3 جون ۔۔۔ تیرے قدموں کے نشاں دل میں ہیں
ایرانی کیلنڈر کے مطابق ۱۳خرداد ۱۳۶۸، بمطابق ۳ جون ۱۹۸۹کو حضرت امام خمینی ؒنے وصال فرمایا۔ تشیع و تدفین ۱۶ خرداد بمطابق ۶ جون کو ہوئی۔ تاریخ اُن لمحات کو فراموش کرنے سے عاجز ہے۔ ایسے لمحات محض زمان و مکان اور جذبات کے اتفاقات نہیں ہوتے۔ ایسے لمحات کو کسی قوم، نسل یا مسلک سے بھی نہیں باندھا جا سکتا۔ ۳ جون کو ہر طرف پھیلنے والا غم و اندوہ کیا وہ محض ایک قومی تحرک تھا یا ایک عالمی صدائے فہم؟
ہم کبھی بھی ۳ جون کے ظاہری مظاہر پر اکتفا نہیں کر سکتے ۔ ہمیں حضرت امام خمینی ؒ کے تابوت کے پس منظر میں موجود ان تصوراتِ عقلیہ پر بھی غور کرنا ہوگا جن کے بغیر شعور ممکن ہی نہیں۔ امام خمینیؒ کے وصال کے روز جو گریہ و آہ و بکا کی جو بھی صدا بلند ہوئی، کیا وہ فقط ایرانی انقلابیوں کی بازگشت تھی، یا وہ "نوائے دلِ عارف" تھی جو ہر اس دل میں گونجتی ہے جسے مظلوم سے محبت ہو۔ کیا حضرت امام خمینی ؒ کا انقلاب فقط ایرانیوں کیلئے ہی تھا اور اس وقت دنیا میں فقط ایرانی ہی مظلوم تھے؟
یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے اسلامی انقلاب کو فقط برانڈ بنا دیا ہےجن لوگوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی انہوں نے در اصل اسلامی انقلاب کے مقصد کو صرف کسی، مسلک ، تنظیم ، جغرافئے یا طبقے تک محدود سمجھا ہے۔
یہی وہ طبقہ ہے جس نے "انقلاب" کو ایک مفید تجارتی استعارہ بنا دیا۔ نعرے باقی ہیں، مگر نظریہ معدوم۔ ان کے ہاں "ولایت فقیہ" محض ایک ادارہ جاتی ضرورت ہے، نہ کہ وہ عارفانہ و حکیمانہ فکر جو عوامی شرکت، عدلِ اجتماعی اور تدبیرِ الٰہی پر مبنی ہو۔ ان کے نزدیک امامؒ ایک شخصیت ہیں، ایک تجریدی مرجع، نہ کہ ایک زندہ فکری تحریک۔
یہ وہ اذہان ہیں جنہوں نے ہر اسلامی انقلاب کے معارف کو تعصب کی صلیب پر چڑھا رکھا ہے۔ اسلامی انقلاب ان کے نزدیک فقط ایک مکتب کی بات ہے۔ وہ یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ امام خمینیؒ نے اپنے انقلاب سے کسی دوسرے مکتب کو نہیں بلکہ استعمار کو چیلنج کیا ہے۔ ایسے لوگوں کی سوچ نہ قابلِ عمل ہے اور نہ ہی اسلامی انقلاب کے اصولوں سے ہم آہنگ۔
ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جن کے قلوب میں امامؒ کی محبت تو ہے، مگر ان کی عقل اس محبت کے مغز تک رسائی نہیں رکھتی۔ ان کے لیے امامؒ ایک ولی ہیں، مگر ایسے لوگ ولایت کی شعوری اور تدبیری پرتوں سے اجنبی ہیں۔ وہ اسلامی انقلاب کی مالا تو جھپتے ہیں، مگر اس انتظار کی زمانی و مکانی آفاقیت کو سمجھے بغیر۔
وہ اسلامی انقلاب سے محض اقتدار کی تبدیلی تک آشنا ہیں۔ وہ اس فکری بیداری سے محروم ہیں کہ جس نے اسلامی دنیا کو عبادت گاہ سے نکال کر سوسائٹی، معیشت، سیاست اور عالمی دنیا کے دائرے میں منفرد حیثیت سے کھڑا کیا ۔وہ شعورِ انقلاب کہ جس نے بندگی کو صرف روحانی کیفیت نہیں، بلکہ ایک سماجی فریضہ قرار دیا۔ایسا شعورِ انقلاب کہ جس نے رائےِ عامہ اور حاکمیتِ الٰہی کے درمیان وہ پل تعمیر کیا جو انسان کے تصورِ خود مختاری اور اسلامی توحید کی وحدت کا شہکارہے۔
ایسا شعور جو ایک ایسی امت کی تشکیل کا داعی ہے جو رنگ، نسل، مسلک، زبردستی بیعت اور جغرافیے سے آزاد ہے۔ ایساشعورِ توحید کہ جو وحدت کے بیج انسان کے اندر سے بوتا ہے، اور ہر تفریق کو عبور کر کے ایک سماجی و سیاسی ہم آہنگی کو جنم دیتاہے۔ایسا شعورِ انقلاب کہ جو مہدویت کو انتظارِ ساکت سے نکال کر عملِ متحرک میں بدل دیتا ہے۔ جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انتظار، اگر عمل نہ بنے، تو وسوسہ بن جاتا ہے۔
حضرت امام خمینی ؒ نے مزاحمت کے مفہوم کو محض عسکری جدوجہد نہیں، بلکہ علم، شعور، اخلاق اور تدبر کی شکل دی۔ اورمظلوم انسانوں کو اپنے فہم سے استفادہ کرنے کی جرأت بخشی۔ انہوں نے انقلاب سے کسی کے علمی و فکری اختلاف کو انقلاب سے انکار نہیں سمجھا بلکہ تبیین اورمکالمے کے ذریعے تطہیرِ اذہان کا دروازہ کھلا رکھا۔ انہوں نے عملا یہ سکھایا کہ وہ اختلاف جو دلیل، اخلاق اور گہری سوچ سے جنم لے، وہی انقلابی ارتقا کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہر سال ۳ جون کا دن ہمیں یہ سمجھانے کیلئے آتا ہے کہ اسلامی انقلاب ایک لمحہ نہیں، ایک مسلسل مکالمہ ہے۔ یہ مکالمہ عقل و روح کے درمیان، تقدیر و تدبیر کے مابین، ذات و کائنات کے اندر ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ اگر یہ مکالمہ جاری رہے گا تو یہ انقلاب ہر اس انسان کی فکری اور قلبی صدا ہے جو ظلم سے بیزار اور حق کا متلاشی ہے۔۳ جون کا سورج طلوع ہوتے ہی ہر صاحبِ ضمیر کو آواز دیتا ہے کہ اُٹھ! اور اپنے فہم کے مطابق اپنے اور مظلوموں کے حق کے لیے کھڑا ہو جا۔ وہ کشمیر ہو یا فلسطین، وہ یمن ہو یا قطیف۔۔۔ کہیں پر بھی پہلے دن علمی، فکری و شعوری انقلاب نہیں آتا لیکن ہر علمی، فکری و شعوری انقلاب کا ایک پہلا دن ضرور ہوتا ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں