اسلامی ورثے کی تباہی میں آلِ سعود اوراسرائیل کا کردار ایک جیسا ہے۔ ۸ شوال کی مناسبت سے جامعۃ الرضا، شعبہ تحقیق کی نشست/ رپورٹ: مزمل حسین، متعلم جامعہ الرضا
جنت البقیع اسلامی تاریخ کا ایک اہم اور مقدس قبرستان ہے، جو نہ صرف مدینہ منورہ کی عظمت کا عکاس ہے بلکہ اہل بیت علیہم السلام، صحابہ کرام اور دیگر اہم شخصیات کی قبروں کے باعث مسلمانوں کے دلوں میں خاص مقام رکھتا ہے۔
جامعہ الرضا کے شعبہ تحقیق کے طلباء نے 8 شوال، یوم انہدام جنت البقیع کی مناسبت سے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ اس نشست میں طلباء نے جنت البقیع کی تخریب کے تاریخی واقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس سانحے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ نشست کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ اس کے بعد طالب علم حسن عباس نے اس دن کے تاریخی پس منظر کو بیان کرتے ہوئے کہا:
۸ شوال کا دن اسلام کے لیے ایک المناک تاریخ رکھتا ہے، جب مدینہ منورہ میں واقع مقدس قبرستان جنت البقیع کو منہدم کر دیا گیا۔ یہ سانحہ تقریباً ایک سو سال پہلے وہابی/سلفی عقیدے کے حاملین کے ہاتھوں پیش آیا، جنہوں نے اپنے مخصوص مذہبی نظریات کی بنیاد پر اسلامی تہذیب اور تاریخی ورثے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔" ان کے بعد سبطین حیدر، متعلم جامعہ الرضا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "یہی ظالمانہ پالیسی بعد میں فلسطین میں بھی دیکھنے کو ملی، جہاں صیہونیوں نے مسجدِ اقصی سمیت اسلامی ورثے کو پامال کیا۔ایسے واقعات مسلمانوں کے لیے دردناک ہیں اور ان کے بارے میں امت مسلمہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔محمد تقی، ابوذر غفاری، حسن کاظمی اورمزمل حسین نے اپنی تحقیقات کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع کا انہدام نہ صرف ایک تاریخی ورثے کی تباہی تھی، بلکہ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کے ایمان اور عقیدے کو گہرا دھچکا بھی لگا۔ جنت البقیع میں مدفون اہم شخصیات کی قبروں کا مسمار ہونا مسلمانوں کی روحانی میراث کے ایک اہم حصے کا خاتمہ تھا۔ جہاں ایک طرف اہل بیت اور صحابہ کرام کی قبروں کی بے حرمتی نے مسلمانوں کو غمگین کر دیا، وہیں دوسری طرف یہ سانحہ اسلامی تاریخ کے اس درخشاں باب کو مٹانے کے مترادف تھا، جو مسلمانوں کے لیے ایک روحانی رہنمائی کا ذریعہ تھا۔ اس سانحے نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے پر کرنا انتہائی مشکل ہے۔
۸ شوال کو سعودی حکومت (وہابی/سلفی عقیدے کے تحت) نے جنت البقیع سمیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود دیگر کئی مزارات اور تاریخی مقامات منہدم کر دئیے۔ جس پر سارا جہانِ اسلام افسردہ ہے۔دعا ہے کہ "اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متحد فرمائے اور ان کے مقدس مقامات کی حفاظت کرے۔ آمین۔"








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں