زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 10 اگست، 2025

Using fake encounters and women as weapons of war... India's moral defeat.فیک ان کاونٹرز اور خواتین کو بطورِجنگی ہتھیار استعمال کرنا۔۔۔بھارت کی اخلاقی شکست

بھارت کی اخلاقی شکست

:ڈاکٹر نذر حافی 

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم  : 

فروری 1991 کی ایک سرد رات، بھارتی فوج نے کپواڑہ ضلع کے دو گاؤں، کننن اور پوشپورہ، کا محاصرہ کیا۔ رات بھر جاری رہنے والی کارروائی میں درجنوں خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی، جن میں نوعمر لڑکیاں، حاملہ خواتین اور بزرگ خواتین بھی شامل تھیں۔ یہ واقعہ "Kunan‑Poshpora mass rape" کے نام سے انسانی حقوق کی تاریخ کا سیاہ ترین باب بن گیا۔
سوال یہ ہے کہ بھارت کے خلاف بیداری کب آئے گی؟ یہ سوال ہر اُس مہاجر کا ہے جس کا تعلق مقبوضہ کشمیر  سے ہے۔ دنیا کا المیّہ یہ ہے کہ دنیا والے ظلم کو دیکھتے ہیں لیکن بیدار نہیں ہوتے۔ 1990 سے 1992 کے درمیانی عرصے میں کشمیری خواتین پر ہونے والے مظالم ایک الگ ہی سطح پر جا پہنچے۔ بی ایس ایف افسر کی اہلیہ کو اغوا، زیادتی اور قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی طرح ایک نرس، گرِجا ٹیکو، اور ایک ہندو خاتون، بابلی رائنا، کو جنسی تشدد کے بعد سفاکی سے قتل کیا گیا۔ ان واقعات کا مقصد صرف خواتین کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کو اجتماعی سزا دینا تھا۔
 مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کو ستتر برس ہو چکے ہیں لیکن  ایل او سی کے دونوں طرف منقسم خاندانوں کو آپس میں ملانے اور جوڑنے کے بجائے مزید  دوریاں پیدا کر دی گئی ہیں۔ پانچ اگست 2019ء کو نریندر مودی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کر کے مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔ کہ دونوں طرف کے کشمیریوں کے درمیان رشتوں اور ناطوں کو بحال کرنے، دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے  اور خطّے کا امن بحال کرنے کے بجائے، غصب، ظلم، نفرت اور دشمنی  کے ایک نئے باب کا آغاز کیا گیا۔
افسوس کی بات ہے کہ ہندوستانی قیادت یہ فراموش کر چکی ہے کہ آزادی صرف کشمیریوں کا  ایک سیاسی یا جغرافیائی مطالبہ نہیں، بلکہ  یہ ہر انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ آزادی کی قدر وہی جان سکتا ہے جو خود غلامی  کے دور سے گزرا ہو۔ ہندوستان بھی کشمیریوں کی طرح  تاجِ برطانیہ کی غلامی کا مزہ چکھ چکا ہے لہذا ہمارے ہندوستانی برادران کو کشمیریوں کی تحریکِ آزادی  کو سمجھنے کی  شعوری کوشش کرنی چاہیے ۔
بھارت جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، وہ کشمیریوں کے ساتھ انتہائی غیر جمہوری برتاو کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں نئی مردم شماری، نشستوں کی حد بندی، ڈومیسائل قانون، 56 ہزار ایکڑ زمین پر فوجی قبضہ، اور 50 لاکھ ہندوؤں کو کشمیر کا شہری بنانا  یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کشمیریوں کی شناخت کو مٹانے کے درپے ہے۔
اس موقع پر ہندوستانیوں کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کے اس درد کو محسوس کریں۔ کشمیری دہائیوں سے صرف جسمانی ہی نہیں، فکری اور معاشی قید میں بھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی مزاحمت محض بھارتی ظلم کے خلاف نہیں بلکہ غلامی کے ہر تصور کے خلاف ہے۔ کیا ہندوستانی  دانشور یہ نہیں جانتے کہ  جو قوم مرنے کے لیے تیار ہو جائے، اسے کوئی غلام نہیں بنا سکتا۔ کشمیری عوام برسوں سے شہادتیں دے رہے ہیں، وہ مرنے سے نہیں ڈرتے، بلکہ غلامی میں جینے کو عار سمجھتے ہیں۔ظلم کے خلاف خاموشی، ظلم کی سب سے بڑی حمایت ہےاور یہی خاموشی آج ہر باشعور ہندوستانی کے  ضمیر پر سب سے بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت نے "rehabilitation policy" کے تحت جن مہاجر  کشمیریوں کو واپس مقبوضہ کشمیر بلایا، تو ان کے ساتھ آنے والی کئی خواتین کو سماجی اور قانونی طور پر بار بار انتقام کانشانہ بنایا گیا۔ ان خواتین کے شوہروں اور بچوں کی موجودگی کے باوجود  انہیں غیر ملکی قرار دے کر حراست میں رکھا گیا یا  جبری طور پر ملک بدر  کر دیا گیا۔
اپریل 2025 میں پہلگام میں قابض فورسز کی طرف سے ہونے والے ایک  خود ساختہ حملے کے بعدمقبوضہ  کشمیر میں رہائش پذیر  کئی خواتین کو بغیر کسی  قانونی کارروائی کے پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ یہ تمام واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کی عصمتیں، شناختیں اور زندگیاں اس کالے سیاسی کھیل کا حصہ بنائی گئی ہیں، جس کا مقصد کشمیری قوم کو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور ثقافتی طور پر بھی شکست دینا ہے۔ ظلم کی یہ داستانیں عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہیں، جس کا جواب ہم سب نے خدا  کو دینا ہے۔
دوسری طرف صرف سال  2025  کے دوران اب تک جعلی مقابلوں میں کم از کم سات بے گناہ کشمیری نوجوان شہید کیے جا چکے ہیں۔ اپریل میں بارامولا میں دو، جولائی میں سری نگر میں تین، اور اگست میں جموں میں محمد پرویز نامی نوجوان جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔ الطاف لالی کی شہادت تو ایک کھلی دہشت گردی تھی جسے دنیا نے دیکھا مگر آنکھیں موند لیں۔یہ واقعات کشمیر میں جاری اس ستم رسیدہ تاریخ کا تسلسل ہیں، جس کے دوران 1989ء سے اب تک 7347 کشمیری جعلی مقابلوں اور حراست میں قتل کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ہر کشمیری شہید اپنے پیچھے یہ پیغام چھوڑ کر جا رہا ہے کہ اگر میری موت سے قوم جاگتی ہے، تو مجھے مرنے دو۔ آج کشمیر کی سرزمین میں یہی پیغام گونج رہاہے،یہی وہ پیغام ہے کہ جو اس  تحریک کا ایندھن ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان محض "اظہارِ تشویش" سے آگے بڑھے۔ اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف، انسانی حقوق کی تنظیمیں، اور ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو صرف سفارتی نزاکت کے طور پر نہ لیں بلکہ انسانی وقار، عالمی امن، اور انصاف کے تناظر میں دیکھیں۔ یہ ادراک ساری دنیا کو  ہونا چاہیے کہ آزادی کا خواب صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ ہر انسان کا خواب ہے۔ جب ایک خطہ غلام ہوتا ہے تو دراصل پوری انسانیت  شرمندہ  ہوتی ہے۔ ظلم کے خلاف خاموشی، انصاف کے جنازے میں خاموش شرکت کے مترادف ہے۔
کب تک کشمیری شہید ہوتے رہیں گے؟ کب تک معصوم بچوں کی آنکھوں میں بندوقوں کی سنگینیں جھانکتی رہیں گی؟  اور کب تک کشمیریوں کے خلاف خواتین اور فیک کاونٹرز کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا؟ آخر ظلم  پر خاموشی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے!

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...