زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 2 جون، 2025

3 جون ۔۔۔تیرے قدموں کے نشاں دل میں ہیں Your footprints are in my heart.

 3 جون ۔۔۔ تیرے قدموں کے نشاں دل میں ہیں 
ڈاکٹر  نذر حافی :
 Your footprints are in my heart.
ایرانی کیلنڈر کے مطابق  ۱۳خرداد ۱۳۶۸،  بمطابق ۳ جون  ۱۹۸۹کو حضرت امام خمینی ؒنے وصال فرمایا۔ تشیع و تدفین  ۱۶ خرداد  بمطابق ۶ جون کو ہوئی۔ تاریخ اُن لمحات کو فراموش کرنے سے عاجز ہے۔ ایسے لمحات  محض زمان و مکان  اور جذبات کے اتفاقات نہیں ہوتے۔ ایسے لمحات کو  کسی قوم، نسل یا مسلک سے  بھی نہیں باندھا جا سکتا۔  ۳ جون کو ہر طرف پھیلنے والا غم و اندوہ  کیا وہ محض ایک قومی تحرک تھا یا ایک عالمی صدائے فہم؟
ہم کبھی بھی ۳ جون کے ظاہری مظاہر پر اکتفا نہیں کر سکتے ۔ ہمیں حضرت امام خمینی ؒ کے تابوت کے پس منظر میں موجود ان تصوراتِ عقلیہ پر بھی غور کرنا ہوگا جن کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں۔ امام خمینیؒ کے وصال کے روز  جو  گریہ و آہ و بکا کی جو بھی صدا بلند ہوئی، کیا وہ فقط ایرانی  انقلابیوں کی بازگشت تھی، یا وہ "نوائے دلِ عارف" تھی جو ہر اس دل میں گونجتی ہے جسے مظلوم سے محبت ہو۔ کیا حضرت امام خمینی ؒ کا انقلاب فقط ایرانیوں کیلئے ہی تھا اور اس وقت  دنیا میں  فقط ایرانی ہی مظلوم تھے؟ 
یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے  اسلامی  انقلاب کو فقط برانڈ بنا دیا ہےجن لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی انہوں نے در اصل اسلامی  انقلاب کے مقصد  کو صرف کسی، مسلک ،  تنظیم ، جغرافئے یا طبقے  تک محدود سمجھا ہے۔
یہی  وہ طبقہ ہے جس نے "انقلاب" کو ایک مفید تجارتی استعارہ بنا دیا۔ نعرے باقی ہیں، مگر نظریہ معدوم۔ ان کے ہاں "ولایت فقیہ" محض ایک ادارہ جاتی ضرورت ہے، نہ کہ وہ عارفانہ و حکیمانہ فکر جو عوامی شرکت، عدلِ اجتماعی اور تدبیرِ الٰہی پر مبنی ہو۔ ان کے نزدیک امامؒ ایک شخصیت ہیں، ایک تجریدی مرجع، نہ کہ ایک زندہ فکری تحریک۔
یہ وہ اذہان ہیں جنہوں نے ہر اسلامی انقلاب کے معارف کو تعصب کی صلیب پر چڑھا رکھا ہے۔ اسلامی انقلاب ان کے نزدیک فقط ایک مکتب کی بات ہے۔ وہ یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ امام خمینیؒ نے  اپنے انقلاب سے کسی دوسرے مکتب کو  نہیں بلکہ استعمار کو چیلنج کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی سوچ نہ قابلِ عمل ہے اور  نہ  ہی  اسلامی انقلاب کے اصولوں سے ہم آہنگ۔
ایسے  افراد کی بھی کمی نہیں  جن کے قلوب میں امامؒ کی محبت تو ہے، مگر ان کی عقل اس محبت کے مغز تک رسائی نہیں رکھتی۔ ان کے لیے امامؒ ایک ولی ہیں، مگر  ایسے لوگ  ولایت کی شعوری اور تدبیری پرتوں سے اجنبی ہیں۔ وہ  اسلامی انقلاب کی مالا تو جھپتے  ہیں، مگر اس انتظار کی زمانی و مکانی آفاقیت  کو سمجھے بغیر۔
وہ  اسلامی انقلاب سے  محض اقتدار کی تبدیلی تک آشنا ہیں۔  وہ اس فکری بیداری سے محروم ہیں کہ جس نے  اسلامی دنیا کو عبادت گاہ سے نکال کر سوسائٹی، معیشت، سیاست اور عالمی دنیا کے دائرے میں منفرد حیثیت سے  کھڑا کیا ۔وہ شعورِ انقلاب کہ جس نے بندگی کو صرف روحانی کیفیت نہیں، بلکہ ایک سماجی فریضہ قرار دیا۔ایسا شعورِ انقلاب کہ جس نے  رائےِ عامہ اور حاکمیتِ الٰہی کے درمیان وہ پل تعمیر کیا جو انسان کے تصورِ خود مختاری اور اسلامی توحید کی وحدت  کا شہکارہے۔
ایسا شعور جو  ایک ایسی امت کی تشکیل کا داعی ہے جو رنگ، نسل، مسلک، زبردستی بیعت  اور جغرافیے سے آزاد ہے۔ ایساشعورِ توحید کہ جو  وحدت  کے بیج  انسان کے اندر سے  بوتا ہے، اور ہر تفریق کو عبور کر کے ایک سماجی و سیاسی  ہم آہنگی کو جنم دیتاہے۔ایسا شعورِ انقلاب کہ جو  مہدویت کو انتظارِ ساکت سے نکال کر عملِ متحرک میں بدل دیتا ہے۔ جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انتظار، اگر عمل نہ بنے، تو وسوسہ بن جاتا ہے۔
حضرت امام خمینی ؒ نے مزاحمت کے مفہوم کو محض عسکری جدوجہد نہیں، بلکہ علم، شعور، اخلاق اور تدبر کی شکل دی۔ اورمظلوم انسانوں کو اپنے فہم سے استفادہ کرنے کی جرأت بخشی۔ انہوں نے انقلاب سے کسی کے علمی و    فکری  اختلاف کو انقلاب سے انکار نہیں سمجھا  بلکہ  تبیین اورمکالمے کے ذریعے تطہیرِ اذہان کا دروازہ کھلا رکھا۔ انہوں نے عملا یہ سکھایا کہ  وہ اختلاف جو دلیل، اخلاق اور گہری سوچ  سے جنم لے، وہی  انقلابی ارتقا کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہر سال ۳  جون کا دن ہمیں یہ سمجھانے کیلئے آتا ہے کہ  اسلامی انقلاب ایک لمحہ نہیں، ایک مسلسل مکالمہ ہے۔  یہ مکالمہ عقل و روح کے درمیان، تقدیر و تدبیر  کے مابین، ذات و کائنات کے اندر ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ اگر یہ مکالمہ جاری رہے گا تو یہ انقلاب ہر اس انسان کی فکری اور قلبی صدا ہے جو ظلم سے بیزار اور حق کا متلاشی ہے۔۳ جون کا سورج طلوع ہوتے ہی  ہر صاحبِ ضمیر کو آواز دیتا ہے کہ  اُٹھ! اور اپنے فہم کے مطابق  اپنے اور مظلوموں کے حق کے لیے کھڑا ہو جا۔ وہ کشمیر ہو یا فلسطین، وہ یمن ہو یا قطیف۔۔۔ کہیں پر بھی پہلے دن علمی،  فکری و شعوری  انقلاب نہیں آتا لیکن ہر علمی،  فکری و شعوری  انقلاب  کا ایک  پہلا دن ضرور ہوتا ہے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...