زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 6 اپریل، 2025

۸ شوّال کا دکھ !

ڈاکٹرنذر حافی : 
خبردار! یہ بقیع کی سر زمین ہے۔ اس کی خاک میں  آسمان دفن ہیں۔ ہر سال ۸شوال  کی تاریخ  کو یہاں سے خون کا چشمہ اُبل پڑتا ہے۔ اس روز  یعنی ۸ شوّال کو  سرزمینِ وحی پر  محبت ،  احترام، تقدّس، ناموس، عزّت، شرافت اور انسانیت  کی ساری علامتوں اور نشانیوں کو مٹا دیا گیا۔ دنیا بھر کے غیور اور شریف لوگ ایک صدی سے  اس صدمے میں مبتلا ہیں۔  اس روز  صرف مسلمانوں کا تاریخی و روحانی ورثہ ہی پامال نہیں ہوا  بلکہ اُن ہستیوں کی بے حُرمتی  کی گئی کہ جن کی تکریم و تقدیس ہر مسلمان کے دل پر کنندہ  ہے۔ جنّت البقیع کا انہدام جہاں  سعودی عرب  کی   "پاور پالیٹکس" (Power Politics) کا واضح مظہر ہے وہیں اُمّت مسلمہ کی بے بسی کی روشن  دلیل بھی۔
اس وقت دنیا میں سعودی عرب اور اسرائیل  دونوں ریاستیں مسلمانوں کے  مذہبی ورثے کو مسمار کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں جوکہ  "سیمیولوجیکل ڈیسٹرکشن" (Semiological Destruction) کی  اپنی مثال آپ  ہے۔   مسلمانوں کے تاریخی ورثے کو پامال کرنے والی مذکورہ دونوں ریاستوں کی  اپنی  اپنی مخصوص مذہبی شناخت بھی ہے جسے وہ  عالمی سطح پر منوانے  کی کوشش کر رہی ہیں۔  سعودی عرب کی دیکھا دیکھی اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کے  ثقافتی ورثے کو تباہ کر کے "کولونیل ہیجمنٹس" (Colonial Hegemonies) کی طرف قدم بڑھایا ہے ، جہاں اس کی ریاستی طاقت نے فلسطینیوں کی شناخت کو ایک "ایکسٹریم ڈسپیوریا" (Extreme Dispossession) میں تبدیل کر دیا۔ 
دونوں ریاستیں اپنی   اپنی مذہبی شناخت کو قائم کرنے کے لیے مسلمانوں  کی ثقافتی  خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی  ہیں یہی  وہ  "پولیٹیکل نیکسیس" (Political Nexus) ہے  جس کی طرف مسلم دُنیا  کی ابھی تک توجہ نہیں۔ اس "تسلط پسند" (Dominance) رویے کی جھلک پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات میں بھی دیکھی جاتی ہے، جہاں سعودی عرب نے  پاکستان اور پاکستانی عوام کو ہمیشہ اپنی "غلامی" کے دائرے میں رکھنے کی کوشش کی، اور اسرائیل نے پاکستان کو عالمی سطح پر "سیگریکیشن" (Segregation) کا شکار بنایا۔ یہ تمام عوامل ایک "کاسموپولیٹن ویژن" (Cosmopolitan Vision) کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں اسلامی  برادری کے مشترکہ مفادات کو ترجیح دینے کے بجائے، ان دونوں ممالک کی پالیسیاں عالمی سطح پر مسلمانوں کے اسلامی و  انسانی حقوق اور ثقافتی ورثے کی پامالی کا سبب بن رہی ہیں۔
سعودی عرب میں 1920ء کی دہائی میں جب وہابی ازم نے زور پکڑا، تو مکہ اور مدینہ میں موجود متعدد تاریخی مقامات اور مزارات کو مٹا دیا گیا۔  پیغمبر اسلام ﷺ کے اہلِ بیت اور صحابہ  کرام کے مزارات  کو منہدم کر دیا گیا اور جنت البقیع  کو مسمار کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب نے نبی ﷺ کے والدین، آپ کی زوجہ بی بی خدیجہ، اور دیگر اہم شخصیتوں سے منسوب  ان گنت مقامات کو بھی ڈھا دیا ۔ یوں سعودی حکومت نے اسرائیل کی مانند  اپنی  مذہبی پالیسی کو   دنیا بھر کے اہلِ سُنّت  اور شیعہ مسلمانوں کےخلاف  پوری طاقت سے نافذ کیا۔
دوسری طرف اسرائیل نے  بھی سعودی عرب کی دیکھا دیکھی  مسلمانوں کے  ثقافتی ورثے کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ مسجد الاقصیٰ کو کئی مرتبہ آگ لگائی گئی اور کئی مرتبہ یہاں کے داخلی حصے اور اس کے ارد گرد کے مقامات کو نقصان پہنچایا گیا ۔ سعودی عرب کی طرح نمازیوں اور زائرین کو ہراساں کرنا اسرائیلیوں کا معمول ہے۔  اسی طرح دیوار براق جو کہ  فلسطین کا ایک اہم ثقافتی ورثہ ہے، خلیل (Hebron) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مکتبہ ، نابلس اور اس کے گرد و نواح کی قدیم عمارات کو بھی متعدد بار اسرائیلی افواج تہہ و بالا کر چکی ہیں۔ 7 اکتوبر 2024 سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری کے دوران 100 سے زائد ثقافتی مراکز تباہ ہو گئے ہیں جن میں فلسطین کی تاریخی مسجد عمری، چرچ آف سینٹ پورفیریوس، اور 2000 سال قدیم رومی قبرستان شامل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ثقافتی شناخت اور تاریخ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جو علاقے کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے خطے میں مسلمانوں کے  ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچا ہے جبکہ ان کی طاقت کا اظہار ہوا ہے۔
سعودی عرب  اور اسرائیل دونوں مسلمانوں کے ساتھ سفارتکاری کے بجائے  طاقت کے استعمال پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ  مختلف سیاسی اور عسکری معاملات میں طاقت کا استعمال کیا ہے۔ جیسے  ابھی یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں ۔ سعودی عرب نے یمن میں اپنی حمایت میں وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیاں کیں، جس سے وہاں کی شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ سعودی حکومت نے بحرین میں 2011ء کے عوامی احتجاج کے دوران بحرین کی حکومت کی مدد کے لیے فوجی بھیجے، اور  وہاں کی شیعہ اکثریتی آبادی پر  شبخون مارا ۔
ایسے ہی اسرائیل نے فلسطین اور لبنان میں اپنی فوجی کارروائیوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پرمسلسل حملوں کا سلسلہ  ماضی میں بلاوقفہ جاری رہا ہے، خاص طور پر غزہ کی پٹی میں جہاں 2024 کی بمباری نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ اسرائیل اور سعودی عرب کا  یہ رویہ مسلمانوں کو طاقت سے  تباہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی  بہت ہی گھٹیا اور پست  بنیادوں پر استوار ہیں۔ سعودی عرب کے  حکام کی جانب سے پاکستانیوں کو "غلام" کہنے اور " غلام " سمجھنے کی ریت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔  آج بھی ساری خلیجی ریاستوں خصوصاً  سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے  ساتھ  "غلاموں" جیسا سلوک ہی کیا جاتا  ہے۔ دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے بھی پاکستان کو مسلسل تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔  سعودی عرب کی مانند اسرائیل نے بھی ماضی میں پاکستان کے خلاف توہین آمیز بیانات دیے ہیں، خاص طور پر جب اسرائیلی وزیر اعظم نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی عرب کے ذریعے تجاویز پیش کیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی  بھی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل  دونوں بغیر کسی لچک کے  صرف طاقت کےاستعمال  اور " اپنی برتری" پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں نے اب تک اپنے اس نظریے کو منوایا ہے۔   سعودی عرب و اسرائیل کی منہ زوری اور عالمِ اسلام کی تاریخ کو دیکھ کر ان چند سطروں پر کالم کو ختم کرتا ہوں کہ 
بادِ مخالف کے سبب
 ہم زمین پر گرے پڑے لوگ 
جب کبھی دوبارہ اٹھنے  کا ارادہ کر لیتے ہیں تو 
آفاق کی بلندیاں،
ہمارے سامنے، اپنا سر خم کرلیتی ہیں۔۔۔
ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز اور کٹے ہوئے بازووں سے علم  بلند  کرنا ۔۔۔
  ہمارا  ہی ہُنر ہے!

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...