اللہ کے نیک بندے ذمہ داریوں کو خود قبول کرتے ہیں، وہ ان سے بھاگتے نہیں۔ حجۃ الاسلام پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب۔ جامعۃ الرضا میں اسلام میں مدیریت کی اہمیت پر ہفتہ واردرسِ اخلاق کا انعقاد
اگر نیک اور اہل لوگ مدیریت و مسئولیت سے فرار کریں گے تو کبھی اصلاح نہیں ہو گی۔ مدیر دوسروں کے لیے نمونۂ عمل ہوتا ہے۔ دنیا پرستوں کو عہدے اور منصب کا لالچ ہوتا ہے جبکہ نیک لوگ ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے مسئولیت و مدیریت کو قبول کرتے ہیں۔مدیریت انسان میں توفیقِ اجباری پیدا کرتی ہے، یعنی انسان خود کو بہتر بنانے پر مجبور ہوتا ہے۔ طلبا کو چاہیے کہ وہ علم کو عمل میں ڈھال کر اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے لیے ایک بہترین مثال بنیں۔ہمیں عہدہ طلب نہیں، قبول کرنا چاہیے۔منصب کے لالچ میں نہیں آنا چاہیے؛ ہمیشہ قیادت صرف خدمت و ذمہ داری کے لیے قبول کی جائے۔
رپورٹ واصف رضا :
متعلم جامعۃ الرضا اسلام اباد:
بروز جمعرات، مورخہ 22 مئی 2025 کو جامعہ الرضا میں سلام آباد میں اسلام میں مدیریت کی اہمیت کے عنوان پر حجۃ الاسلام پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب نے درسِ اخلاق دیا۔اس درس میں مولانا موصوف نے سورۃ الفرقان کی آیت نمبر 74 اور سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 124 کی روشنی میں اسلام میں مدیریت (قیادت و ذمہ داری) کی اہمیت کو واضح فرمایا۔
آپ نے کہا کہ "امام" کا مطلب ہے: دوسروں کے لیے نمونۂ عمل بننا۔یعنی اسلام میں قیادت صرف حکم دینے کا نام نہیں، بلکہ عملی نمونہ بننے کا تقاضا کرتی ہے۔اسی طرح آپ نے یہ بھی وضاحت کی کہ اللہ کے نیک بندے جاہ و منصب کے لالچ سے گریز کرتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنےکیلئے آگے بڑھتے ہیں جب کہ دنیا دار لوگ قیادت اور عہدے کے طلبگار ہوتے ہیں۔آپ نے طلبا کو سمجھایا کہ اسلامی تصورِ قیادت میں عہدہ خود طلب نہیں کیا جاتا، بلکہ ذمہ داری کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بہت احسن انداز میں اس پر روشنی ڈالی کہ مدیریت انسان میں توفیقِ اجباری پیدا کرتی ہے۔ یعنی مسئولیت انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ خود کو عملی طور پر بہتر بنائے۔ جو شخص مدیریت کی ذمہ داری قبول کرتا ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کردار و عمل کو دوسروں کے لیے معیار بنائے۔
انہوں نے طلبا سے کہا کہ منصب کے لالچ میں آگے نہ آئیں، بلکہ ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے آگے آئیں۔انہوں نے کہا کہ مسئولیت بطورِ عہدہ طلب نہیں کی جاتی، بلکہ قبول کی جاتی ہے جب اس کا مقصد خدمت ہو، نہ کہ شہرت و مفاد۔
اس موقع پر یہ نکتہ بھی روشن ہوا کہ طالبِ علمی بذاتِ خود ایک بڑی ذمہ داری ہے، کیونکہ ہم جس مقصد کے تحت مدرسے میں آئے ہیں، اسے عملی میدان میں دکھانے کے لیے ہمارے عزیز و اقارب ہماری طرف نگاہیں لگائے بیٹھے ہیں۔ علم حاصل کرنا محض ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی و دینی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے سورۃ البقرہ کی آیت 124 کے حوالے سے کہا ذمہ داریاں لینا 'عباد الرحمٰن' کی فطری خواہش ہوتی ہے۔یعنی حقیقی نیک لوگ مسئولیت کو امانت سمجھ کر قبول اور ادا کرتے ہیں، نہ کہ فخر و تکبر کے طور پر۔درس کے اختتام پر طلاب نے مختلف سوالات کیے، جن کے جوابات پروفیسر صاحب نے نہایت عمدہ اور مدلل انداز میں دئیے۔
آخر میں، انہوں نے خود بھی طلاب سے ایک سوال کیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو پہلے ہی نبی تھے، پھر انہیں امام کیوں بنایا گیا؟ یعنی نبی اور امام میں کیا فرق ہے؟ اس پر انہوں نے واضح کیا کہ نبی صرف خبر دیتا ہے، یعنی حکمِ الٰہی پہنچاتا ہے، لیکن امام اس حکم کو عملی میدان میں نافذ کرتا ہے اور اس پر عمل کر کے دکھاتا ہے۔ اسلام میں "نبی" اور "امام" کے درمیان فرق یہ ہے کہ نبی پیغام پہنچاتا ہے، جبکہ امام اس پیغام کا عملی نمونہ بن کر امت کی رہنمائی کرتا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں