زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 8 اگست، 2025

Leaders and decision-makers — adopt a vision rooted in hope and progress اربابِ اقتدار! کچھ مثبت سوچیں

اربابِ اقتدار! کچھ مثبت سوچیں :
ڈاکٹرنذر حافی  :
کیا وہ معیشت، جو ایٹم بم تیار کر سکتی ہے، ایک عام شہری کو باعزّت روٹی نہیں دے سکتی؟ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں اقتصادی ماہرین کے پاس  عوام سے  سرمایہ لے کر ملکی معیشت میں استعمال کرنے کا کوئی منصوبہ   نہیں۔  یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم نے قومی دفاع کے لیے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی لیکن شہریوں کو معاشی خوشحالی دینے کا سوچا بھی نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ وہی بینکاری نظام، جس سے وابستہ ملازمین خود تنخواہ لیتے ہیں، عوام کو یہ باور کرواتے ہیں کہ یہ سودی نظام ہے، اس سے اجتناب کیا جائے۔ اگر یہ واقعی سودی نظام ہے تو اس میں مسلمان ملازمین کو کام کرنے کی اجازت کیوں ہے؟ اور اگر یہ نظام اسلامی اصولوں پر مبنی ہے تو پھر عوام کے لیے اس میں شرکت کے دروازے کیوں بند ہیں؟
ہر باشعور انسان یہ جانتا ہے کہ قومی معیشت محض کرنٹ اکاونٹ اور سودی قرض تک محدود نہیں  ہوتی بلکہ  یہ ایک اجتماعی  قومی معاہدے کا نام ہے، ایک ایسا معاہدہ جس میں ریاست اور شہریوں کا باہمی اقتصادی  اشتراک ہونا ضروری ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے بینک سود پر قرض دینے سےآگے بڑھ کر  لوگوں کو معاشی شراکت دار بنائیں۔  دوسری طرف جو حال بینکاری کا ہے وہی ہماری ملکی سرحدوں کا بھی ہے۔
تفتان اور ریمدان ، یہ صرف سرحدی مقامات نہیں بلکہ  پاکستان کے اقتصادی دروازے ہیں۔ اگر ہم نے ان  اقتصادی دروازوں کو بھی اپنی ناقص بینکاری کی مانند دہشت گردی، اسمگلنگ، رشوت، اور بدانتظامی کے زنگ آلود تالوں میں قید رکھا تو ہم یہ تجارتی دروازے کھو بیٹھیں گے۔ 
بھارت اور چین جیسے ممالک  اپنے ماضی کے سرحدی تنازعات کو تاریخ کے فٹ نوٹ بنا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ دونوں ملک جان چکے ہیں کہ اقتصادی ترقی کی فضا میں عوام کو شریک نہ کرنا ایک سنگین غلطی  ہے، اور اصل  اقتصادی ترقی کی بنیاد عوامی شراکت،  سائنس و ٹیکنالوجی اور عوام سے ہمکاری میں ہے۔ آج ان کے تھنک ٹینکس وہ زبان بول رہے ہیں  جسے  اُن کی عوام سمجھتی ہے ،  یعنی وہ زبان جس میں کاروبار میں عوامی  شراکت،  بازار تک لوگوں کی  رسائی کی حکمت  عملی اور پبلک کی  دلچسپی  کا تسلسل ہے۔
اس کے برعکس ہم ابھی تک ایسے  اقتصادی چکر میں  الجھے ہیں کہ جس کا نہ کوئی مرکز ہے نہ مستقبل۔ ہم قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک   اسلامی بینکاری  کی  محض تکرار کو حب الوطنی سمجھتے رہے  اور ترقی کے مواقع کو بداعتمادی  اور سود کی چادر میں لپیٹ کر دفن کرتے رہے ہیں۔
ہمارے ملکی بارڈر وہ رگیں ہیں جو کسی ملک کے جسم میں بیرونی دنیا کی ہوا داخل کرتی ہیں لیکن اگر ان رگوں میں دھواں، خوف، کرپشن اور زخم ہوں تو جسم ہمیشہ بیمار ہی رہتا ہے۔زائرین کے ساتھ ریمدان اور تفتان بارڈرز پر جو ناروا سلوک ہوتا ہے، وہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ قومی ضمیر پر ایک دھبّہ بھی ہے۔ ان راہوں پر صرف مسافر نہیں، ملکی معاشی  امکانات سفر کرتے ہیں لیکن ہم نے ان امکانات کو تحقیر، تاخیر اور تغافل میں گم کر دیا ہے۔
بدقسمتی سے، ایرانی تیل کی اسمگلنگ اور بارڈر سے ہونے والی غیر رسمی تجارت نے پورے اقتصادی نظام کو مسخ کر دیا ہے۔اگر صرف حکومت قانونی نگرانی اور پالیسی فریم ورک تیار کر دے، تو نجی شعبہ، فلاحی ادارے اور باوسیلہ افراد اس بارڈر کو سی پیک کے مساوی فائدہ مند راہداری میں بدل سکتے ہیں۔ محرم اور اربعین کی زیارات صرف مذہبی سرگرمی نہیں، بلکہ یہ ایک مربوط اقتصادی موقع بھی ہے، جس کے تحت زائرین، سیاح، طلبہ اور تاجر، پاکستان کی راہداری سے گزر کر نہ صرف سفر کرتے ہیں، بلکہ مقامی معیشت میں لاکھوں روپے  کا روزانہ  ہوتا ہے۔
ایران اور عراق کی مثال ہمیں سکھاتی ہے کہ جنگیں قوموں کو توڑتی ہیں، لیکن معیشت انہیں جوڑتی ہے۔ ان دونوں ممالک نے جنگی زخموں کے باوجود ثقافتی ہم آہنگی اور مالی تعاون کو فروغ دیا۔ آج ایران کا تومان عراق میں قبول کیا جاتا ہے، اور ایرانی زائرین بنا پاسپورٹ عراق جاتے ہیں۔ کیا پاکستان بھی ایسا وژن اپنا سکتا ہے؟
بھارت اور چین ہمارے ہمسائے ہیں۔ دونوں کی آبادی ہمارے لئے بہترین ذریعہ آمدن بن سکتی ہے۔ دونوں کو پاکستان کے  اس زمینی راستے سے ایران و عراق جانے  کی ضرورت ہے۔ ہم ان کی یہ ضرورت پوری کر کے صرف اسی صورت میں اپنی آمدن میں اضافہ کر سکتے ہیں کہ جب ہم  اس سوچ سے نکل جائیں کہ ملکی سرحد صرف کشمکش  اور جنگ کا میدان ہوتی ہے۔ ہمیں   اپنی ہر ملکی سرحد کو  آمدن اور کمائی  کا پُر امن اور منافع بخش دروازہ بنانے کا سوچنا ہوگا۔
یاد رکھئے !نظام وہی مستحکم رہتا ہے جس میں توازن میں ہو  اور ہر تغیر کے پیچھے ایک  سوچ، ایک منصوبہ ،  ایک ارادہ اور ایک وژن ہوتا ہے۔ قوموں کا زوال صرف معیشت کی کمزوری  سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے فقدان سے بھی ہوتا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ ہم منصوبہ بندی کے عمل کو محض وقتی جذبات، سیاسی ہنگامہ خیزی یا سطحی جوش سے آزاد کریں، اور فیصلوں کو ان زمینی حقائق کی بنیاد پر مرتب کریں جن سے قوموں کا مستقبل جڑا ہوتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے بارڈرز، اپنے وسائل، اور اپنے زائرین کو فقط سیکیورٹی کی عینک سے دیکھا، اور انہیں معاشی مواقع، تہذیبی تبادلوں اور عوامی شراکت سے جدا رکھا تو یہ عمل اس بینکاری نظام کی مانند ہوگا جس میں عوام کی شرکت فقط اتنی ہوتی ہے کہ وہ  بینکوں سے صرف سود پر قرض لینے یا کرنٹ اکاونٹ کھلوانے کے مجاز ہوتے ہیں۔ کسی بھی شعبے میں  معاشی ترقی عوامی  اعتماد، شفافیت اور  لوگوں کی شراکت سے پھلتی پھولتی ہے۔
پاکستان کی مٹی سونا اُگلتی ہے۔ یہاں کے پہاڑ خاموش خزانے ، دریا زندگی کی رگیں، اور یہاں کے ہنر مند انسان اس کائنات کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ مگر جب ادارے غیر منظم ، فیصلے وقتی ، اور وژن ذاتی تجوریوں تک محدود ہو تو قومیں وسائل کے باوجود مفلس ہو جاتی ہیں۔ہماری دانست میں ملکی بارڈرز کو صرف فوجی تناؤ کا میدان  نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ وہاں موجود انسانی سرمائے، ثقافتی،  راستوں،  ہنرمندوں، قدرتی وسائل  اور تجارتی صلاحیت کو نظر انداز کرنا   دراصل ریاست  کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانا ہے۔ہمیں اپنی پالیسیوں کو جدید زمانے کے تقاضوں اور ماڈرن ٹیکنالوجی  کے مطابق ترتیب دینا چاہیے  نہ کہ ماضی کی  بدنامِ زمانہ فاشسٹ حکومتوں کی طرح۔آج کی دنیا ڈیٹا، نیٹ ورک اور نیریٹیو کی دنیا ہے۔ اگر ہم نے نیریٹیو کو بدل کر، اپنی سرحدوں کو سہولت، خیرسگالی اور ترقی کا استعارہ نہ بنایا، تو ہم صرف دفاعی بجٹ میں اضافہ کرتے رہیں گے لیکن تعلیمی،  فلاحی اور اقتصادی بجٹ ہمیشہ کمزور رہے گا۔ یہ ایک اقتصادی سچ ہے کہ اگر کوئی ریاست اپنی سرحدوں کو صرف بندوق سے محفوظ رکھتی ہے تو وہ صرف دفاع کرتی ہے ترقی نہیں۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...