زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 16 مئی، 2025

تنقید کیوں اور کیسے ؟

تنقید کیوں اور کیسے ؟
پروفیسرسیدامتیازعلی رضوی :   
تنقید (Criticism) کا بنیادی مطلب کسی چیز کے محاسن و معائب کا تجزیہ کرنا ہے، جس کا مقصد بہتری یا فہم و فراست میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی کرے تو پھر ہمیں تنقیدی مزاج اور تنقیدی ماحول بنانا ہوگا۔ اپنے انداز کو بدلنا ہوگا۔ شائستگی کے ساتھ تنقید کرنا سیکھنا ہوگا اور تنقید کو سننے اور سمجھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ ہمیں تنقید سے ڈرنے کے بجائے اسے ارتقاء کے بہترین موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ لہذا تنقید کا صحیح استعمال معاشرے، ادب، فن، سیاست یا کسی بھی شعبے میں تعمیری تبدیلی لانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔  تنقید ایک فن ہے، اگر اسے صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ تعمیر کا ذریعہ بن سکتی ہے، ورنہ یہی تنقید تخریب میں بدل سکتی ہے۔ لہٰذا، تنقید کرتے وقت حکمت، انصاف اور احترام کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
تنقید کی اقسام:  
1۔ تعمیری تنقید (Constructive Criticism): 
اس کا مقصد کسی کے کام یا رویے کو بہتر بنانا اور راہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہ تنقید شائستہ انداز میں، مثبت تجاویز کے ساتھ کی جانی چاہیے تاکہ مخاطب کو فائدہ پہنچے۔ 
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ" (النحل: 125)، یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے بہترین طریقے سے بحث کرو۔ ایک اور آیت میں ہے: وَلْتَکُن مِّنکُمْ أُمَّۃٌ یَدْعُونَ إِلَی الْخَیْرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ(آل عمران 3:104)، یعنی تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔" یہ آیت تعمیری تنقید کی بنیاد ہے، جس کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہے۔  
اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" (صحیح بخاری و مسلم)، جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔
 شیعہ و سنی روایات دونوں میں نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ نصیحت کرنے پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام علیؑ فرماتے ہیں: "النَّصِيحَةُ فِي السِّرِّ مِنْ أَصْدَقِ أَنْوَاعِ الْإِيمَانِ" (غرر الحکم)، یعنی رازداری میں نصیحت کرنا ایمان کی سچائی کی علامت ہے۔ لہٰذا تعمیری تنقید کا مثبت انداز ہی اصلاح کا بہترین ذریعہ ہے۔ 
مثال کے طور پر اگر کسی مضمون نگار کی تحریر میں تحقیقی پہلو کم نظر آئے تو اسے یوں کہا جائے: "آپ کے خیالات اچھے ہیں، لیکن اگر آپ مزید تحقیق شامل کریں تو بحث مضبوط ہو سکتی ہے۔"  
2۔ تخریبی تنقید (Destructive Criticism): 
اس کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا یا بے جا تنقید کرنا ہوتا ہے بغیر کسی مفید مشورے کے۔ یہ تنقید تلخ اور غیر معاون انداز میں کی جاتی ہے اور بعض اوقات ذاتیات پر حملہ تک پہنچ جاتی ہے، جیسے کہنا: "یہ کام بالکل بیکار ہے، آپ میں صلاحیت ہی نہیں۔" 
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسے رویے سے منع فرمایا ہے: "وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ" (الحجرات: 11)، یعنی ایک دوسرے کو برے القابات سے مت پکارو۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی سختی سے منع فرمایا: "المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" (صحیح بخاری)، یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ 
 احادیث میں بھی اس کی مذمت ملتی ہے، جیسے امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "مَنْ عَیَّرَ مُؤْمِناً بِشَيْءٍ لَمْ یَمُتْ حَتَّى یَرْکَبَهُ" (الکافی)، جو کسی مومن کو کسی عیب پر طعنہ دے گا، وہ مرنے سے پہلے خود اسی میں مبتلا ہوگا۔ لہٰذا، تخریبی تنقید نہ صرف اخلاقیات کے خلاف ہے بلکہ دینی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔
3۔ ادبی/فنی تنقید (Literary/Artistic Criticism):
 اس کا بنیادی مقصد کسی تخلیق کے معنیٰ، اسلوب اور اثرات کو گہرائی سے سمجھنا اور اس کی معنوی و فنی قدروں کو اجاگر کرنا ہے۔ جیسا کہ مولانا روم نے فرمایا: "فن کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے دل کی آنکھ سے دیکھو، کیونکہ ظاہر تو صرف پردہ ہے۔" علامہ اقبال کے نزدیک "حقیقی تنقید، فنکار کے تخلیقی عمل اور اس کے پیغام کو سمجھنے کا نام ہے۔" شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ "کلام کی لطافت اور فن کی نزاکت کو وہی پہچان سکتا ہے جو خود اس کی روح سے آشنا ہو۔" لہٰذا اچھی ادبی و فنی تنقید کا کام صرف رائے دینا نہیں، بلکہ فن کے بنیادی ڈھانچے اور علامتی نظام کو کھولنا ہے۔یہ تنقید معروضیت، تحقیقی رویے اور معیاری پیمانوں پر مبنی ہوتی ہے، جو نہ صرف فنکار کے ارادوں کو سمجھتی ہے بلکہ اس کے وسیع تر ثقافتی اثرات کو بھی روشن کرتی ہے۔ نہ صرف فن کے ظاہری حسن بلکہ اس کے باطنی حقائق کو بھی سامنے لاتی ہے، اور یہ کام معروضیت، گہری تحقیق اور فنی بصیرت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہر علم و فن کے آگے بڑھنے میں اس تنقید کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی سے تحقیق کا رجحان جنم لیتا ہے۔ 
تنقید کی حدود و شرائط:
1۔ منصفانہ ہو:
تنقید کرتے وقت انصاف سے کام لینا چاہیے، جس میں صرف کمزوریوں کی نشاندہی ہی نہ کی جائے بلکہ خوبیوں کو بھی سراہا جائے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور انصاف کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ" (النحل:90)، یعنی اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی متوازن رویہ اپنانے کی تلقین فرمائی: "انْصِفُوا بَيْنَ الْأَوْلَادِ حَتَّى فِي الْقُبْلَةِ" (سنن ابن ماجہ)، یعنی اولاد کے درمیان انصاف کرو، یہاں تک کہ پیار کرنے میں بھی۔ 
 احادیث میں بھی اس اصول پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام علیؑ فرماتے ہیں: "مَنْ قَوَّمَ أَخَاهُ فِي مَلَأٍ فَقَدْ هَانَهُ" (غرر الحکم)، یعنی جو شخص کسی کی برائیوں کو ملائے عام میں درست کرے، اس نے اسے ذلیل کیا۔ لہٰذا، تنقید کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ کمزوریوں کو نرمی سے بتایا جائے اور خوبیوں کو بھی تسلیم کیا جائے، تاکہ اصلاح کا مقصد پورا ہو سکے۔
2۔ مدلل ہو:
بغیر دلیل کے تنقید کرنا بے وزن اور غیر مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ حقائق، مثالوں اور منطقی دلائل کے بغیر رائے کا کوئی علمی وزن نہیں ہوتا۔ 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دلیل اور برہان کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ"(البقرہ:111)، یعنی اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔ 
رسول اللہ ﷺ نے بھی فرمایا: "إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَصْدَقُهُ" (صحیح مسلم)، یعنی اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ بات وہ ہے جو سچی ہو۔ 
 احادیث میں بھی اس اصول پر زور دیا گیا ہے، جیسے امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "مَنْ تَكَلَّمَ بِغَيْرِ بُرْهَانٍ فَقَدْ تَكَلَّفَ مَا لَيْسَ لَهُ" (الکافی)، یعنی جو شخص بغیر دلیل کے بولتا ہے وہ ایسی چیز کا متکلم ہے جو اس کے لیے نہیں۔ 
لہٰذا، تنقید کرتے وقت دلیل اور منطق کو ساتھ رکھنا چاہیے تاکہ بات وزنی اور مؤثر ہو سکے۔
3۔ شائستگی کے ساتھ ہو:
تنقید کے لیے الفاظ کا محتاط انتخاب ضروری ہے، کیونکہ تنقید کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے نہ کہ ذاتی حملہ۔ 
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے نرم گفتاری کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا" (البقرہ:83)، یعنی لوگوں سے اچھی بات کہو۔ ایک اور مقام پر ہے یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَیٰ أَن یَکُونُوا خَیْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَیٰ أَن یَکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ، (الحجرات)، یعنی اے ایمان والو! نہ تو کوئی قوم کسی قوم کا مذاق اڑائے، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔یہ آیت تنقید کو تحقیر آمیز انداز میں کرنے سے منع کرتی ہے۔
سورۃ طہ (20:44) میں حضرت موسیٰؑ کو فرعون سے بھی نرمی سے بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَیٰ، یعنی پھر اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔ یہ آیت دوسروں کو شائستگی سے تنقید کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔  
رسول اللہﷺ نے بھی فرمایا: "لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ"(سنن ترمذی)، یعنی مومن طعنہ زن، لعنت کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا۔ 
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:"إِذَا قُلْتَ فِی أَخِیکَ الْمُؤْمِنِ مَا لَا یَعْلَمُهُ، فَقَدْ هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَهُ"(وسائل الشیعۃ، ج 12، ص 286)، یعنی جب تم اپنے مؤمن بھائی کے بارے میں وہ بات کہو جو وہ نہیں جانتا، تو تم خود بھی ہلاک ہو گئے اور اسے بھی ہلاک کر دیا۔لہٰذا تنقید کرتے وقت الفاظ کا انتخاب اس طرح ہو کہ بات اصلاح تک پہنچے نہ کہ تعلقات خراب ہوں، کیونکہ حکمت اور نرمی ہی مؤمن کا شیوہ ہے۔
4۔ مقصد واضح ہو:
تنقید کا مقصد صرف اور صرف بہتری ہونا چاہیے، نہ کہ کسی کو ذلیل کرنا یا نیچا دکھانا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "وَالْعَصْرِ۔ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ" (سورۃ العصر)، زمانے کی قسم، انسان گھاٹے میں سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک کام کیے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "الدِّينُ النَّصِيحَةُ" (صحیح مسلم)، یعنی دین خیرخواہی کا نام ہے۔ 
 احادیث میں امام علی علیہ السلام کا فرمان ہے: "مَنْ نَصَحَ أَخَاهُ فِي السِّرِّ فَقَدْ زَانَهُ، وَمَنْ نَصَحَهُ فِي الْعَلَانِيَةِ فَقَدْ شَانَهُ" (غرر الحکم)، یعنی جو راز میں نصیحت کرے اس نے اپنے بھائی کو آراستہ کیا، اور جو علانیہ نصیحت کرے اس نے اسے بدصورت بنایا۔ 
لہٰذا تنقید کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نرمی اور حکمت سے کام لیتے ہوئے بہتری کی نیت سے رہنمائی کی جائے، کیونکہ یہی اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہے۔
5۔ موقع و محل کا خیال رکھا جائے:
تنقید کرتے وقت موقع و محل کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات خاموش رہنا ہی زیادہ حکمت آمیز ہوتا ہے۔ 
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حکمت سے بات کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: "ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ" (النحل:125)، یعنی اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔ 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ" (صحیح بخاری و مسلم)، جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ 
 روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "الصَّمْتُ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْحِكْمَةِ، إِنَّ الصَّمْتَ يُكْسِبُ الْمَحَبَّةَ، إِنَّهُ دَلِيلٌ عَلَى كُلِّ خَيْرٍ" (الکافی)، یعنی خاموشی حکمت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، خاموشی محبت کا باعث بنتی ہے اور ہر خیر کی دلیل ہے۔ لہٰذا، تنقید کے لیے مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے، کیونکہ بے موقع تنقید مفید بجائے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ہمارا معاشرہ تنقید کو کیوں پسند نہیں کرتا؟ 
اس سوال کا جواب کئی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی عوامل میں چھپا ہے۔ ذیل میں کچھ اہم وجوہات پر بات کرتے ہیں:
1۔ ثقافتی روایات اور احترام کا تصور
بہت سے مشرقی معاشروں میں بزرگوں، رہنماؤں یا روایات کی تنقید کو بے ادبی سمجھا جاتا ہے۔ حفظ مراتب (Hierarchy) کا خیال گہرا ہونے کی وجہ سے لوگ تنقید کو اختیار کی خلاف ورزی تصور کرتے ہیں۔
2۔ ذاتیات پر تنقید کو اپنے وجود پر حملہ سمجھنا
ہمارے ہاں تنقید کو شخصیت کے خلاف لیے بغیر کام یا خیال پر تنقید کو الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کے کام پر تنقید کی جائے، تو وہ شخص اسے ذاتی توہین سمجھنے لگتا ہے۔
3۔ خوف کا عنصر  
 تنقید کرنے والے کو اکثر منفی ردعمل کا خوف ہوتا ہے، جیسے: سماجی بائیکاٹ، نوکری یا تعلقات کو خطرہ، جسمانی یا زبانی تشدد۔ یہ خوف لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
4۔ تعمیری تنقید کی کمی  
ہمارے ہاں تنقید اکثر تنقید برائے تنقید ہوتی ہے، جس میں مسائل کی نشاندہی تو ہوتی ہے، لیکن حل پیش نہیں کیا جاتا۔ تعمیری انداز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ تنقید کو منفی سمجھنے لگتے ہیں۔
5۔ گروہ بندی اور سیاسی/مذہبی تفریق اگر تنقید کسی خاص گروہ، سیاسی جماعت یا مذہبی عقیدے سے ٹکراتی ہو، تو اسے گروہی دشمنی قرار دے کر رد کر دیا جاتا ہے۔  مثال: "یہ تو ہمارے مخالفین کا پراپیگنڈہ ہے!"
6۔ اعتماد کی کمی  
جب معاشرے میں باہمی اعتماد کم ہو، تو تنقید کو ڈاؤن سائز کرنے یا بدنام کرنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ تنقید کرنے والا ان کی کامیابی سے حسد کر رہا ہے۔
7۔ تعلیمی نظام میں تنقیدی سوچ کی کمی
ہمارا تعلیمی نظام اکثر رٹہ یادداشت پر زور دیتا ہے، جبکہ تنقیدی تجزیہ (Critical Analysis) کو فروغ نہیں دیا جاتا۔ نتیجتاً، لوگ تنقید کو منفی رویہ سمجھتے ہیں نہ کہ بہتری کا ذریعہ۔
معاشرے میں تنقید کو مثبت انداز میں اپنانا کے لئے کیا کیا جائے؟:  
1- تنقید کو ذاتی نہ لیا جائے بلکہ خیالات یا کاموں پر مرکوز رکھا جائے۔
2- تعمیری تنقید کو فروغ دیا جائے، جس میں مسئلہ بتانے کے ساتھ حل بھی پیش کیا جائے۔  
3- تنقیدی سوچ (Critical Thinking) کو تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔  
4-لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ تنقید نفرت نہیں، بلکہ بہتری کی خواہش ہے۔  
آخر میں، ایک مشہور قول نقل کرتے ہیں:  
"جو معاشرہ تنقید کو برداشت نہیں کرتا، وہ ترقی نہیں کر سکتا۔"

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...