے وہ نظامِ تشکیل پا جاتا ہے جس کی عقیدہ ختمِ نبوّت  دعوت دیتا ہے؟ کیا صرف الفاظ کو رٹہ لگانےاور بار بار دہرانے سے کوئی نظام بن جاتا ہے؟ مثلاً کوئی شخص روزانہ ایسے جملے دہراتا رہے کہ علم بڑی دولت ہے، علم نور ہے، علم روشنی ہے۔۔۔وغیرہ  وغیرہ تو کیا اس سے نظامِ تعلیم وجود میں آ جائے گا؟ 
پس کیا اسی طرح اگر لوگ روزانہ ختمِ نبوّت کی آیات و احادیث کو رٹتے رہیں، انہیں دہراتے رہیں، نعرے لگاتے رہیں، ریلیاں نکالتے رہیں تو کیا اس سے عقیدہ ختمِ نبوّت ایک نظام ِ زندگی کی شکل اختیار کر لے گا؟ نہیں ہر گز نہیں۔
پس ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ عقیدہ ختمِ نبوّت پر پڑے ہوئے پردے ہٹائے اور  حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے ہی عقیدہِ ختمِ نبوّت کو   بطورِ  نظامِ حیات وصول کرے۔ اُسے اپنی رائے، خواہشات اور مفروضات کو ایک طرف رکھ کر یہ ماننا ہوگا کہ ختمِ نبوّت کا سرچشمہ فقط حضرت محمد رسول اللہ ﷺکی ذاتِ گرامی ہے اور اس کی تمام حکمتوں، مقدمات اورلوازمات سے صرف ختم النبیینؐ ہی حقیقی معنوں میں آگاہ ہیں۔  اُمّت کو  ایک انچ بھی  اللہ کے آخری نبی ؐسے آگے یا پیچھے  ہونے کی اجازت نہیں۔اگر اُمّت  اس  قانون پر قائم ہوجائے کہ وہ قیامت تک  قطعا اپنے نبیؐ سے آگے یا پیچھے نہیں ہوگی تو اسی قیام  کا نام عقیدہ ختمِ نبوّت ہے اور اسی سے اُسے قیامت تک کیلئے نظامِ حیات ملے گا۔
اگر  اُمّت  اللہ کے آخری نبی ؐ کو اپنے لئے خدا کی طرف سے آخری نظامِ حیات لانے والا  نہیں مانتی تو پھروہ عقیدہ ختمِ نبوّت کو بھی نہیں سمجھتی۔ عقیدہِ ختم نبوّت کے مطابق حضرت محمد رسول اللہ ﷺ  ساری اُمّت کیلئے ایک میزان، کسوٹی اور معیار ہیں۔ آپ  صرف ایک مبلغ  یا خطیب نہیں ہیں  کہ آپ اُمّت کو  ایک  پیغام دے کر چلے  گئے  بلکہ آپ  قیامت تک کیلئے حرفِ آخر کے طور پر  ایک ہادی ﴿ہدایت کرنے والے﴾، ایک مربّی﴿ تربّیت کرنے والے﴾ اور ،  ایک رہبر  ﴿قیامت تک کیلئے راستہ دکھانے والے﴾ہیں۔  
اب سوال یہ ہے کہ   اللہ کا آخری نبی ؐ جو قیامت تک کیلئے   حرفِ آخر رکھتا ہے، جو میزان، ہادی، مربّی اور رہبر ہے، کیا  وہ  اپنی امت کو یہ بتا کر نہیں گیا کہ میرے بعد نسل در نسل میری اُمّت کی ہدایت و تربیّت کون کرے گا؟  کیا وہ اُمّت کو قیامت تک کیلئے صحابہ کرام کے سُپرد کر کے چلا گیا ؟ حالانکہ صحابہ کرام تو خود اُسی ایک آدھ صدی میں ہی ختم  ہو گئے۔ ویسے بھی خود صحابہ  کرام میں ہر مسئلے میں شدید اختلاف، قتل و غارت اور  خون خرابہ ہی رہا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں جھگڑا اور پھر خلافت کے امیدوار حضرت ساعد بن عبادہ ؓ کی مخفی شہادت، خلیفہ دوّم کا کئی صحابہ کرام کو کوڑے مارنا، اُن پر حد جاری کرنا، خلیفہ سوّم کے قتل میں کئی صحابہ کرام اور اُن کی اولادوں کا شامل ہونا، بعد ازاں جنگِ جمل، صفّین اور نہروان۔۔۔خود خلفا ئے راشدین کے  طریقہ انتخاب میں صحابہ کے درمیان اختلاف، اگر سقیفہ بنی  ساعدہ کا طریقہ ٹھیک تھا توخلیفہ اوّل نے اُس طریقے کو ردّ کرتے ہوئے خود کیوں دوسرے خلیفہ کا انتخاب کیا؟  بعض لوگوں کے بقول اگر رسول ؐ نے اپنے بعد اُمت کی ہدایت کیلئے کسی کو اپنا جانشین نہیں بنایا تھا اور اُمّت کو یہ اختیار دیا تھا جس کے مطابق سقیفہ بنی ساعدہ والا واقعہ پیش آیا  تو پھر خلیفہ اوّل نے کیسے مشاورت والا طریقہ چھوڑ کر خود سے دوسرے خلیفہ کا انتخاب کر دیا؟  
اب دوسرے خلیفہ نے سقیفہ بنی ساعدہ اور پہلے خلیفہ کے طریقے پر بھی خطِ بطلان کھینچ دیا۔ انہوں نے خلیفہ کے انتخاب کیلئے ایک چھ رُکنی کمیٹی بنائی۔ یہ اُن کا پنا طریقہ کار تھا،خلیفہ کے انتخاب کیلئے یہ طریقہ بھی نہ نبی اکرمؐ نے بتایا تھا، نہ ہی خلیفہ اوّل و دوّم نے اپنایا تھا۔ 
پس ثابت یہ ہوا کہ ہدایت و تربیّت کیلئے نبی ؐ جیسا مدبّر و مدیر رہنما  اپنی اُمّت کو قیامت تک کیلئے صحابہ کرام کے سُپرد نہیں کر سکتا۔ اس کی دو روشن وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود صحابہ کرام اُسی دور میں ختم ہو گئے اور دوسرے یہ کہ خود اُن میں شدید اختلافات تھے۔ اسی لئے نبیؐ نے یہ نہیں فرمایا کہ قیامت کے نزدیک میرے صحابہ میں سے کوئی شخص اُمّت کی ہدایت کیلئے ظہور کرے گا بلکہ یہ فرمایا کہ مہدی ؑ ،میرے اہلِ بیتؑ میں سے ہونگے۔اسی طرح نبیؐ نے اپنے بعد جو اپنے بارہ خلفا ہونے کے بارے میں رہنمائی کی ہے ، اُس میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ میرے اصحاب سے ہونگے بلکہ اپنے اہلِ بیت اور اپنی آل ؐ میں سے ہونے کی خبر دی ہے۔ 
پس  عقلِ سلیم کا یہی فیصلہ ہے کہ  عقیدہ ِ ختم نبوّت کے مطابق اُمّت کو ہدایت و تربیت کیلئے قیامت تک صحابہ کرام کے حوالے نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی نبی ؐ نے ایسا کیا ہے۔اب  نبیِ آخر الزماں ﷺ کے بعد کوئی نیا پیغمبر بھی نہیں آئے گا۔ یہاں پر  عقلِ انسانی نبیِ مرسل ﷺ کی رحلت کے بعدہدایت و تربیّت کے  خلا کو محسوس کرتے ہوئے رُک جاتی ہے۔
عقل محسوس کرتی ہے کہ ختمِ نبوّت کے فوراً بعد اور بلا فصل نبیؐ کی طرف سے کوئی جانشین ہونا چاہیے، جس سے پتہ چلے کہ اب نبوّت ختم ہو گئی ہے اور اب اُمّت کی ہدایت بلافاصلہ نبیؐ کا منتخب کردہ جانشین کرے گا۔ چنانچہ میدانِ غدیر میں نبیؐ نے جو امام علی ؑ کی خلافتِ بلا فصل کا اعلان کیا تھا وہ اعلان ختمِ نبوّت کی مہر ہے۔ وہ اعلان اُمّت کا اپنے نبی کے ساتھ  ایک ابدی عہد ہے  کہ اب قیامت تک اُمّت کی ہدایت و تربیت کیلئے کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ نبی کا جانشین یہ ذمہ داری انجام دے گا۔ یہ اعلان نبی ؐ کے بعد  بلا فصل اور بلا وقفہ ہدایت  و تربیّت کے جاری رہنے کا اعلان تھا۔  اسی لئے نبی ؐ نے قیامت تک اپنے اہلِ بیت ؑ کو اپنا جانشین ا اور اُمّت پر ان کی محبّت و اطاعت کو واجب  قرار دیا۔
آج بھی ارض و سما میں نبیؐ کا یہ فرمان گونج رہا ہے کہ  میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، کتاب اللہ اور میری عترت، میرے اہلِ بیتؑ۔ جب تک ان دونوں سے وابستہ رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہو گے۔
رسول کے بعد اہلِ بیتؑ کی خلافت و امامت کا دامن تھامنا  ، یہ عقیدہ ختمِ نبوّت کا تقاضا اور عقلِ سلیم کا فیصلہ ہے اور اس کے برعکس چلنا یعنی عقیدہ ختمِ نبوّت کو بطورِ نظامِ حیات  نہ سمجھنا اور عقلِ سلیم کے ساتھ جنگ لڑنا ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے میدانِ غدیر میں  صرف ایک فرد کو اپنا جانشین اور اُمّت کا سرپرست نہیں بنایا تھا  بلکہ  قیامت تک امت کی سرپرستی  ایک سلسلے کو، ایک نورانی نظامِ ولایت و خلافت و امامت  کو، اپنے دستِ مبارک سے متعارف کروایا تھا۔ وہاں صرف علیؑ کا ہاتھ بلند نہیں ہوا تھا  بلکہ وہاں اُمّت ِ نبوی ؐ کے قیامت تک کیلئے شعور اور  بصیرت کی سطح بلند ہوئی تھی یعنی وہاں  میراثِ ہدایت و تربیّت نبوّت سے امامت و خلافت میں منتقل ہوئی تھی۔ 
"جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علیؑ مولا ہے۔"یہ جملہ اس  حکمتِ عملی کا عکاس ہے کہ  جس میں قیامت تک کی  آئندہ صدیوں کی رہبری و امامت کو سمجھایا گیا ہے۔ رسولِ خدا ﷺ نے غدیر میں فقط علیؑ کی ولایت کا اعلان نہیں کیا تھا  بلکہ اہلِ بیتؑ کے نظامِ خلافت و امامت کا آغاز کیا  تھا  جو قیامت تک کے  انسانوں کی ہدایت و تربیّت کی کفایت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ  صحابہ کرام ہمارے لئے واجب الاحترام ہیں۔ وہ خود ہدایت و تربیّت کی خاطر رسولؐ کے گِرد جمع تھے، وہ حسبِ استطاعت و صلاحیّت ہدایت کے نور سے منوّر ہو رہے تھے لیکن  قیامت تک کیلئے اُمّت کی ہدایت کرنا یہ اُن کی ذمہ داری نہیں تھی۔ قیامت تک کیلئے اُمّت کی ہدایت جن کی ذمہ داری تھی اُنہیں رسول نے کبھی اپنے  کاندھوں پر بلند کر کے، اور کبھی میدانِ غدیر میں  ہاتھوں  سے پکڑ کر بلند کر کے  خود منتخب فرمایا،  اور اپنی احادیث میں  میرے اہلِ بیت میں سے میرے بعد کے خلفا  کہہ کر اُن  کی اطاعت کو اُمّت پر لازم قرار دیا۔  عقیدہ ختمِ نبوّت کو بطورِ نظامِ حیات ماننے اور اپنانے کیلئے  نصوص و عقل دونوں کے اعتبار سے ضروری ہے کہ ختمِ نبوّت کے فوراً بعد بلا فصل اہلِ بیتؑ کی امامت و خلافت کو تسلیم کیا جائے۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...