حضرت امام خمینیؒ کے نظریات اور سیکولرازم
تحریر: سید امتیاز علی رضوی:
سیکولرازم ایک ایسا سیاسی و سماجی تصور ہے جس میں مذہب کو ریاستی معاملات سے الگ رکھا جاتا ہے۔ امام خمینیؒ نے اپنی متعدد تحریروں اور تقریروں میں سیکولرزم کی شدید مخالفت کی اور اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ اس مضمون میں ہم امام خمینیؒ کے سیکولرزم کے بارے میں نظریات کا چند حوالوں کے ساتھ جائزہ پیش کریں گے۔
سیکولرزم (Secularism) کی تعریف کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ ریاست اور مذہب کی علیحدگی : سیکولرازم ایک ایسا نظام ہے جس میں ریاست اور مذہبی اداروں کے درمیان واضح علیحدگی ہوتی ہے۔ ریاست کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتا، اور مذہبی امور میں حکومت کا دخل نہیں ہوتا۔
2۔ مذہبی آزادی: سیکولر معاشروں میں تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے یا نہ کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔ کسی پر کوئی مذہب زبردستی نہیں تھوپا جاتا۔
3۔ مساوات: سیکولر ریاست تمام مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں، چاہے ان کا کوئی مذہب ہو یا نہ ہو۔
4۔ عقلیت اور سائنس کی بنیاد: سیکولر نظام میں قوانین اور پالیسیاں مذہبی تعلیمات کی بجائے عقلیت، انصاف اور سائنسی اصولوں پر بنائی جاتی ہیں۔
5۔ سیاست پر مذہب کا اثر نہ ہونا: سیکولرازم میں مذہبی رہنماﺅں کا سیاسی فیصلوں پر براہ راست اثر نہیں ہوتا، اور حکومت مذہبی گروہوں کے دباؤ سے آزاد ہوتی ہے۔
امام خمینیؒ کے بنیادی نظریات
سیکولرازم کے خلاف امام خمینی کے نظریات نہ صرف ایران کے اسلامی انقلاب کی بنیاد بنے بلکہ ان نظریات نے پوری اسلامی دنیا میں سیکولرازم کے خلاف ایک علمی محاذ کھول دیا۔ آپ کے یہ چند بنیادی نظریات یہاں ذکر کئے جا،رہے ہیں۔
1۔ اسلام ایک کامل نظام حیات:
امام خمینیؒ کا ماننا تھا کہ اسلام صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ یہ سیاست، معیشت، عدالتی نظام اور سماجی انصاف سب کا احاطہ کرتا ہے۔ قرآن و سنت میں حکومت چلانے کے واضح اصول موجود ہیں، لہٰذا اسلام کو سیاست سے الگ کرنا دین کو ناقص کرنے کے مترادف ہے۔
امام خمینیؒ "حکومت اسلامی" (ص 25) میں لکھتے ہیں:"اسلام سیاست سے جدا نہیں، بلکہ سیاست ہی اسلام کا ایک اہم حصہ ہے۔" امام خمینی یہ سمجھتے تھے کہ اسلام حکومت کا خود مختار نظام پیش کرتا ہے (حکومت اسلامی، ص 63)
2۔ ولایت فقیہ: اسلامی حکومت کا نظریہ:
امام خمینیؒ نے "ولایت فقیہ" کا نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق ایک عادل اور عالم فقیہ (مجتہد) ہی اسلامی معاشرے کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکولر حکومتیں اسلامی قوانین کو نظرانداز کرتی ہیں، جبکہ ولایت فقیہ کا نظام اسلام کی بالادستی کو یقینی بناتا ہے۔
عصر حاضر میں ولایت فقیہ ہی اسلامی معاشرے کا واحد راستہ ہے (ولایت فقیہ، ص 92)
ان کا بنیادی نظریہ "ولایت فقیہ" (خمینی، "حکومت اسلامی"، ص 52) میں ملتا ہے:"جب تک معصوم امامؑ موجود نہ ہوں، ایک مجتہد عادل ہی حکومت کا حق رکھتا ہے۔"
3۔ سیکولرازم مغربی استعماریت کا ہتھیار:
امام خمینیؒ کے مطابق، سیکولرازم درحقیقت مغربی طاقتوں کا ایک ہتھیار تھا جسے مسلم ممالک میں نافذ کرکے انہیں مذہب سے دور کرنا مقصود تھا۔ وہ کہتے تھے کہ استعمار نے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ "مذہب صرف ذاتی عقیدے تک محدود ہے"، جبکہ حقیقت میں اسلام ایک جامع نظامِ حکمرانی پیش کرتا ہے۔ "کشف الاسرار" (ص 184) میں لکھتے ہیں:
"مغرب کا سیکولر نظریہ درحقیقت دین کو معاشرے سے بے دخل کرنے کی سازش ہے۔"
ایک اور مقام پر آپ واضح کرتے ہیں کہ سیکولرازم مغربی استعمار کا ہتھیار ہے (کشف الاسرار، ص 201)
4۔ سیکولرازم اخلاقی انحطاط کا باعث:
امام خمینیؒ کے نزدیک، سیکولر معاشروں میں مذہب کی غیر موجودگی اخلاقی گراوٹ کا سبب بنتی ہے۔ انہوں نے مغربی تہذیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیکولرازم انسان کو مادیت پرستی کی طرف دھکیلتا ہے، جبکہ اسلام روحانی و اخلاقی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
5۔ اسلامی انقلاب کا مقصد: سیکولر حکومت کا خاتمہ:
1979ء کے ایرانی انقلاب کا بنیادی مقصد شاہ ایران کی سیکولر حکومت کا تختہ الٹنا اور ایک "اسلامی جمہوریہ" قائم کرنا تھا۔ امام خمینیؒ نے واضح کیا کہ ایران کی نئی حکومت کا آئین قرآن و سنت پر مبنی ہوگا، نہ کہ سیکولر اصولوں پر۔ 1970ء کی تقاریر میں آپ نے فرمایا: "سیکولر حکومتیں اسلامی قوانین کو معطل کرکے ظلم کی بنیاد رکھتی ہیں۔ "ولایت فقیہ"، ص 87
سیکولرازم کے خلاف امام خمینیؒ کی جدوجہد
امام خمینیؒ نے نہ صرف نظریاتی طور پر سیکولرازم کی مخالفت کی، بلکہ عملی طور پر بھی اس کے خلاف تحریک چلائی:
1۔ شاہ ایران کی سیکولر پالیسیوں کی مخالفت: شاہ ایران محمد رضا پہلوی نے مغربی طرز کی سیکولر اصلاحات نافذ کی تھیں، جس کے خلاف امام خمینیؒ نے عوامی حمایت حاصل کی۔ 15 خرداد 1342 (5 جون 1963) کے خطاب میں آپ نے فرمایا: "شاہ کی سیکولر پالیسیاں ایران کو اسلامی شناخت سے محروم کر رہی ہیں۔"صحیفہ امام، ج1، ص 312:2۔ اسلامی جمہوریہ کا قیام: انقلاب کے بعد نئے آئین میں اسلامی قوانین کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ 1979ء کے آئین کے آرٹیکل 2 میں واضح کیا گیا:"حکومت کا تمام نظام ولایت فقیہ کے تحت چلے گا۔"
3۔ مغربی ثقافت کی مخالفت: امام خمینیؒ نے مغربی ثقافت، میڈیا اور تعلیم کے اثرات کو ایران سے ختم کرنے کی کوشش کی۔1980ء میں ثقافتی انقلاب کونسل قائم ہونے والی اس کونسل کا مقصد تعلیمی نظام سے سیکولر عناصر کا خاتمہ تھا (صحیفہ امام، ج12، ص 431):
خلاصہ کلام
امام خمینیؒ سیکولرزم کو اسلام اور مسلم معاشروں کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ اسلام ایک جامع نظامِ زندگی ہے جس میں سیاست اور مذہب کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ولایت فقیہ کے نظریے کو فروغ دے کر ایک ایسی اسلامی حکومت قائم کی جو شریعت کے اصولوں پر مبنی تھی۔ آج بھی ایران کا نظامِ حکومت امام خمینیؒ کے انہی نظریات کی عکاسی کرتا ہے، جو سیکولرازم کے بجائے اسلام کی سیاسی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔
اسلامی دنیا میں سیکولرازم اور مذہبی ریاست کے درمیان بحث جاری ہے، لیکن امام خمینیؒ کا پیغام واضح ہے: "اسلام اور سیاست ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، اور انہیں جدا کرنا دین کو ناقص کرنے کے برابر ہے۔"








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں