نبیؐ کی دخترِ گرامی نے جب اپنے باپ کی میراث کو غلط انداز میں تقسیم ہوتے دیکھا تو بی بیؑ نے فوراً حکومتِ وقت پر سوال اٹھایا تاکہ میراث کا غلط تقسیم کرنا، اور پھر غلط تقسیم پر خاموش رہنا بعد والوں کیلئے کہیں سنت نہ بن جائے۔
✍️ :ڈاکٹرنذر حافی :
اگر انبیاء کی وراثت ہی غلط تقسیم ہو گی تو لوگوں کو مرحومین کے مال و جائیداد کی تقسیم کا قانون عملاً کیسے سمجھ میں آئے گا؟ پس انبیا کی میراث کا دینی اعتبار سے درست تقسیم ہونا ناگزیر ہے تاکہ لوگ اس کے مطابق ارث کو تقسیم کرنا سیکھیں۔ حضرت فاطمہؑ کے فدک سے محروم ہونے کا معاملہ یہاں پر ایک علمی سوال پیدا کرتا ہے کہ ہمارے نبیؐ کی میراث کو جس طرح سے تقسیم کیا گیا اس تقسیم پر معصوم ہستیوں نے غیر معصوم حضرات پر اعتراض کیا یا نہیں؟
صاحبانِ علم کیلئے یہ سوال انتہائی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حدیث جو واضح طور پر قرآن کے خلاف ہو، اُسے رد نہ کیا جائے؟ بلکہ اُسے اس قدر اہمیت دی جائے کہ اس کی بنیاد پر نبی ﷺ کی بیٹی کو جھٹلایا جائے؟ یہ سوال صرف ایک فرد یا گروہ کے درمیان اختلافات کا نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی درست اور غلط تشریح کا بھی ہے۔
فدک کا مسئلہ صرف ایک تاریخی یا سیاسی تنازعہ نہیں، بلکہ کئی علمی سوال اٹھاتا ہے۔ فدک، جو مدینے کے قریب ایک زرخیز علاقہ تھا، نبی ﷺ نے بغیر کسی جنگ یا جہاد کے یہودیوں سے تحفے کے طور پر حاصل کیا تھا جیسا کہ قرآن مجید کی سورہ حشر کی آیت 6 میں ذکر ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا انبیاء کی وراثت صرف مادی وسائل و جائیداد پر مشتمل ہے؟ یا ان مادی وسائل اور جائیداد میں ایک علمی حقیقت بھی چھپی ہوئی ہے؟
اگر ہم یہ تسلیم کریں کہ "انبیاء کی کوئی وراثت نہیں ہوتی"، تو پھر ایک مزید سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ حقیقت ہے، تو اُمہات المومنینؓ پر اس حدیث کا نفاذ کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کے اندر یہ سوال بھی پوشیدہ ہے کہ کہیں انبیاء کی وراثت مال و جائیداد کے بجائے صرف علم اور نبوت تک محدود تو نہیں؟
اگر ایسا ہے، تو پھر اس کا منطقی نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر نبی کی اولاد بھی عالم اور نبی ہوگی، لیکن خارج میں ایسا نہیں ہوا۔
قرآن کی متعدد آیات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ انبیاء کی وراثت صرف مادی نہیں بلکہ روحانی بھی ہوتی ہے۔ سورہ نمل، سورہ بقرہ، اور سورہ نساء میں قرآن نے وراثت کو ایک وسیع تر مفہوم میں بیان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کی وراثت کا مفہوم صرف علم، حکمت اور ہدایت تک محدود نہیں۔
یہ سوالات اس لئے جنم لیتے ہیں چونکہ معصوم افراد کا علم براہِ راست نبیؐ کی تربیّت کا ماحصل ہے، جو ان کے فہم کو مکمل اور خطا سے پاک بناتا ہے، جبکہ غیر معصوم افراد کا علم اُن کی ذاتی آرا پر مبنی ہوتا ہے، جس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے۔ معصوم اور غیر معصوم کے علم کے فرق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قرآن و سنت کی صحیح تفسیر صرف معصوم افراد ہی کر سکتے ہیں، اور صرف ان کی تشریح ہی برحق ہے۔
فدک کا مسئلہ محض ایک جائیداد کے تنازعہ کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک گہرا علمی سوال تھا کہ نبی ﷺ کی میراث کس طریقے سے تقسیم کی جائے تاکہ امت کو میراث کی تقسیم کے اصول سیکھنے کا موقع ملے۔
واقعہ فدک تین اہم جہتوں سے لازمی ہے جو نہ صرف تاریخی اہمیت رکھتا ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور فقهی مسائل میں بھی اس کا گہرا اثر ہے:
1. معصوم اور غیر معصوم کے علم کا فرق:
واقعہ فدک ہمیں معصوم اور غیر معصوم کے علم میں فرق سکھاتا ہے۔ فدک کی میراث پر ہونے والے اختلافات نے یہ واضح کر دیا کہ ائمہ معصومین کے پاس وہ علم تھا جو عام انسانوں کو حاصل نہیں تھا، اور یہ علم صرف اللہ کی طرف سے تھا۔ اس واقعہ نے معصومین کی رہنمائی اور ان کی حقانیت کو اجاگر کیا۔
2. امت کو میراث کی تقسیم کا طریقہ سکھانے کے لئے:
واقعہ فدک امت کو یہ سکھانے کے لیے تھا کہ میراث کی تقسیم کا طریقہ کیا ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ میراث صرف مردوں کے لیے نہیں ہے بلکہ اس میں خواتین کا بھی حق ہے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی تقسیم ایک منصفانہ عمل ہے۔ اس واقعہ کے ذریعے امت کو اس اصول کی اہمیت کا احساس ہوا۔
3. میراث کی غلط تقسیم پر خاموش رہنے کو سنت بننے سے روکنا:
واقعہ فدک نے ہمیں یہ سکھایا کہ میراث کی غلط تقسیم پر خاموش رہنا اور اسے سنت بننے دینا اسلام میں درست نہیں ہے۔ حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کا احتجاج اور ان کا موقف اس بات کا غماز ہے کہ اگر کسی حق پر ظلم ہو، تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ اس واقعہ نے ہمیں یہ درس دیا کہ میراث کی منصفانہ تقسیم کے اصول کو تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
یہ تینوں جہتیں اس واقعہ کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں اور اس کے ذریعے امت کو اہم اصولوں سے روشناس کرایا گیا۔
معصوم اور غیر معصوم کے علم کا یہ بنیادی فرق ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ کسی بھی مذہبی یا فکری مسئلے کا درست حل معصوم افراد ہی فراہم کر سکتے ہیں، کیونکہ ان کا علم قرآن و سنت کے عین مطابق ہوتا ہے، جس میں کسی قسم کی غلطی کا امکان نہیں ہوتا۔ غیر معصوم افراد کا علم انسانی فہم کی محدودیت کی وجہ سے خطا سے محفوظ نہیں ہوتا۔
اگر ہم فدک کے مسئلے میں معصوم اور غیر معصوم کے علم کے فرق کو سمجھیں، تو ہم اس حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کو اپنی زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہدایت کے لیے ایک معصوم رہنما یا امام کی ضرورت ہے۔ معصوم اور غیر معصوم کے اس فرق کو سمجھنا نہ صرف دنیاوی مسائل میں، بلکہ آخرت کے مسائل میں بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ذکر ہے: "یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ" (سورہ بنی اسرائیل)، یعنی قیامت کے دن ہم ہر انسان کو اُس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں جس سے علم لے گا اور اُسے اپنا امام بنائے گا، قیامت کے دن بھی اُسی کے ساتھ محشور ہوگا۔
نتیجہ: واقعہ فدک نہ صرف ایک تاریخی واقعہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور فقہی مسائل میں اس کی گہری اہمیت ہے۔ اس واقعے نے معصوم اور غیر معصوم کے علم میں فرق کو واضح کیا، جو ہمیں بتاتا ہے کہ صحیح رہنمائی صرف معصومین ہی فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، فدک کا مسئلہ امت کو میراث کی تقسیم کے اصولوں سے آگاہ کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ میراث کا قانون نہ صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین کو بھی اس میں حصہ دار قرار دینا ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فدک نے اس بات کو اجاگر کیا کہ غلط میراث کی تقسیم پر خاموشی اختیار کرنا اور اسے سنت بننے دینا اسلام میں درست نہیں ہے، اور اس پر احتجاج کرنا ضروری ہے تاکہ انصاف کی فراہمی اور دین کے اصولوں کی حفاظت کی جا سکے۔
یقیناً، یہ واقعہ نہ صرف ایک تاریخی نکتہ ہے بلکہ اس نے امت کو اہم فقہی، علمی اور اخلاقی اصولوں سے روشناس کرایا ہے، جو آج بھی ہمارے معاشرتی اور دینی مسائل میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں