زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 2 ستمبر، 2025

The Shanghai Cooperation Organization Summit: Is Pakistan Ready to Transform Its Fate in South Asia?

شنگھائی تعاون تنظیم   کا اجلاس اور  کیا جنوبی ایشیا میں پاکستان  اپنی حالت بدلنے کیلئے تیار ہے؟
ڈاکٹر نذر حافی  :
The Shanghai Cooperation Organization Summit:Is Pakistan Ready to Transform Its Fate in South Asia?
ماہرین کا خیال ہے کہ آگے چل کر  چین  کی وساطت سے  یک قطبی نظام کے مدِّمقابل کوئی نیا نظام جنم لے سکتا ہے۔  خصوصاً انڈیا و پاکستان کے عوام کی شدید خواہش ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے سربراہانِ مملکت کی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت  فقط ایک سرکاری دورہ ثابت نہیں ہونی چاہیے۔  پاکستان کے حوالے سے ایک موہوم سی  امید کی جا سکتی ہے کہ  اجلاس میں ہونے والی کارروائی   صرف سیر سپاٹے اور  وقت گزاری کیلئے  ہر گز نہیں تھی۔ اتوار کے روز افتتاحی گفتگو میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال افراتفری کی شکار ہے۔ ان کا یہ جملہ دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سرد جنگ کے بعد پیدا ہونے والا یک قطبی نظام اب اپنی گرفت کھو رہا ہے اور دنیا میں طاقت کے کئی مراکز ابھر رہے ہیں۔ چین اور انڈیا مشرق کی دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں اور آج یہ دونوں دنیا کے سب سے بڑے جغرافیائی و آبادیاتی بلاک کے وارث ہیں۔ یہ خطہ تقریباً 2.8 ارب انسانوں کے مستقبل کا امین ہے، جو پوری دنیا کی آبادی کا ایک تہائی بنتا ہے۔
چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، جس کا حجم تقریباً 18 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ انڈیا تیزی سے بڑھتی ہوئی 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات 135 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں اور اندازہ ہے کہ 2030ء تک یہ حجم 300 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ مگر اس معاشی وسعت کے باوجود بداعتمادی کی دیواریں دونوں کے درمیان حائل ہیں۔ لداخ اور اروناچل پردیش کے سرحدی تنازعات، دریائے برہم پتر پر چین کا میگا ڈیم، تبت اور دلائی لاما کے مسائل، یہ سب ایسے عوامل ہیں، جو بیجنگ اور نئی دہلی کو ایک دوسرے سے محتاط رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں امریکی موجودگی اور انڈیا کو QUAD (امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، انڈیا) کا حصہ بنانا، اس خطے کو ایک نئے اسٹریٹیجک تناؤ سے دوچار کر رہا ہے۔ عالمی ادارۂ دفاعی تجزیات (SIPRI) کے مطابق انڈیا دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جبکہ چین دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرچکا ہے۔ یہ فرق بھی دونوں کے درمیان طاقت کا توازن بگاڑ رہا ہے۔
ایسے میں پاکستان کے لیے امکانات کے دروازے وسیع ہو رہے ہیں۔ اپنی جغرافیائی پوزیشن کی بدولت پاکستان نہ صرف جنوب ایشیاء کا مرکز ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ، وسط ایشیاء اور چین کے بیچ ایک قدرتی پل بھی ہے۔ اگر پاکستان دانشمندی سے قدم بڑھائے تو وہ "ریجنل کنیکٹیویٹی" کا ایسا ماڈل تخلیق کرسکتا ہے، جو خطے کے لیے نئی اقتصادی اور سفارتی حقیقت بن جائے۔ پاکستان کے پاس وہ امکانات موجود ہیں، جو نہ چین کے پاس ہیں، نہ انڈیا کے۔ ساٹھ فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی، زرخیز زمین اور وافر پانی، تھر کول، ہائیڈل، سولر اور ونڈ جیسے توانائی کے متنوع ذخائر اور گوادر، کراچی و پورٹ قاسم جیسی گہری سمندری بندرگاہیں۔۔۔۔ یہ سب عوامل پاکستان کو خطے کی فوڈ پاور، انرجی ہب اور ٹرانزٹ اکنامی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی ادارۂ خوراک (FAO) کے مطابق 2050ء تک دنیا کو اپنی موجودہ زرعی پیداوار میں 60 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ایسے میں پاکستان اگر جدید آبپاشی نظام اور AI-based زراعت کو فروغ دے تو ایشیاء کے لیے گندم، چاول اور دالوں کا مرکزی سپلائر بن سکتا ہے۔
سی پیک کو صرف سڑکوں تک محدود رکھنے کے بجائے، اگر اسے توانائی کاریڈور اور ڈیجیٹل کاریڈور میں ڈھالا جائے تو پاکستان پورے خطے کو توانائی اور ٹیکنالوجی کی نئی سطح تک لے جا سکتا ہے۔ چین پہلے ہی پاکستان میں ٹیکنالوجی پارکس قائم کر رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو AI، روبوٹکس اور بایوٹیکنالوجی میں تربیت دی جائے تو پاکستان جنوبی ایشیا کا ڈیجیٹل دل بن سکتا ہے۔ چین اور انڈیا کے درمیان پانی کی جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اگر "ریجنل واٹر کنسورشیم" تجویز کرے تو وہ خطے کا امن پرور ثالث بھی بن سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اپنے اسلامی ورثے، صوفیانہ تہذیب اور ثقافتی تنوع کو بھی بطور "سافٹ پاور" استعمال کرکے خطے میں اعتماد سازی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی جغرافیائی برتری، نوجوان قوت اور فکری ورثے کو صحیح طور پر بروئے کار لایا تو وہ مشرق میں ایک اقتصادی تحریک کا مرکز بن جائے گا، ایک ایسی تحریک جو چین و انڈیا کی رقابت کے بیچ امن کا توازن اور تجارت کا پُل ہوگی۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں تینوں ممالک کی رکنیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ممالک کے درمیان توانائی، ماحولیاتی چیلنجز، علاقائی سلامتی اور تجارت جیسے موضوعات پر مشترکہ بنیادیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اگر مستقبل میں چین، بھارت اور پاکستان اپنے سرحدی و سیاسی تنازعات کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کی بنا پر ایک نئے اقتصادی قطب کا مرکز بن سکتا ہے۔ پاکستان، اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک لوکیشن اور سی پیک جیسے ٹرانزٹ راہداریوں کے باعث، خطے میں ایک ابھرتے ہوئے معاشی قطب کے طور پر سب کی ضرورت ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں پاکستان ایک جیو اکنامک مرکز کے طور پر یہ کردار حاصل کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں کشمیر کے بارڈرز کھولنے اور وہاں تجارتی راہداریاں قائم کرنے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت اس خطے کو معاشی تعاون کے لیے کھول دیتے ہیں تو نہ صرف باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیاء، چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو بھی نئی جہت ملے گی۔
کشمیر کی راہداریاں پاکستان اور بھارت کے معاشی حالات میں زبردست اقتصادی  انقلاب لاسکتی ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے پالیسی ساز اپنی نااہلیوں پر قابو پائیں اور طویل المدتی وژن کے ساتھ خطے میں امن و تعاون کی راہیں ہموار کریں۔ ہمیں افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز اکثر غیر مستقل مزاجی، وقتی مفادات اور کمزور منصوبہ بندی کے باعث مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی نااہلی پاکستان کی جغرافیائی برتری کو مکمل طور پر بروئے کار آنے نہیں دیتی۔ اگر پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کی دیرینہ روش برقرار رہی تو خطے کے ممکنہ معاشی اتحاد میں پاکستان محض ایک راہداری تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ بدلتے حالات کے ساتھ ہمارے پالیسی سازوں کو بھی اپنے آپ کو بدلنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ بقول شاعر:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...