زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 26 جون، 2025

The tradition of offering greetings with Muharram and the reality of the Islamic year

محرم الحرام کے ساتھ مبارکبادوں کا سلسلہ اور اسلامی سال کی حقیقت :
ڈاکٹر نذر حافی :
کچھ لوگ محرم الحرام کے ساتھ ہی اسلامی سال کے آغاز پر  مبارکبادوں کا سلسلہ شروع کرتے ہیں اور کچھ ان مبارکبادوں کی مخالفت۔لوگوں کی اکثریت معاملات کی   اصل کو نہیں جانتی بلکہ  اکثر لوگ  سائے کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔اسلامی سال کے  ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ہماری اکثریت کو معاشرے میں جو چیز رائج نظر آتی ہے وہ   بغیر کسی تحقیق کے اُسے ہی اسلامی سمجھ بیٹھتی ہے۔کیا ہجری سال واقعی "اسلامی" ہے؟  لوگوں نے بغیر کسی تحقیق کے پہلے سے ہی اس سوال کا جواب  ہاں تیار کر رکھا ہے۔ لوگ تحقیق کرنے کے بجائے  رسم و رواج اور رائج ہونا دیکھتے ہیں ، چنانچہ وہ یہ  نہیں جانتے کہ  رسول اللہ ﷺ  نے محرم الحرام  کے بجائے  ربیع الاوّل میں ہجرت  کی تھی۔ انسان کی معلومات  کی بنیاد  تحقیق و علم پر ہونی چاہیے۔ اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے والے یہ بھی نہیں جانتے کہ  قرآن مجید  یا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو ایک مخصوص کیلنڈر اپنانے کا حکم کبھی نہیں  دیا؟ جب قرآن و سُنت میں ایسا کچھ نہیں تو پھر کسی سال کو اسلامی کہنا کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟ کیا اسلامی ہونے کیلئے قرآن و سُنّت میں  حکم کا  ہونا لازمی نہیں؟  اس  معاملے میں لوگوں نے  حقیقت  کے بجائے سائے کو حق سمجھ رکھا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اور خلیفۂ اول کے دورِ خلافت میں وقت کا حساب اُسی طریقے سے کیا  جاتا تھا جو قریش کے ہاں زمانہ جاہلیّت میں  رائج تھا۔  موجوودہ ہجری سال کے مہینے، ان کے نام، ترتیب اور حرمت سب جاہلی عربوں کے نظام کا حصہ تھے، جنہیں قرآن نے بعض اصلاحات کے ساتھ برقرار رکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب خلیفہ دوّم  کے دور میں اسلامی سلطنت پھیلی، تو انتظامی تقاضوں کے پیش نظر ایک انتظامی  کیلنڈر مرتب کیا گیا۔یعنی اس کا حکم قرآن مجید یا سُنّت رسول میں نہیں ہے اور خلیفہ اوّل کے سارے عہد میں اسلامی سال کے نام والی کوئی چیز مسلمانوں میں رائج نہیں تھی۔
خلیفہ دوّم کے زمانے میں ہجری کیلنڈر کا مقصد مسلمانوں کے درمیان نئے اسلامی سال کا  عقیدہ  اختراع کرنا اور  مبارکبادیں دینا نہیں تھا بلکہ   یہ نظم و نسق  کیلئے ایک طریقہ اپنایا گیاتھا۔ قرآن و سُنّت اور عہدِ نبویؐ سے ہٹ کر جب کسی چیز کا مقصد صرف نظمِ د ضبط ہو تو اسے "اسلامی " بنا دیانا  ایک فکری مغالطہ ہے۔
اس فکری مغالطے کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ دینی علم وہ ہے جو وحی پر مبنی ہو، اور باقی علوم عقل و مشاہدے پر۔ ہجری کیلنڈر کا تعین چونکہ  محض  نظم و ضبط کی  ضرورت  تھا، اس لیے اس کا دینی ہونا تب ہی ممکن ہے جب قرآن یا سنت اس پر صریح رہنمائی کرے اور واضح حکم دے۔ لیکن ایسا کوئی حکم نہ قرآن میں موجود ہے، نہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں۔
قرآن نے عرب معاشرے میں رائج مہینوں کی تعداد، حرمت اور ترتیب کو اسی طرح قبول کیا ہے۔ چار مہینوں کو حرمت دی، اور مہینوں کو آگے پیچھے کرنے (نسیء) کو سختی سے منع کیا، تاکہ عبادات اور معاشرتی توازن بگڑ نہ جائے۔یہ سب خلیفہ دوّم کے عہد میں بھی کچھ عرصے تک جاری رہا۔اس کے بعد  مسلمان اپنے معاملات  اس ہجری کیلنڈر سے مرتب کرنے لگے جس  کا  آغاز بھی اس مہینے سے نہیں ہوتا  یعنی ربیع الاوّل سے نہیں ہوتا کہ جس میں رسول ؐ نے ہجرت کی تھی۔ یہ خود ایک تضاد ہے جسے جنتری کے اعتبار سے  کوئی شخص حل نہیں کر سکتا۔ مسلمانوں کے ہاں یہ کیلنڈر اسی طرح  اس تضاد کے ہمراہ رائج ہو گیا اور لوگوں نے اسے اسلامی کہنا شروع کر دیا۔ کیا کسی چیز کو  قرآن و سُنّت سے ہٹ کر صرف اس لیے "اسلامی" کہا جا سکتا ہے کہ اسے مسلمان صدیوں سے استعمال کرتے  چلے آ رہے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر ہجری کیلنڈر کی حقیقت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟
اسلامی تہذیب و تمدّن پر اس عدمِ آگاہی اور لاعلمی کے  اثرات  کو معمولی نہ لیجئے۔ یہ مبارکبادیں ایک تاریخ تضاد پر پردہ ڈالنے کیلئے ہیں ورنہ ہر باشعور انسان اس تضاد کو سمجھتا ہے۔ کیا کسی تضاد اور مغالطے کو دینی تقدس کا درجہ دینا یہ دین کے ساتھ نا انصافی اور ظلم نہیں؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس مثال پر بھی غور کرنا چاہیے جو مولوی عبدالکریم شعیب اور ان کی "786 جنتری" کی ہے۔ یہ ایک جنتری تھی جو انہوں نے 19ویں صدی کے اواخر میں برما میں جاری کی، جس میں 100 سال بعد مسلمانوں کے عروج کی پیشن گوئی شامل تھی۔ 1998ء میں اس پیشین گوئی کو ایک بودھ بھکشو نے سازش قرار دے کر "786" کو جہادی کوڈ سے تعبیر کیا، اور "969" کے کوڈ سے بدھ انتہا پسند تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس جنتری کا کوئی روحانی یا شرعی جواز نہ تھا، لیکن عوام نے اسے بھی "اسلامی" رنگ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ میانمار کے مسلمان آج بھی ظلم و استحصال کا شکار ہیں، اور ان کے خلاف یہ جنتری  میانمار پر قبضے کی سازش کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔
ہم سب کی اوّلین ذمہ داری ہے کہ جو چیزیں ہمیں فطری، عقیدتی یا مقدس نظر آتی ہیں،  ہم ان کے بارے میں تحقیق کریں کہ وہ دراصل کس بنیاد پر استوار ہیں۔ اگر ہجری کیلنڈر کی بنیاد ایک  انتظامی  فیصلہ تھا، تو اسے لوگوں سے چھپا کر  عقیدے کا درجہ تو نہیں دیا جانا چاہیے ۔ کیا ہم ہر ریاستی فیصلہ، جو مسلمانوں کے دورِ عروج میں ہوا ہو، عقیدے کا حصہ بنا لیں؟  کسی بھی قوم کا المیّہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں جاہل اکثریت فہیم اقلیت کو خاموش کر دے، اس  خاموشی سے  عقل، علم ، فہم  اور شعورکو جذبات، روایت اور شور میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ یا د رکھئے !سچ کی تلاش وہ سفر ہے جس میں انسان کو سب سے پہلے اپنے سائے سے نکلنا ہوتا ہے۔

 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...