زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعرات، 25 ستمبر، 2025

کیا اسلامی نظریاتی کونسل فقہی اختلافات میں الجھنے جا رہی ہے؟

 کیا اسلامی نظریاتی کونسل فقہی اختلافات میں الجھنے جا رہی ہے؟

ڈاکٹر  نذر حافی : 

آئینِ پاکستان کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل کا دائرہ کار مشورے تک محدود ہے۔  البتہ  مبصرین کے مطابق کونسل نے حالیہ اجلاس میں اپنے دائرہ کار سے صریحاً انحراف کیا ہے۔ گزشتہ روز پاکستانی میڈیا نے یہ سُرخی لگا کر سب کو چونکا دیا کہ " اسلامی نظریاتی کونسل نے انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخ قرار دے دیا "۔یہ بات انجینئر محمد علی مرزا  کی ذات سے ہٹ کر بھی قابلِ تشویش ہے کہ  کونسل کسی کو گستاخ قرار دے۔  آئینی طور پر کونسل تو  صرف مشورہ دینے تک محدود ہے  مگر مرزا کے معاملے میں کونسل کے بیان میں جو زبان اختیار کی گئی ہے وہ انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔  جیسے "یہ شخص سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے" یا "توہینِ قرآن کی دفعات عائد کی جائیں"  یہ زبان بتا رہی ہے کہ کونسل  کے اندر مرزا کے مخالفین کا اثرونفوذ بہت زیادہ ہے لہذا کونسل نے  اس مسئلے میں اپنی غیرجانبداری کا خود ہی گلا گھونٹ دیا ہے۔

سونے پر سُہاگہ یہ کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا  ہے کہ مرزا نے نقلِ کفر کے فقہی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ تاہم کونسل کے پیشِ نظر کس فقہ کے فقہی اصول ہیں اس کا نہیں بتایا گیا۔یہ بتایا جانا ضروری ہے چونکہ مفتی طارق مسعود صاحب اور مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب کے فقہی اصولوں کے مطابق تو مرزا نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ ایک طرف اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا محمد علی کے بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے، نقلِ کفر پر مبنی بیانات کی بنا پر انجینئر مرزا سخت تعزیری سزا کے مستحق ہیں۔  دوسری طرف مفتی طارق مسعود صاحب اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں فرما رہے ہیں کہ جیسے مرزا  صاحب نے بات نقل کی ہے اس سے کوئی شخص سزا کا مستحق نہیں ہوتا۔ ایک طرف کونسل نے فیصلے میں کہا کہ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں، اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔  دوسری طرف مولانا حافظ سید محمد حیدر نقوی صاحب نے اپنے فقہی اصولوں کی روشنی میں  یہ بیان دیا ہے کہ  انجینئر محمد علی مرزا کی زیرِ بحث گفتگو کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے ۔ میری طالب علمانہ رائے میں اُن کی گفتگو میں بلکل کسی طرح کی توہین کا پہلو موجود نہیں ہے اور نہ ہی کسی تحقیر و استخفاف کا کوئی شائبہ پایا جاتا ہے، رسول اللہ ﷺ یا قرآن مجید کے حوالے سے اس گفتگو کو گستاخی قرار دینا بالکل بے بنیاد اور غلط ہے۔ یہ بیان کسی بھی پہلو سے اہانت یا بے ادبی کے دائرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا بلکہ  اگر کوئی شخص انجینئر محمد علی مرزا  سے کسی بات پر اختلاف یا ناراضگی کے سبب اس گفتگو کو بہانہ بنا کر مرزا صاحب پر توہینِ رسالت کا مقدمہ قائم کرنا چاہتا ہے  اور انہیں اس جرم میں حراست میں رکھوانا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کام بذاتِ خود قران کریم کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۸﴾

8. اے ایمان والو! اللہ کے لئے مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے انصاف پر مبنی گواہی دینے والے ہو جاؤ اور کسی قوم کی سخت دشمنی (بھی) تمہیں اس بات پر برانگیختہ نہ کرے کہ تم (اس سے) عدل نہ کرو۔ عدل کیا کرو (کہ) وہ پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے، اور اللہ سے ڈرا کرو، بیشک اللہ تمہارے کاموں سے خوب آگاہ ہےo

قارئینِ محترم کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان میں قانونی طور پر  فتویٰ دینے کا اختیار صرف دارالافتاء یا مستند مفتیانِ کرام کو حاصل ہے لیکن اس اجلاس کے بعد لگتا ہے کہ  اسلامی نظریاتی کونسل اپنے اصل کام کو چھوڑ کر اب فتوی دینے اور فیصلہ سنانے یعنی عدالتی  میدان میں اُتر آئی ہے جبکہ  ماہرین کے مطابق "کسی فرد کو شرعی مجرم قرار دینا" یہ کسی بھی طور پر کونسل کے دائرہ اختیار میں نہیں۔اگر مدعی اور مدعا علیہ، دونوں کی آراء و شواہد کو متوازن انداز میں نہ دیکھا جائے تو رائے دینا نہ صرف ناقص بلکہ متنازع ہو جاتا ہے۔ اس حساس دینی و قانونی مسئلے میں تحمل، تدبر، اور انصاف کی زبان درکار تھی، نہ کہ ایسے الفاظ جو رائے کم اور فتویٰ زیادہ دکھائی دیں۔مرزا کے کیس میں کونسل کا سخت لب و لہجہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاملہ صرف رائے کے اظہار کا نہیں بلکہ مشاورتی دائرہ کار سے تجاوز کر کے فتوی ٰسنانے اور عدالتی معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینے  کا بھی ہے۔یہ واقعہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ مذہبی بیانیے کی تشکیل، مشاورت، قضاوت اور رہنمائی کا دائرہ  کون لگائے   اور علمی اختلاف و توہین کے درمیان لکیر کسے کھینچنی چاہیے؟

میڈیا کے مطابق اسلامی کونسل نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیا اور اس سے متعلق فیصلہ دیا۔ تاہم قانونی ماہرین اور اسلامی اسکالرز کے نزدیک  اسلامی کونسل کسی قسم کا فیصلہ دینے کی مجاز نہیں، یہ فقط ایک مشاورتی ادارہ ہے۔ اس حوالے سے مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان کے صدر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتویٰ نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ اس موقع پر  انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے  ایک معروف دینی سکالر کے خلاف، جو اس وقت زیر تفتش ہے ، ان کے خطابات اور تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے "گستاخی" کا فتویٰ نما اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف قانونی اور آئینی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ دینی و فکری طبقات میں بھی شدید اضطراب  نےجنم لیا ہےاور ایک زیر تفتش شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے ۔

انہوں واضح کیا کہ آئینی دفعات کے مطابق کونسل کا بنیادی کام صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین یا زیرِ غور مسوّدات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تجزیہ کرے اور متعلقہ ریاستی اداروں کو رہنمائی فراہم کرے۔

انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ  ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین امت کا اتحاد، شریعت کی روح کی حفاظت، اور فہمِ دین کا فروغ ہونا چاہیے،  وہ  اپنے نصب العین  پر عمل درآمد کرتا  نظر نہیں آرہا ۔

یاد رہے کہ  مجلس علمائے مکتب اہلبیت پاکستان "فقہ جعفری کے برجستہ علمائے کرام"  پر مشتمل  ایک نمایاں اور قومی سطح کی تنظیم ہے۔  اس تنظیم کے صدر نے  اسلامی نظریاتی کونسل  کے اراکین سے مطالبہ کیا  ہے کہ وہ کسی دباو میں یا تعصب میں یا کسی اور  وجہ سے ادارے کے تشخص کو خراب نا کریں اور آئین کی دی گئی حدود کی پاسداری کریں نیز  شخصی فتوے جاری کرنے کی مثال قائم نہ کریں ۔ انہوں نے صریحاً کہا ہے کہ کونسل کا کام مصالحت، اتحاد اور فکری رہنمائی ہے  نہ کہ سیاسی یا ریاستی مقدمات میں فریق بننا۔  اگر یہی روش جاری رہی، تو کونسل اپنی آئینی و اخلاقی ساکھ کھو بیٹھے گی۔

مندرجہ بالا سطور اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل نہ ہی تو کسی کے خلاف فتوی سنانے کی مجاز ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف فیصلہ دینے کی۔ یعنی یہ ادارہ نہ ہی تو دارُالافتا ہے اور نہ ہی عدالت۔   کسی ایک یا دو مسالک کے فقہی قواعد اور مبانی کو بنیاد بنانا در اصل اس ادارے کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ ہماری دانست میں  اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی صاحب ایک جہاندیدہ شخصیت ہیں۔  انہیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ جب فکری اختلاف، انصاف کے دائرے سے نکل کر تعصّب،  تکفیر  اور تعزیر کے پیکر  میں ڈھل جائے، تو علم کا وقار اور سماج کا توازن دونوں مجروح ہو جاتے ہیں ۔ لہذا  حکمت کا تقاضا ہے کہ  ہم  باہمی علمی اختلافات کو سمجھنے اور انہیں مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، نہ کہ علمائے کرام اور دانشمندوں کو  خاموش کر نے  پر تُل جائیں۔ ہمارے نزدیک حقیقتِ حال یہ ہے کہ  فقہی اصولوں میں ہر مکتب اپنا ہی عکس دیکھتا ہے اور ہر مفسّر اپنی ہی تفسیر کو درست مانتا ہے۔ ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مسلکی حدود سے ماورا ہو کر، دینِ اسلام کی روحانی و اخلاقی تعلیمات کو خالصتاً قرآنی اور نبویؐ تناظر میں سمجھنے کی سعی کرے۔ یہی روش ملک میں دینی شعور کے نمو کا سبب بنے گی اور کونسل کو اس کے اصل مقصد یعنی  وحدتِ فکر اور حکمتِ شریعت سے ہمکنار کرے گی۔ ہر مکتبِ فکر فقہ میں اپنا عکس دیکھتا ہے، اور  ہر مفسر تفسیر میں اپنا یقین  مگر حقیقت وہی ہے جو مسالک سے بلند ہو کر وحی کی اصل روح سے ہم آہنگ ہو، اور یہی وہ بصیرت ہے جو ایک منصف مزاج نظریاتی کونسل کی پہچان بن سکتی ہے۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...