محرم الحرام میں آنکھوں دیکھا ایک شرمناک واقعہ :
ڈاکٹر نقوی :
میں لکھنے سے بہت تنگ ہوتا ہوں، لیکن آج دوسری مرتبہ اس موضوع پر لکھنے بیٹھا ہوں۔ دوسری مرتبہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس محرم الحرام ۲۰۲۵ میں نے خود ایک ایسا منظر دیکھا کہ میرا سر شرم سے جھک گیا۔ میرے ہمسائے میں رہنے والے ایک عالمِ دین ہیں۔ ایک ہی گلی میں رہنے کی وجہ سے اکثر سلام دعا ہو جاتی ہے۔انہیں محرم الحرام کی کسی تاریخ کو مجلسِ عزا پڑھنے کیلئے ہمارے ملک کی ایک بڑی ہی انقلابی تنظیم نے نمازِ مغربین کے فورا بعد دعوت دی۔ آدھی رات کے وقت واپسی پر مولانا صاحب کو نیاز تک نہیں دی، واپس پہنچے تو انہوں نے رات گئے میرے مکان کی گھنٹی بجائی۔ گلی میں کھڑے کھڑے مجھ سے قرض لے کر گاڑی والے کو کرایہ دے کر رخصت کیا۔ یہ واقعہ صرف ایک فرد کی تکلیف نہیں، بلکہ بعض افراد کی طرف سے علمائے کرام کی قدر و منزلت کی توہین کا دردناک تسلسل ہے۔
یہ ایسے انقلابی مُصلح اور بانی مجالس ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی رپورٹ کیلئے مجلس کروا کر آگے رپورٹ بھیجنی اور پیسے اکٹھے کرنے ہوتے ہیں، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ آج کے دور میں ہماری مجالسِ عزا ہماری نسل کیلئے کتنی مفید ہے؟ کیا ہمارے دین میں علمائے کرام کا حق کھانا حرام نہیں ہے؟ ایسے لوگ علمائے کرام کا حق کھا کر ڈکار بھی نہیں مارتے۔ یہ مجالس عزا کو صرف دوسروں کو دکھانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں؟ اس مقدس فریضے کی قدر کر نا اور اس کے ذریعے امام حسینؑ کے پیغام کو زندہ رکھنا ان کا کام ہی نہیں۔ بانیان مجالس اور مذہبی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں: اگر علما کی تحقیر اور ناقدری کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہم اپنا علمی سرمایہ کھو دیں گے اور منبروں پر بندر ناچتے رہیں گے۔
یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو جھنجوڑیں، اور اپنی مجالس کے لیے ایسے علماء کا انتخاب کریں جو نہ صرف علم رکھتے ہوں بلکہ امام حسینؑ کے پیغام کو پوری بصیرت اور عقیدت کے ساتھ ہم تک پہنچائیں۔ ورنہ عزاداری کی اصل روح کھو جائے گی، اور ہمارے مقدس اجتماعات کا معیار پہلے سے ہی گرتا چلا جا رہا ہے۔
یہ حق ہر بانیِ مجلس کو حاصل ہے کہ وہ مجلس کے لیے بہترین عالمِ دین کا انتخاب کرے۔ بہترین عالم کا انتخاب کر کے اسے اس کے علم و محنت کا ہدیہ نہ دینا اور یا پھر غیر معقول حد تک کم نیاز دینا یہ شرفا کا کام نہیں۔ مجالسِ عزا کی روح اُس علم میں پوشیدہ ہے جو فکرِ حسینی کا ترجمان ہو۔ مگر آج یہ روح بھٹکتی نظر آتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے منبر کو کتنا مقدس جانا، اور اس کے وارث یعنی عالمِ دین کو کتنا سستا سمجھا۔
عالمِ دین کوئی سوداگر نہیں ہوتا کہ اپنے علم کی قیمت طے کرے، مگر وہ بے قیمت بھی نہیں ہوتا۔ وہ حسینی پیغام کو علم و بصیرت کی زبان میں ہم تک پہنچاتا ہے۔ جب ہم اسے چاول کی دیگ سے بھی کم اہمیت دیتے ہیں، تو یہ صرف اس کی نہیں، علم کی توہین ہے، جو کربلا کا اصل پیغام ہے۔کہنے کو ہم علم کو انسانی سعادت کی معراج کہتے ہیں، مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہم اسی علم کو مفت کا مال سمجھتے ہیں۔ ایک دیگ پر دس ہزار خرچ کرنا نیکی سمجھا جاتا ہے، اور ایک عالمِ دین کو نیاز دینے کو فضول خرچی۔
کیا یہ فکری زوال نہیں؟ کیا یہ بصیرت کی کوتاہی نہیں؟کیا حرام صرف سود ہے؟ کیا گناہ صرف ٹیکسی کا کرایہ نہ دینا ہے؟ کیا علم کے چراغ بجھا کر جہالت کا دھواں پھیلانا حرام نہیں؟
آج کے اکثر بانی حضرات صرف لنگر اور نوحہ کو عبادت سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک علم صرف روحانی لوگوں کیلئے ہے اور وہ تو روح کی غذا ہے لہذا عالم کو بھی صرف روحانی غذا ملنی چاہیے! گویا عالم کی زندگی اور اس کے گھر کا خرچ آسمان سے نازل ہوگا۔ یہ شیطانی فریب ہے، اور جہالت کی بدترین شکل۔ وہ عالم جو کربلا کے بیانیے کو افکار کی لڑی میں پروتا ہے، جو شہادتِ حسینؑ کو فکری بلندیوں سے جوڑتا ہے، جب واپسی پر خالی ہاتھ لوٹتا ہے، تو یہ صرف اُس کی نہیں بلکہ علم کے مقام کی توہین ہوہے۔یہ وہ المیہ ہے جسے کئی لوگ ہمارے ہاں دہراتے ہیں، اور پھر بھی دین و عزاداری کے خدمت گزار، بانی مجالس، انقلابی جوان وغیرہ وغیرہ کہلاتے ہیں۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ یا تو ہم علم کو حقیقتاً مرکزِ عزاداری مان لیں، یا پھر دیگ، سبیل، ماتم اور نوحے کو ہی کامل دین سمجھ لیں اور عالم کو رسمی تعویذ نویس یا مفت کا نقیب بنا کر چھوڑ دیں۔ بصورتِ دیگر، ہم ایک ایسے معاشرے کا سامنا کریں گے جس میں شہرِ علم کھنڈر ہو چکے ہوں گے، اور منبر پر گونجنے والی صدا محض انٹرٹینمنٹ اور تفریح کا ذریعہ ہوگی۔ یہ ہماری تنظیموں اور باشعور و موثر بزرگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ علمائے کرام کی قدرومنزلت کے حوالے سے اپنی قوم کی تربیّت کریں۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں