زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 8 اگست، 2025

نوبل انعام کا مستحق کون؟ Who deserves the Nobel Prize?

کالم نگار: ابو ولی اللہ خان بہاولپور
جب بات امن کی ہو، تو نوبل انعام کے لیے ٹرمپ کا نام کیوں؟ وہ شخص جس کی پالیسیوں نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ آخر اس میں ایسا کیا ہے کہ اُس کا نام نوبل انعام کیلئے تجویز کیا گیا۔ایک پاکستانی فیلڈ مارشل کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کرکے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا ہے۔ ٹرمپ، جس کی پالیسیوں نے فلسطین، شام، یمن اور عراق میں خونریزی کو ہوا دی، اسے امن کا علمبردار قرار دینا یقیناً انسانیت کی توہین ہے۔
ایک طرف ہمارے حکمران ٹرمپ کا نام نوبل انعام کیلئے تجویز کرتے ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب، قطر اور دیگر اسلامی ممالک ٹرمپ کا استقبال رقص و سرود سے کرتے ہیں۔ یہ مناظر ہمیں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی اس قابل ہیں کہ خود کو امتِ مسلمہ کہیں؟ 
 عالمِ اسلام آج ایک عظیم امتحان سے گزر رہا ہے، جہاں اس کا ضمیر، اس کی غیرت اور اس کا نظریاتی عزم داؤ پر لگا ہے۔ ایک طرف فلسطین کے مظلوم بچوں کی چیخیں آسمانوں سے ٹکرا رہی ہیں، جہاں اسرائیل کی وحشیانہ بربریت نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ دوسری طرف، عالمِ اسلام کی سب سے بڑی تنظیم، او آئی سی، ایک بے جان تماشائی کی طرح خاموش ہے۔ یہ خاموشی کوئی وقتی سکتہ نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ جب فلسطین میں خون کی نہریں بہہ رہی ہیں، جب ایران پر امریکی جارحیت نے مشرقِ وسطیٰ کو آگ و خون کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، تو او آئی سی کی بے عملی عالمِ اسلام کے منہ پر طمانچوں کی بارش ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کرنے کی بات کوئی محض واہیات خیال نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک دھماکہ خیز امکان ہے۔ یہ آبناء دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل کا گزرگاہ ہے۔ اسے بند کرنا مغربی معیشتوں کے لیے ایسی تباہی لائے گا کہ ان کی معاشی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی۔ ایران کی یہ جرأت اس کے نظریاتی عزم اور بے مثال ہمت کی دلیل ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جو ایران کو وقت کی سپر پاور کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
نظریہ، ایمان اور قیادت ایران کو مضبوط بنانے والی چیز اس کا ایمان اور نظریہ ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو عدل و انصاف، انسانی اصولوں اور مظلوموں کی حمایت پر قائم ہے۔ فلسطین کے مظلوم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے ایران نے ہمیشہ عملی کردار ادا کیا۔ اسرائیل، جو حیوانیت سے بھی گرا ہوا ہے، اور اس کا سرپرست امریکا، فلسطین میں ظلم کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ لیکن ایران اپنے ایمان، نظریہ اور قیادت کے بل بوتے پر ان طاغوتی قوتوں کے مقابل کھڑا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے ثابت کیا کہ سپر پاور وہ نہیں جو اسلحہ اور دولت کے زور پر دنیا کو دبائے، بلکہ وہ جو حق اور انصاف کے لیے تن تنہا للکارے۔ 
آج ایک 86 سالہ بزرگ، جو بظاہر کمزور لیکن ایمان کی طاقت سے سرشار، شیطانی اور طاغوتی قوتوں کے سامنے تن تنہا کھڑا ہے۔ وہ صرف ایران کے سپریم لیڈر نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے سپریم لیڈر ہیں۔ ان کا ساتھ دینے والا ہر شخص وقت کے حسینؑ کا ساتھی ہے۔ لیکن اگر ہم آج خاموش رہے، اگر ہم نے وقت کے یزید اور شمر کے سامنے سر جھکایا، تو کل ہم تاریخ کے سامنے شرمندہ ہوں گے۔
اس کے برعکس، آیت اللہ خامنہ ای نے مظلوموں کی آواز بن کر عالمِ اسلام کے وقار کو بلند کیا۔ وہ امن کے اصل سفیر ہیں، جو نظریہ اور اصولوں پر ڈٹ کر ظلم کے خلاف للکار رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کے حکمرانوں اور عوام کو چاہیے کہ وہ غیرت دکھائیں اور آیت اللہ خامنہ ای کا نام نوبل انعام کے لیے پیش کریں۔ایران، روس، چین اور ترکی کا ممکنہ سرپرائز یہ بھی ممکن ہے کہ ایران، روس، چین اور ترکی مل کر امریکا کو کوئی تاریخی سرپرائز دیں۔ یہ ممالک اپنی مشترکہ طاقت سے عالمی توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ عالمِ اسلام کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہوگا، جہاں ظلم کے مقابلے میں حق کی فتح یقینی ہوگی ۔
اے عالمِ اسلام! 
یہ وقت ہاتھ سے نکل گیا تو ہم سب سعودی، عجمی، عربی، ایرانی، ترک، سوڈانی، اردنی، شامی، عراقی اور پاکستانی تو کہلائیں گے، لیکن امام حسینؑ کے ساتھی نہیں۔ ہمارا ماتم اس وقت بے معنی ہوگا جب ہم خود وقت کے یزید کے حامی بن جائیں گے۔ مسلمانو! اپنے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو پہچانو، ان کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ غیرت کرو، عزت کی زندگی جیو، اور ذلت کی موت سے بچو۔ آج وقت ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔خدا کی قسم، یہ وقت ہے عالمِ اسلام کے ضمیر کو جگانے کا! اور یاد رکھئے امن کے نوبل انعام کا مستحق  ٹرمپ نہیں بلکہ خامنہ ای  ہیں۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...