زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 31 جولائی، 2025

The true religion is a divine treasure درست مذہب ایک الٰہی خزانہ ہے

درست مذہب ایک الٰہی خزانہ ہے
بحوالہ خورشید احمد چوہان ایڈووکیٹ صاحب ساہیوال : 
تبصرہ  ڈاکٹر نذر حافی:
ظالم اور جابر کی پرستش بھی کچھ لوگوں کا مذہب ہے۔ کچھ کے بقول منصبِ اقتدار پر زبردستی قابض ہونے والا غاصب حکمران بھی ظلِّ الٰہی بن جاتا ہے۔ اس کی تعظیم واجب اور اس کی اطاعت ثواب کا درجہ جبکہ اس کی مخالفت معصیت و گناہ کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ ایک طرف بہت سارے لوگ ظالموں کو مقدس ثابت کرنے کیلئے تقاریر اور کتابوں کے انبار لگا رہے ہیں اور دوسری طرف ہر دور میں ظالموں کے تقدس کی نفی کرنے والے بھی ہر زمانے میں موجود رہے ہیں۔ انسان ہوں یا الفاظ، جو بھی ظالموں کی اندھی پرستش کے بجائے عقل، عدل، منطق اور شعور کی خاطر کام آیا، وہ ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا۔ عظیم اہداف کیلئے استعمال ہونے والی تحریریں بھی عظیم انسانوں کی طرح زندہ رہتی ہیں۔ خورشید احمد چوہان ایڈووکیٹ صاحب کی وصیّت بعنوان "الہیٰ خزانہ" بھی ایسی ہی ایک نادر تحریر ہے۔ وہ 1944ء میں پیدا ہوئے اور 2006ء میں انہوں نے یہ وصیت نامہ مرتب کیا۔ ان کی یہ وصیّت ایک نہایت اہم خزانے کے متعلق ہے اور اسی لئے اس کتاب کا نام بھی انہوں نے "الہیٰ خزانہ" رکھا ہے۔ باالفاظ دیگر یہ وصیّت نامہ ان کی زندگی کے سماجی مشاہدات اور فکری تجربات کی قلمی صورت ہے۔
محترم  وصیّت نگار نے غوروفکر اور تدبّر کے ساتھ اپنے قلب و ضمیر کا عرق نچوڑ کر ان 541 صفحات میں پیش کر دیا ہے۔ ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے، جن کے نزدیک  غور و فکر کے بغیر نہ تو کوئی خزانہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی حفاظت ممکن ہے۔ میں چند دنوں سے اس کتاب کے سحر میں مبتلا ہوں، یہ کتاب جہاں اپنی زبان و بیان کے لحاظ سے اردو ادب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے، وہیں محققانہ مزاج اور منصفانہ رویّہ رکھنے والوں کے لیے بھی ایک انمول تحقیقی خزانہ ہے۔ چوہان صاحب کا اندازِ نگارش ہمارے ہاں کی وصیّت ناموں کی مروّجہ روایت سے بالکل ہٹ کر ہے۔ عموماً وصیتیں جن کے لیے ہوتی ہیں، انہی کے کام کی ہوتی ہیں اور وہی انہیں محفوظ رکھتے ہیں، لیکن یہ وصیت ان سب سے مختلف ہے۔ 
مجھے اس وصیت نامے پر ابھی بہت کچھ لکھنا ہے، لیکن فی الحال یہ عرض کافی ہے کہ میں کتاب کی تزئین و آرائش یا اس کی سلیس و دلکش زبان پر تبصرہ نہیں کر رہا، نہ ہی مصنف کی ذات، دینداری، یا مسلک سے کوئی غرض رکھتا ہوں۔ میں تو بین السطور جھانکنے کا عادی ہوں۔ بین السطور محتویٰ کے مطابق مصنّف کو  ظالم لوگ سخت ناپسند ہیں اور شاید یہ خامی ہر انسان کے بچپن میں پائی جاتی ہو۔ کتابوں کی دنیا میں مجھے عہدِ کہن سے لے کر آج تک، کوئی ایسا شخص نہیں ملا، جو ظلم و ظالم کو برا کہے بغیر کسی عظیم منصب پر فائز ہوا ہو۔ گویا ظلم سے نفرت اور ظالم کے تقدس کا انکار، انسانی عقل کی معراج کا پہلا زینہ ہے۔ شریعت کی ابتدا بھی "لا الہ" سے ہوتی ہے اور عرفان و سلوک میں سالک کی یہی پہلی منزل ہے۔ "لا" کہنا آسان نہیں؛ اس ایک حرف میں ہزاروں خداؤں اور ظالموں سے انکار پوشیدہ ہوتا ہے۔
اس وصیّت نامے نے مجھے میرا بچپن لوٹا دیا ہے۔ مجھے بچپن میں خدا اس لیے پسند آیا تھا کہ وہ ظالموں سے نفرت کرتا تھا۔ آسمان پر اُڑتے سفید بادلوں کو دیکھ کر مجھے یوں لگتا تھا، جیسے حق و باطل کے لشکر ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں۔ آج بھی میرے نزدیک وہ بچپن کا سادہ اور شفاف تصورِ خدا، تمام فلسفوں پر بھاری ہے۔ ہر دور میں اس  طرح کے کئی لوگ اپنے اسی بے داغ بچپن کے ساتھ بڑے ہو جاتے ہیں اور پوری عمر اپنے تصور، وہم و گمان اور خواب و خیال میں ظالموں سے لڑتے رہتے ہیں۔ چوہان صاحب کا یہ وصیت نامہ سالکینِ راہِ خدا کے اسی شفاف مسلک کی نشان دہی کرتا ہے۔ جیسا کہ صفحہ 50 پر انہوں نے لکھا ہے کہ “بچے کی فطرت میں یہ بات موجود ہے کہ وہ ظلم سے نفرت کرتا ہے اور مظلوم سے پیار کرتا ہے۔
خداوند متعال نے مجھ میں یہ خصلت کچھ زیادہ عطا فرمائی تھی کہ میں جب بھی کسی پر ظلم ہوتا دیکھتا (خواہ اپنا و یا بیگانہ ہو، اس کے مقابلہ میں ظالم خواہ کس قدر طاقتور اونچے نصیب والا معزز (Elite) اور خوبصورت گورا چٹا ہی کیوں نہ ہو اور اپنا ہی قریبی رشتہ دار کیوں نہ ہو) میرا خون کھولنا شروع ہو جاتا۔ رنگ متغیر ہو جاتا اور میں بالکل پکا کا میٹر (Meter) ہو جاتا اور فور ظالم سے مکمل طور پر مظلوم کے حق میں ٹکرا جاتا۔ مجھے کوئی بلکہ قطعاً خوف نہ ہوتا کہ ظالم مجھے بھی مظلوم کے ساتھ پیس کر رکھ دے گا، میں پرائی آگ میں کود پڑتا۔” چوہان صاحب کا یہ احساس دراصل انسانی تاریخ کا مجموعی شعور ہے۔ یہ وہ آواز ہے، جو ہر انسان کے ضمیر اور فطرت کی گہرائی سے ابھرتی ہے کہ اگر مظلوم کے مقابلے میں خدا بھی کھڑا ہو تو اس کا بھی انکار کر دو، باقی شخصیات اور بزرگ تو دور کی بات ہیں۔
ایسے مزاج کے لوگوں کے نزدیک ظلم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا انسانیت کی گمشدہ میراث ہے اور یہی حقیقی سیروسلوک کا پہلا قدم۔ ظلم کے تقدس کا تصور فرعونی تہذیب سے بھی پہلے کا ہے اور آج بھی امتِ مسلمہ کے ایک بڑے حصے میں زندہ ہے۔ نہ سوچنے والی اکثریت آج قرآن مجید کو حفظ کرنے، چھاپنے اور رٹنے کے ساتھ ساتھ  ظالموں کے سامنے سجدہ ریز بھی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  وہ الہیٰ خزانہ کہاں گیا، جو قرآن کے ذریعے انسانوں کو بیدار کرنے کے لیے نازل ہوا تھا۔؟ کیا صاحبِ قرآنﷺ نے اس خزانے کے بارے میں کوئی وصیت نہیں کی تھی۔؟
چوہان صاحب نے اپنے وصیت نامے میں یہ چبھتا ہوا سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ کیا رسولِ خداﷺ کو قلم و کاغذ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔؟ رسولِ خداﷺ کو قلم و کاغذ نہ دینے والے لوگوں کے ہجوم سے گریزاں کچھ ایسے بھی ہیں، جو تاریخ کے موڑ پر حضرت ابوذرؓ، حضرت میثم تمارؓ، حضرت عمار یاسرؓ، اور حضرت حجر بن عدیؓ کی مانند تنِ تنہاء کھڑے ہیں۔ ان کا دین، ان کا مسلک اور ان کا راستہ، عام مسلمانوں سے جدا ہے۔ ایسے لوگ نہ عوام کے خوف سے ڈرے، نہ خواص کی سازش سے گھبرائے، نہ جبر کے سامنے جھکے اور نہ زر کے آگے بکے۔ یہی تو وہ چراغ ہیں، جو ظلمت میں روشن رہے، وہ پہاڑ تھے، جو طوفانوں میں قائم رہے اور وہ اذانیں تھے، جو خاموشیوں میں گونجتی رہیں۔۔۔
محقق دراصل ایک باغی ہوتا ہے، جو سوالوں کے تیشے سے تقدیس کے بت توڑتا ہے۔ ہمارے محترم و فاضل وصیّت نگار کی زندگی کی اصل کہانی وہی تحقیقی کشمکش ہے، جس میں وہ اپنے محبوب استاد کی عقیدت اور عقل کے تقاضوں کے بیچ میں پِستے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سچ ہے کہ جو زندگی تحقیق اور خود احتسابی سے خالی ہو، وہ جینے کے قابل نہیں۔ مجھے محترم وصیّت نگار بنیادی طور پر تین شخصیات سے متاثر نظر آئے، ایک حضرت امام حسین ؑ، دوسرے حضرت امام خمینی ؒ اور تیسرے ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب سے۔ انہوں نے اپنے وصیّت نامے کا آغاز کرنے سے پہلے اپنی کتاب میں حضرت امام خمینی ؒ کا وصیّت نامہ بھی شامل کیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے اپنے مسلکی تبدیلی کی وجہ انہی سوالات کو قرار دیا ہے، جو ڈاکٹر تیجانی سماوی کے دل و دماغ میں اُبھرے تھے۔
فاضل مصنّف نے کمالِ مہارت کے ساتھ حسبِ ضرورت اُن سوالات و جوابات کو ڈاکٹر تیجانی سماوی صاحب کی کتابوں سے نقل کرکے اپنے علم دوست ہونے کا بھرپور ثبوت دیا ہے۔ اُن کے بقول ان کی زندگی میں اُن کی فکری تبدیلی کا آغاز ایک انتہائی بُرے وعدے سے ہوا۔ یہ انتہائی بُرا وعدہ انہیں اپنے ایک انتہائی پیارے اور شفیق استاد کے ساتھ کرنا پڑا۔ البتہ یہ وعدہ جتنا برا تھا، بعد ازاں اُن کیلئے اتنا ہی بابرکت ثابت ہوا۔ بے شک خدا شر سے خیر کو نکالتا ہے اور مردے سے زندہ کو۔ وہ لکھتے ہیں کہ "ایک دفعہ میرے عربی کے استاد جامعہ محمدیہ والے مولوی صاحب جن کا نام عبدالعزیز تھا اور بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کا نام عبد العزیز مسکین صاحب تھا اور وہ غالباً بعد ازاں میں نے سنا ہے کہ مدینہ منوّرہ کی یونیورسٹی میں بطور مدرس تشریف لے گئے تھے، ان سے میں عربی پڑھتارہتا تھا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا تذکرہ ِمقدس شروع ہوگیا۔
میں نے اُن کو بتایا کہ میرے پاس ایک چھوٹی سی نوٹ بک ہے، جس پر میں نے اُن کا ایک قول ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بذات خود ایک جرم ہے، بہت دیر سے نوٹ کر رکھا ہے (جیسا کہ میں نے اپنی اس بات کی تمہید میں اوپر اس قول کا تذکرہ کیا ہے) نہایت سادگی اور معصومیت سے اور راز دارانہ انداز میں مولوی صاحب کو اپنا شفیق استاد اور بہت بڑا عالم سمجھتے ہوئے بتایا کہ مجھے حضرت امام حسین علیہ السلام کی شخصیت بہت پیاری لگتی ہے اور آنجنابؑ کی مظلومیت کا تو میں دیوانہ ہوں۔" اس کے بعد مولوی صاحب نے چوہان صاحب کو جو جواب دیا وہ بھی ملاحظہ فرمائیں: "مولوی صاحب نے فرمایا کہ بیٹا ایک بات کی تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی ذکر حسین علیہ السلام نہ کرنا (نعوذ باللہ من ذالک، اللہ کریم انہیں ہدایت فرمائے! بحیثیت استاد کے میرے لئے وہ بہت محترم ہیں)۔ کربلا کے میدان میں جو جنگ ہوئی تھی، وہ دو شہزادوں کے درمیان جنگ تھی۔ واقعہ کربلا کوئی اہم واقعہ نہ ہے۔
لہذا امام حسین علیہ الصلواۃ والسلام بھی کوئی اہم شخصیت نہ ہیں، مجھ پر اُن کی یہ بات برق بن کر گری، اگرچہ میں حیران بھی تھا کہ مولانا صاحب قبلہ مجھ پر بہت شفیق ہیں۔ مجھے اسی شفقت اور کرم نوازی کی وجہ سے عربی زبان کی تعلیم دیتے ہیں۔ مجھے کوئی غلط تعلیم نہ دے سکتے ہیں۔؟ میرے دل نے انتہائی کراہت اور بیزاری اختیار کی، اُن کی عزت تکریم اور ادب میں آکر میں نے انہیں کہا کہ مولوی صاحب ٹھیک ہے، آئندہ میں ذکر حسینؑ نہ کروں گا (اللہ کریم مجھے معاف فرمائیں الہیٰ آمین ۔ (کسی قدر برا وعدہ میں نے اُن سے کیا)" چوہان صاحب کی تحریر سے یہ حقیقت چھلک رہی ہے کہ مولوی صاحب کا انہیں "ذکرِ حسینؑ" سے منع کرنا دراصل ایک پورے فکری جبر کی علامت تھا۔ ایک ایسا جبر کہ جہاں روشنی کی طرف  لے جانے والا اُستاد اپنے ہی طالب علموں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے اور انہیں جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔
ہمارے سماج میں کسی طالب علم سے مولوی صاحب کا ایسا وعدہ لینا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہمارے ہاں افہام و تفہیم اور تحقیق و مکالمے کے بجائے بچوں کو لکیر کا فقیر بنانے کا رویّہ عام ہے۔ اس روییّے کے نتائج آج ساری اسلامی دنیا میں نظر آ رہے ہیں کہ جہاں مسلمانوں کی بھرمار ہے، لیکن خود مسلمانوں میں اسلام متروک ہوچکا ہے۔ خیر جو لوگ اس روییّے کی تائید کرتے ہیں، وہ اس کی دلیل بھی رکھتے ہیں۔ اُن کی دلیل درست ہے یا غلط، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں۔ ہم تو صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سچ تب آشکار ہوتا ہے کہ جب تضاد واضح ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لہذا ہم تضاد کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری آپ پر چھوڑتے ہوئے، فاضل وصیّت نگار کے ہی الفاظ میں مولوی صاحب کی دلیل آپ کے سامنے پیش کئے دیتے ہیں: "مولوی صاحب نے کچھ اس طرح سے جواب دیا کہ برخودار ذکرِ حسین مظلومؑ سے ایک تو بغضِ صحابہ پیدا ہوتا ہے اور دوسرا سیرت شیخین مجروح ہوتی ہے۔ لہذا ذکر حسینؑ مظلوم نہ کرنا چاہیئے۔
میں نے کہا استادِ محترم وضاحت فرمائیں، شیخین کون ہیں۔؟ انہوں نے فرمایا پہلے خلیفہ، خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک شیخ ہیں اور دوسرے شیخ ہمارے دوسرے خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں، دونوں شیخ مل کر شیخین بنتے ہیں۔ لہذا ان کی سیرت ذکرِ حسین مظلومؑ سے مجروح ہوتی ہے، ٹیوشن کا وقت ختم ہوگیا۔ میں اپنے گھر آگیا، لیکن میرا دل و دماغ مزید الجھ گیا۔" یہاں پہنچ کر یہ وضاحت ضروری ہے کہ چوہان صاحب نے رفتہ رفتہ اپنی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خدا کی ذات، اللہ کی آخری کتاب، آخری نبی ؐ اور قبلے پر کوئی تضاد نہیں۔ اگر تضاد ہے تو وہ صرف اور صرف صحابہ کرام کے بارے میں ہے۔ چنانچہ وہ اب اس تضاد کو سمجھنے اور حل کرنے کے درپے تھے۔ ایسے میں ان کی دلی اور جذباتی کیفیّت کا اندازہ کوئی حسّاس مزاج کا انسان ہی لگا سکتا ہے۔
وہ اپنی اس کیفیّت کا اظہار کچھ یوں کرتے ہیں کہ "ہم اہلسنّت والجماعت کا مسلک اور عقیدہ حضرات شیخین رضوان اللہ علیہم کو حضرت نبی اکرمؐ، نبی مرسل ؐ، حضرت محمد مصطفیٰﷺ کے بعد پہلے نمبر پر درجہ دینے کاہے اور پھر ہم میں یہ حدیث بھی مشہور ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی آتا تو وہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی آتے اور پھر ہمارے ہاں نبی ؐکی علالت کے دوران نماز باجماعت کی امامت حضرت ابوبکہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کرواتے تھے کہ روایت بھی مشہور ہے۔" مذکورہ بالا صورتحال سے ہر منصف مزاج محقق کو واسطہ پڑتا ہے۔ سچ جاننے کیلئے سچ کے راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹانا تو ضروری ہے، خصوصاً جب تحقیق کرنے والا اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھتا ہو اور وہ اہلِ تشیع کے بارے میں سچ جاننے کے درپے ہو۔ اس راستے میں عقلِ سلیم ہر محقق سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ چار و ناچار مسلکی تعصبات اور پرانے مقدسات سے بالاتر ہو جائے، چونکہ دین اگر وراثت بن جائے تو تحقیق جرم بن جاتی ہے۔
ہمارے ہاں اہلِ تشیع پر سب سے بڑا الزام ہی یہی ہے کہ وہ صحابہ کرام ؓ کو نہیں مانتے۔ چنانچہ صحابہ کرام ؓ کے بارے میں اہلِ تشیع کا موقف لئے بغیر ایسی تحقیق مکمل ہی نہیں ہوسکتی۔ اب اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھنے والا جو محقق بھی طرفین یعنی سُنّی و شیعہ کا موقف لینا اور تولنا شروع کرتا ہے تو اُسے اہلِ تشیع کے بارے میں بچپن سے ہی یہ بتایا گیا ہوتا ہے کہ اہلِ تشیع نعوذ باللہ صحابہ کرام پر لعنت کرتے ہیں، ان میں کوئی حافظِ قرآن نہیں ہوتا، شیعہ شامِ غریباں میں اکٹھے ہوکر زنا کرتے ہیں، اہلِ تشیع اپنے مردے کے پیٹ کو ایک ڈنڈے کے ساتھ صاف کرتے ہیں، دس محرم کو شیعہ لوگوں کو پکڑ کر اُن کا خون نکالتے ہیں، جو کہ نیاز کے چاولوں پر ڈال کر کھاتے ہیں، اہلِ تشیع یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت جبرائیلؑ جب وحی لے کر آئے تو  انہوں نے نعوذ باللہ خیانت کرتے ہوئے وحی حضرت علی ؑ کے بجائے حضرت محمدﷺ کو دے دی، شیعہ نماز کے بعد تین مرتبہ خان الامین یعنی جبرائیل امین نے خیانت کی کہتے ہیں۔
شیعوں کے قرآن مجید کے چالیس پارے ہیں، شیعہ وضو اُلٹا کرتے ہیں، شیعہ حضرت امام حسینؑ عالی مقام کے قاتل ہیں، شیعوں کو حضرت زینبؑ کی بددعا ہے، شیعہ نماز جنازہ پڑھتے ہوئے میّت پر لعنت کرتے ہیں، شیعوں کا قبلہ کربلا ہے، شیعوں نے اپنی جیب میں سجدہ گاہ کے نام پر مٹی کا ایک بت بنا کر رکھا ہوتا ہے، جسے وہ نماز کے دوران سجدہ کرتے ہیں، کالا لباس جہنمیوں کا لباس ہے، جو کہ شیعہ پہنتے ہیں، شیعوں کا بانی عبداللہ ابن سبا یہودی ہے، خلیفہ دوّم کے قاتل ابو لولو فیروز کا ایران میں شیعوں نے مقبرہ بنا رکھا ہے، اہلِ تشیع ایران میں اہلِ سنّت کو مسجد تعمیر نہیں کرنے دیتے، وہاں اہل سنّت کی کوئی مسجد نہیں، اہلِ تشیع کا ملک ایران دراصل امریکہ و اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اہلسنّت والجماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی منصف مزاج محقق دینِ اسلام کے حقائق کو سمجھنا چاہے اور اُس کے ذہن میں پہلے سے ہی اہلِ تشیع کے بارے میں مذکورہ بالا سب کے سب نکات یا ان میں سے اکثر و بیشتر نہ پائے جاتے ہوں۔
چنانچہ تحقیق کی دنیا میں محقق مجبور ہوتا ہے کہ وہ میدان میں اترے، اہلِ تشیع کے معاملات کو خود دیکھے، اُن کے موقف کو سُننے کے بعد سوچے، دوطرفہ دلائل کو  سمجھے اور پرکھے۔ تحقیق کا یہ عمل طولانی اور کٹھن ضرور ہے، تاہم اخروی زندگی یعنی دائمی و ابدی زندگی کے عذاب و ثواب کو دیکھتے ہوئے، اس تحقیقی عمل سے گزرنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔ تحقیق کی مشکلات اور اس کے نتائج کا سامنا کرنے سے گھبرانے والے لوگ تو بہت زیادہ ہیں، لہذا ہمارے ہاں اکثریت تحقیق کی طرف جاتی ہی نہیں، لیکن جو تحقیق کرنے کی جرائت کرتے ہیں، وہ اس کے نتائج کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ چنانچہ اس وصیّت نامے میں چوہان صاحب نے اپنی زندگی کے اُن گوشوں کا بھی ذکر کیا ہے کہ جو اہلِ تشیع کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد روشن ہوئے۔ انہوں نے صحابہ کرام ؓ کے بارے میں حقائق کی جانکاری سے لے کر شامِ غریباں میں بجھائے جانے والے چراغوں تک اور حدیثِ قرطاس و قلم سے لے کر لشکرِ اُسامہ ؓ تک، نیز شیعوں میں کوئی حافظِ قرآن نہ ہونے سے لے کر فکر و شعور کی بیداری میں حضرت امام حسینؑ کی تحریک کے مختلف ابعاد پر کسی بھی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا۔
شاید ہمارے نزدیک اور بھی ایسے بہت سارے لوگ موجود ہوں، جنہوں نے ان موضوعات پر اچھی تحقیق کر رکھی ہو۔ لہذا قارئین کے ذہن میں یہ رہے کہ الحاج خورشید احمد چوہان صاحب کی انفرادیّت یہ ہے کہ انہوں نے صرف تحقیق ہی نہیں کی بلکہ اپنی تحقیق کو اپنایا بھی ہے۔ کسی بھی شخص کا اپنی تحقیق کو اپنا لینا اور اس کے نتائج کو ہنس کر قبول کر لینا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص نے اپنی طرف سے تحقیق کرنے کا حق ادا کر دیا ہے۔ یہ وصیّت صرف ایک فرد کی فکری تبدیلی کی داستان نہیں، بلکہ مسلمانوں  کے مذہبی روییّے پر سوالیہ نشان ہے۔ ہمارے غیر علمی سماج میں استاد کی شفقت و احترام ایک قید ہے اور شاگرد کی سچائی ایک جُرم و گناہ۔ یہاں تحقیق کرنا گویا ظُلم کرنا ہے اور ذکرِ مظلومؑ کرنا گویا ہمارے دین کیلئے ایک خطرہ ہے۔ ایسے سماج میں جو شخص سوال کرتا ہے، وہ محض محقق نہیں، ایک مجاہد ہے۔
اس وصیّت نامے کی اصل اہمیت صرف اس کے علمی نکات میں نہیں، بلکہ اس میں چھپے ہوئے ان گہرے آنسوؤں میں ہے، جو صدیوں سے امت کے ذہن پر بٹھائے گئے تعصبات کو بہا لے جانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس تحریر میں ایک ایسا دل دھڑک رہا ہے، جو فرقہ واریت کے سنّاٹے میں وحدت کا ترانہ گاتا ہے اور ایک ایسا ذہن بول رہا ہے، جو مقدّسات کے دبیز پردوں میں چھپے سوالوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ المختصر یہ کہ ہمارے معاصر عہد میں یہ وصیّت نامہ ہر اُس شخص کیلئے چراغِ راہ ہے، جو حق کی تلاش میں ڈولتا اور ڈگمگاتا ہے۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...