تحریرسید امتیاز علی رضوی :
آج کے دور میں سلیبرٹی (Celebrity) کی اصطلاح ان شخصیات کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو میڈیا اور عوامی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہیں۔ عام طور پر یہ شہرت کھیل، فن یا موسیقی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے، لیکن اب یہ رجحان مذہبی رہنماؤں تک بھی پہنچ چکا ہے۔ مذہبی سلیبرٹیز کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے جو لباس، گفتگو اور رویوں میں خاص برانڈنگ کے تحت اپنی شناخت بناتی ہے۔
مذہبی شہرت کی دوڑ: ایک نیا کلچر
ماضی میں مذہبی رہنما اپنی علمی قابلیت، تقویٰ اور خدمتِ دین کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے، لیکن آج کچھ لوگ سوشل میڈیا، ٹی وی اور اشتہارات کے ذریعے اپنی شہرت بڑھا رہے ہیں۔ ان کی تقریریں واٹس ایپ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر وائرل ہو جاتی ہیں، اور ان کے فینز (چاہنے والے) ان کی ہر بات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمينَ (حٰم السجدہ: 33)"اور اس سے بہتر کلام کس کا ہوگا جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔"
لیکن آج کچھ مذہبی رہنما دعوتِ دین کے بجائے دعوتِ خود میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے نئی نسل میں تقویٰ و پرہیزگاری کی گہرائی اور روح نظر نہیں آتی، بلکہ ان معاملات میں مادیت دخیل ہو چکی ہے، گویا صرف مذہبی ٹچ ہی باقی رہ گیا ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ:مَنْ تَصَنَّعَ لِغَيْرِهِ فَهُوَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ (کنزالعمال)
"جو شخص دکھاوے کے لیے کوئی کام کرے، وہ منافق ہے۔"
مذہب اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال
کچھ مذہبی رہنما لائکس، شیئرز اور سبسکرائبرز کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان کی ٹیمیں ہر تقریر کو کلپس میں کاٹ کر اس طرح پیش کرتی ہیں کہ تنازعات پیدا ہوں اور وائرلٹی بڑھے۔ انوکھی باتیں کرنا آپ کی شہرت میں اضافہ کر دیتی ہیں۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:إِيَّاكَ وَ الْعُجْبَ فَإِنَّهُ مِنْ أَكْبَرِ الْعُيُوبِ (نہج البلاغہ)
"خود پسندی سے بچو، کیونکہ یہ سب سے بڑا عیب ہے۔"
فرقہ وارانہ تقسیم اور فین کلچر
مذہبی سلیبرٹیز کے فینز اکثر دوسروں کو کافر، منافق یا گمراہ کہنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے خطرناک ہے۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَ لَا تَفَرَّقُوا (آل عمران: 103)
"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی (دین) کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔"
کیا مذہبی سلیبرٹیز غلط ہیں؟ہر مشہور مذہبی رہنما غلط نہیں ہوتا، لیکن جب شہرت، دولت اور نمائش ہی مقصد بن جائے تو یہ ریاکاری کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:مَنْ أَرَادَ الْحَدِيثَ لِلدُّنْيَا كَانَ حَرَامًا عَلَيْهِ رِيحُ الْجَنَّةِ (الکافی)
"جو شخص دین کی بات دنیا کے لیے کرے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔"
نتیجہ
مذہب کی خدمت کا مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ لائکس اور فالوورز۔ ہمیں ایسے علماء اور واعظین کی قدر کرنی چاہیے جو سادگی، اخلاص اور خدمتِ خلق کو ترجیح دیتے ہیں۔
حدیثِ نبوی ﷺ:إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَ أَمْوَالِكُمْ وَ لَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَ أَعْمَالِكُمْ (صحیح مسلم)
"بے شک اللہ تمہاری صورتیں اور مال نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔"
اللہ ہمیں دین کو سچائی اور خلوص کے ساتھ قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں