زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

منگل، 30 ستمبر، 2025

کیا ہم اسرائیل کی پراکسی ہیں؟

کیا ہم اسرائیل کی پراکسی ہیں؟ 

ڈاکٹرنذر حافی  :

  ٹرمپ غزہ  منصوبے کی تشکیل سے فلسطینیوں کو مکمل طور پرالگ رکھا گیا ہے۔  فلسطینی قیادت اور عوام کو اس منصوبے  سے جدا رکھنے سے اس منصوبے کی کوئی قانونی حیثیت اور اخلاقی جواز  ہی باقی نہیں رہتا کہ جس کی بنیاد پر اس کی حمایت کی جا سکے۔  اس کی ایک اور اہم خامی یہ ہے کہ اس  میں اسرائیل کے غلبے  کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ  اسے ہر طرح کا  تحفظ بھی دیا گیا ہے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز ، دفاعی حدود، اور علاقائی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، جغرافیائی وحدت، اور ریاستی سالمیت کی عملاً  نفی کر دی گئی ہے۔ بلاشبہ یہ


منصوبہ  اصولوں اور انصاف  کے بجائے طاقت اور دھونس کا مظہر ہے۔

 اس میں فلسطینی پناہ گزینوں کے حقِ واپسی کو نظر انداز کرنا، فلسطینی علاقوں کو الگ الگ انتظامی اکائیوں میں تقسیم رکھنا، اور فلسطینی ریاست کی تشکیل کے عمل کو عملی سطح پر غیر یقینی بنا دینا۔۔۔ یوں یہ منصوبہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون، اور انسانی حقوق کی عالمی روایات کی  کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ  عدل و انصاف  کے اصولوں پر مبنی ہے یا اسے  فلسطینیوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ بین الاقوامی تعلقات کے تناظر میں اگر اس منصوبے کا  جائزہ لیا جائے تو یہ فوری جنگ بندی یا انسانی امداد کی فراہمی کے بجائے فقط اسرائیل کی جغرافیائی اور سیاسی بالادستی کو تحفظ دیتا ہے۔ یعنی یہ در اصل  اسرائیل کے عسکری وسیاسی اثرورسوخ کی تنظیمِ نو کا فارمولہ ہے۔ 

ایسے میں پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی حمایت کا عمل کئی  سیاسی، قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس منصوبے میں فلسطینی قیادت کی عدمِ شمولیت، فلسطینی مہاجری کی واپسی کی نفی، اور فلسطین  کی تقسیم کا پہلو ہی  اس منصوبے کے بطلان کیلئے کافی ہے۔ دوسری طرف پاکستان ہے ایک ایسا ملک ہے جو تاریخ میں ہمیشہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کا حامی رہا، جس نے اقوامِ متحدہ میں ان کے حق میں آواز اٹھائی، جس کے عوام فلسطینی جدوجہد سے جذباتی و نظریاتی وابستگی رکھتے ہیں، وہ اگر اچانک کسی ایسے منصوبے کی غیر مشروط تائید کرتا نظر آئے جسے خود فلسطینی مسترد کر چکے ہوں، تو یہ غیر مشروط تائید   کوئی دانشمندانہ  فیصلہ نہیں۔

اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستان فلسطین کے معاملے میں  کسی کرائے کے مزدور کی مانند  اسرائیل کی ایک  پراکسی کے طور پر کام کر رہا ہے۔  پراکسی ڈپلومیسی کا مطلب ہی یہی  ہے کہ اس میں  ریاستیں اپنی خارجہ حکمت عملی کسی تیسرے فریق کے دباؤ، اثر یا مفاد کے تابع تشکیل دیتی ہیں۔ ان کا موقف  ریاستی اصولوں، قومی نظریات اور جمہوری رجحانات کے  منافی ہوتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس منصوبے کی تائید  خود پاکستانیوں کیلئے ایک بڑا اسوال ہے،  خاص طور پر جب پاکستان کو  خلیجی ممالک اور  امریکہ جیسے اتحادیوں نے تعلقات و مفادات کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔

اربابِ اختیار کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسا طرزِ عمل کئی سطحوں پر  پاکستان کی ساکھ کو متاثر کر رہا ہے۔ اوّل، اس سے پاکستان کی وہ اخلاقی برتری مجروح ہوتی ہے جو اس نے ہمیشہ مظلوم اقوام کے حق میں اختیار کی۔ دوم، خارجہ پالیسی کی خودمختاری  متاثر ہوتی ہے اور یہ واضح ہو جائے گا کہ پاکستان سفارتکاری میں بھی دوسروں کی ایک پراکسی ہے۔ سوم، ریاست اور  عوام کے درمیان خلیج مزید  گہری ہو گی اور ریاست پر عوام کے اعتماد میں مزید کمی آئے گی۔ ظاہر ہے  فلسطین کے مسئلے پر عوام کا اجتماعی ضمیر جس مؤقف کی توقع کرتا ہے، ریاست اس سے منحرف دکھائی دے رہی ہے۔ اسی عمل کو پراکسی سفارتکاری کہتے ہیں۔ اس میں ایک ریاست خودمختار پالیسی سازی کے بجائے، ثالث یا سرپرست ریاست کے ایجنڈے کو اپناتی ہے۔

غزہ امن منصوبہ ایک ایسے سفارتی فریم ورک کی علامت ہے جو  بکھرتے ہوئے اسرائیل  کو دوبارہ  جوڑنے کیلئے ہے۔ اس منصوبے میں وہ تمام عناصر شامل ہیں جو کسی فوری جنگ بندی کو ممکن  بنانے کے بجائے صرف اسرائیل کو بچانے کیلئے فکر مند ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں وقتی سفارتی مصلحتوں کے بجائے اصولی وابستگی، تاریخی موقف، اور عوامی جذبات کو ترجیح دے، تاکہ اس کی سفارت کاری خودمختار ہو اور باوقار  نظر آئے۔

کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ جب قومیں اصولوں و نظریات  کی بنیاد پر اپنی راہیں متعین کرتی ہیں تو وہ صرف سیاسی پالیسی نہیں بناتیں بلکہ تاریخ میں اپنے  اخلاقی نقوش بھی مرتب کرتی ہیں۔ اس کے برعکس  جب یہی قومیں وقت کی گردش، خارجی دباؤ، یا داخلی کمزوریوں  کے تحت اپنے اصولوں اور نظریات  سے انحراف کرتی ہیں  تو  تاریخ میں اُن کے کردار کے اندر ایک  گہری منفی تبدیلی واقع ہوتی ہے جسے "نارم شیفٹ" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہوتا ہے کہ جس کے دوران  نظریہ مصلحت میں تحلیل ہو جاتا ہے  اور نظریات  عارضی فائدے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ یہ تبدیلی محض سفارتی زبان یا سرکاری بیانیے میں نہیں آتی بلکہ قوم کے تشخص کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے، ایسی دیمک جو وقت کے ساتھ ساتھ قومی شناخت، اخلاق اور وژن کے مفاہیم کو کھا جاتی ہے۔ اسی کو سفارتی و نظریاتی  کہتے ہیں چونکہ اس کے دوران  ماضی  کا "حق" حال کے عارضی "مفاد" میں دفن ہو جاتا ہے۔  یاد رہے کہ قومیں اکثر اپنی شکست میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اصولوں سے دستبرداری کے لمحے میں کھاتی ہیں  اور یہی وہ لمحہ ہے جب  نظریاتی کمزوری کو ریاستی پالیسی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

آخر میں ہم اپنے قارئین پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر پاکستان،  فلسطینی قوم کی مرضی کے خلاف کسی ایسے منصوبے کی حمایت کرتا ہے جو درحقیقت اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ ہے  تو اس حمایت کے پیچھے  کسی قسم نظریاتی ہم آہنگی نہیں بلکہ  واضح طور پر ایک سیاسی  و سفارتی سرنڈر ہے۔ پراکسی ہونا صرف فوجی محاذ پر دوسرے کے مفاد کے لیے لڑنا نہیں ہوتا بلکہ وہ لمحہ جب کوئی ریاست اپنی خودمختار سفارتی  زبان کھو دے اور اس کے سیاست دان اور  قلم کار اپنے قومی نظریات کے خلاف بولنا اور  لکھنا شروع کردیں تو  یہی پراکسی ڈپلومیسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ کیا  غزہ امن منصوبے کی حمایت کر کے اس وقت ہم بطورِ اسرائیلی پراکسی کام نہیں کر رہے؟ 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...