تاریخ کا عنوان بننے والے لوگ:
تحریرابوذر غفاری متعلم جامعۃ الرضا اسلام آبا دشعبہ تحقیق :
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے پاس سب کچھ موجود ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ خود کو ان سے مستفید نہیں کرتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہزاروں افراد میں صرف چند ایسے ہوتے ہیں جنہیں تاریخ محفوظ رکھتی ہے، باقی وقت کی موجوں کے ساتھ بہہ جاتے ہیں۔
سمندر کو ہی دیکھ لیجیے، جو بظاہر صرف پانی لگتا ہے، لیکن اس میں حیوانات، نباتات اور جمادات بھی موجود ہیں۔ اس وسیع سمندر میں ایک نایاب شے وہ موتی ہے جو ہزاروں میٹر گہرائی سے اُبھر کر بارش کے ایک قطرے کو اپنے اندر جذب کرتا ہے اور پھر دوبارہ گہرائی میں واپس لوٹتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ راستہ کتنا دشوار ہے، مگر وہ اپنا مقصد نہیں بھولتا۔
صدف مچھلی کی زندگی اسی جدوجہد کا نام ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ مخلوق گہرائی سے سطح تک آتی ہے۔ راستے میں کئی ہمت ہار جاتی ہیں، کچھ بڑی مچھلیوں کا شکار بن جاتی ہیں، لیکن چند ایک اپنی منزل تک پہنچ کر بارش کا قطرہ سمیٹتی ہیں اور پھر اسی ہمت کے ساتھ واپس لوٹتی ہیں۔ ان میں سے بھی اکثر راستے میں ہار مان لیتی ہیں، صرف چند ہی اپنی محنت کے بل بوتے پر گہرائی تک واپس پہنچتی ہیں اور یوں ایک نایاب اور قیمتی موتی میں ڈھل جاتی ہیں۔
سوال یہ ہے: اتنے وسیع سمندر میں یہی چند کیوں قیمتی ٹھہرتی ہیں؟اس کا جواب واضح ہے: مقصد کی پہچان، ہمت، استقلال اور مسلسل جدوجہد۔
یہی مثال انسان پر بھی صادق آتی ہے، بلکہ انسان کا امتحان کہیں زیادہ سخت ہے۔ صدف کا مقصد واضح اور سادہ ہے، مگر انسان کے مقاصد مختلف، متنوع اور پیچیدہ ہیں۔ انسانوں کی تعداد اربوں میں ہے، ان کے عقائد، افکار، مذاہب، تمدن، طرزِ حیات سب الگ الگ ہیں، مگر ایک بات سب میں مشترک ہے: موت اور فناء۔
یہاں چند اہم سوالات جنم لیتے ہیں:
اگر مرنا ہی ہے تو یہ دنیا کیوں بنائی گئی؟
یہ دنیا ابدی کیوں نہیں؟
دنیا کے بعد کیا ہوگا؟
انسان کا اصلی مقصد کیا ہے؟ اور منزل کب ملے گی؟
(ان سوالات کے جوابات آئندہ کسی مفصل تحریر میں پیش کیے جائیں گے۔)
صدف کی طرح انسان کا بھی ایک اعلیٰ مقصد ہے، مگر انسان کی جہالت، غفلت یا سستی اسے اس مقصد سے غافل رکھتی ہے۔ کچھ جانتے ہیں، مگر عمل نہیں کرتے۔ کچھ راستے میں ہمت ہار دیتے ہیں۔ کچھ دوسروں کے طعنوں، رکاوٹوں یا حسد کا شکار ہو جاتے ہیں۔انسانی ترقی کا پہلا سنگِ میل: اپنے مقصد کا تعین ہے۔
یہ تعین کہاں سے ہوتا ہے؟گھر اور معاشرہ انسان کے مزاج، رجحان اور راستے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اگر معاشرہ پڑھا لکھا ہو، تہذیب یافتہ ہو تو انسان بھی سدھرتا ہے، ورنہ بگاڑ کی راہ اختیار کرتا ہے۔
انسان کے ہدف میں رکاوٹ صرف دوسروں کی مخالفت ہی نہیں، بلکہ اکثر اس کی اپنی سستی، غفلت، یا خوف ہوتا ہے۔ حالانکہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی صلاحیت موجود ہے۔ اگر وہ اسے پہچانے، نکھارے اور اس پر استقامت سے قائم رہے، تو وہ بھی ایک نایاب موتی بن سکتا ہے، ورنہ وقت اسے بےنام و نشان بنا دیتا ہے۔یہ تو صرف ایک تمہید تھی…تفصیلات، سوالات کے جوابات اور مزید نکات آئندہ پیش کیے جائیں گے۔
جامعۃ الرضا اسلام آباد شعبہ تحقیق








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں