زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 18 مئی، 2025

Indian Terrorism and Atrocities on Women in Occupied Kashmir: Dr. Nazir Hafi

اب بھارت سے صرف دہشت گردی اور مقبوضہ کشمیر پر ہی بات ہونی چاہیے
ڈاکٹر نذر حافی :
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل   فورم:
بھارت سے بڑا دہشت گردکون ہے؟ ۵ اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی حکومت (بی جے پی) نے پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 اور 35A کو یک طرفہ طور پر منسوخ کر دیا۔اس سے مقبوضہ کشمیر کا الگ آئین، جھنڈا اور قانون سازی کا اختیار سلب کر لیا گیا۔ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے کی اجازت مل گئی اور بھارتی قوانین براہِ راست مقبوضہ کشمیر میں نافذ کر دئیے گئے۔  سوال یہ ہے کہ اگر بھارتی حکومت مذکورہ آرٹیکلز کو منسوخ نہ کرتی تو کیا اس سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کچھ کم تھے؟
سچ تو یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں کئی سالوں سے بھارت کا اخلاقی دیوالیہ پن  سب کے سامنے عیاں ہے۔اس سے پہلے  بھی مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں فوجی تعینات تھے، آئے روز فوجی لاک ڈاؤن اور کرفیو کا دور دورہ تھا۔ مواصلاتی بلیک آؤٹ تو اُس سے بھی  پہلے کا ہے۔ انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورکس، حتیٰ کہ لینڈ لائن سروسز بھی مہینوں بند رہتی ہیں۔ سیاسی قیادت اور دیگر سینئر رہنماؤں کو حراست میں لینا، میڈیا پر قدغن، مقامی صحافیوں کو ہراساں کرنا اور سینسرشپ کا عائد ہونا کبھی رُکا نہیں۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی سرزمین پر بھارتی افواج کا قبضہ، غیر کشمیریوں کو زمین خریدنے کی اجازت اور ڈیموگرافک تبدیلی کو یقینی بنانا، یہ ہر دور کی بھارتی حکومت کا وطیرہ رہا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور مقبوضہ کشمیر کے آبی ذخائر پر ناجائز قبضہ کر کے پاکستان کا پانی بند کرنا یہ بھی کوئی آج کی دہشت گردی نہیں۔اقوام متحدہ نے بھارتی دہشت گردی کے خلاف  کبھی تشویش کے اظہار کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی محدود پیمانے پر جو رپورٹس جاری کیں، وہ بھی بھارت  جیسے دہشت گرد نے نظر انداز کر دیں۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی ہمیشہ ایسے اقدامات کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار  دینے تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھا۔ 
خیر پاکستان و بھارت کو ایک طرف رہنے دیجئے۔ مقبوضہ کشمیر میں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) 1990 اور دیگر کالے قوانین مودی سے بہت پہلے کے زمانے سے  مقبوضہ کشمیر میں رائج ہیں۔ ان قوانین کے باعث بغیر وارنٹ گرفتاری، اچانک فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کی اجازت، عدالتی کارروائی سے استثنائی قتل و اغوا کا ایک لامتناہی سلسلہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے۔ بھارت کی دہشت گرد قابض فورسز کے ہاتھوں پیلٹ گنز (چھرے والی بندوقیں) کے استعمال سے سینکڑوں کشمیری اندھے ہو  چکے ہیں اور   ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے  اور بے شمار خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے۔
اس وقت مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف بڑے پیمانے پر سیاسی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، بلکہ حالیہ مہینوں  میں ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ سامنے آیا ہے جس کی  طرف عالمی میڈیا نے توجہ نہیں دی۔ مودی حکومت نے کشمیر کی تاریخ میں سفاکیت کے ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے۔  آزاد کشمیر کی جن خواتین کی مقبوضہ کشمیر میں شادیاں ہوئی تھیں مودی سرکار نے اُن  شادی شدہ کشمیری خواتین کو مقبوضہ کشمیر سے بے دخل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ 
حقیقتِ حال یہ ہے کہ بارڈر کے دونوں طرف کشمیری آپس میں رشتہ داریاں رکھتے ہیں اور ان کی آپس میں شادیاں ریاستی قانون کے مطابق ہوتی رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مردوں سے شادیاں کرنے والی خواتین کو جبری طور پر اپنے بچوں اور شوہروں سے الگ کرنے کی اجازت نہ تو کوئی قانون دیتا ہے اور نہ ہی مذہب۔ کثیر تعداد میں ایسی خواتین کو بھارت نے واپس آزاد کشمیر جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔ کئی خواتین اس وقت بھارت کی جیلوں میں بند ہیں یا انہیں ڈی پورٹیشن مراکز میں رکھا گیا ہے یا پھر وہ لاپتہ کر دی گئی ہیں۔ بعض کیسز میں مقامی انتہا پسند ہندو گروپوں نے خواتین کو زبردستی گھروں سے نکالا اور آرمڈ فورسز کی آشیرباد سے انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔
کچھ خواتین نے عدالتوں سے رجوع کیا، مگر قومی سلامتی کے نام پر ان کی فریاد سنی نہیں گئی۔ یہی بھارت اور مودی کا اصلی چہرہ ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے محدود سطح پر آواز اٹھائی، مگر بھارت نے اسے ’’داخلی مسئلہ‘‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیا۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام اس  دُکھ سے بالکل الگ تھلگ ہے، لوگ  اسی میں خوش ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے پچیس اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور سات جہازوں کو تباہ کر دیا۔ گویا جنگیں صرف فوجی میدانوں میں جیتی جاتی ہیں۔  ہماری توجہ مقبوضہ کشمیر میں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالی پر ہے ہی نہیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیری خواتین کے حقوق کی پامالی صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے جو انسانی وقار اور آزادی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ لہٰذا، اگر بھارت ماتا کو ان خواتین کا وجود اتنا ناگوار گزرتا ہے، تو انہیں ایک موقع فراہم کیا جائے کہ وہ باعزت طریقے سے اپنے وطن (آزاد کشمیر) واپس لوٹ سکیں۔
اگر انہیں واپسی کا موقع نہیں دیا جاتا تو ہم  انسانی بنیادوں پر مطالبہ کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو وہاں مستقل رہائش، شہریت یا خصوصی قانونی تحفظ دیا جائے، کیونکہ ان کے حقوق کو نظر انداز کرنا صرف ظلم نہیں، بلکہ  ایک عسکری،   اخلاقی اور قانونی دہشت گردی  ہے۔ ہندوستان و پاکستان  دونوں طرف کے عوام اور عالمی برادری  کو یہ سمجھنا چاہیے  کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا مطلب صرف زمین کی آزادی نہیں، بلکہ کشمیر میں بسنے والے  انسانوں کی عزت، آبرو اور زندگیوں کا بھارتی فورسز کی دہشت گردی سے تحفظ ہے۔  کشمیریوں کی جدوجہد  صرف  کشمیر کی جغرافیائی خودمختاری کے لیے نہیں، بلکہ انسانی حقوق اور کرامت کے تحفظ کے لیے ہے۔ بھارت سے بات چیت اب صرف دہشت گردی کے موضوع پر ہونی چاہیے، تاکہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ظلم کا خاتمہ ہو اور کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں۔ عالمی برادری کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم  انسانیت کے خلاف بھارتی دہشت گردی  کو روکا جا سکے۔ میرا تمام منصف مزاج ہندوستانیوں سے بھی یہ خصوصی طورپر مطالبہ ہے کہ بھارت ماتا کے نام پر  سیاست نہیں انسانیت بچائیں۔ اب بھارت سے  بھارت کے اندر اور باہر ہر فورم پر بات صرف اور صرف  دہشت گردی کے موضوع پر ہی ہونی چاہیے، جی ہاں !بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی دہشت گردی۔۔۔ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...