اسلامی نظریاتی کونسل انجنیئرمحمد علی مرزا پر گستاخی کا فتوی جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ۔ علامہ سید حسنین عباس گردیزی
کونسل نے رائے نما فتوے سے ایک زیر تفتیش شہری کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے ۔ صدر مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان :
اسلام آباد ( پ ر ) اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتوے نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے ان خیالات کا اظہار صدر مجلس علما مکتب اہلبیت علامہ سید حسنین عباس گردیزی نے میڈیا سے جاری بیان میں کیا۔ انہیں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک معروف دینی سکالر کے خلاف، جو اس وقت زیر تفتش ہے ، ان کے خطابات اور تقاریر کو بنیاد بناتے ہوئے "گستاخی" کا فتویٰ نما اعلامیہ جاری کیا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف قانونی اور آئینی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے بلکہ دینی و فکری طبقات میں بھی شدید اضطراب جنم لیا ہے۔اور ایک زیر تفتش شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دی ہے ۔اس حوالے سے آئینِ پاکستان کی دفعات 228، 229 اور 230 اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل، دائرۂ کار اور اختیارات کا واضح تعین کرتی ہیں۔ ان دفعات کے مطابق کونسل کا بنیادی کام صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ قوانین یا زیرِ غور مسودات کا قرآن و سنت کی روشنی میں تجزیہ کرے اور متعلقہ ریاستی اداروں کو رہنمائی فراہم کرے۔ آرٹیکل 229 کے مطابق صرف صدر، گورنر، پارلیمان یا صوبائی اسمبلی ہی اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کر سکتے ہیں — وہ بھی کسی شخص یا انفرادی عمل کے بارے میں نہیں، بلکہ صرف قانونی سوالات پر۔
انہوں نے مذید کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کا تحقیقات یا فوجداری معاملات میں مداخلت کرنا یا کسی فردِ واحد کے خلاف شرعی یا فتوے نما رائے دینا، آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی جس قانون کے تحت قائم کی گئی، اس میں بھی ایسا کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ کسی دینی یا نظریاتی ادارے سے تفتیشی مشورہ طلب کرے۔
ایک ایسا ادارہ جس کا نصب العین امت کا اتحاد، شریعت کی روح کی حفاظت، اور فہمِ دین کا فروغ ہونا چاہیے، یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ادارہ ان پر عمل درآمد کرتا نظر نہیں آرہا ۔
میں اسلامی نظریاتی کونسل مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ کسی دباو میں یا تعصب میں یا کسی اور وجہ سے ادارے کے تشخص کو خراب نا کریں اور آئین کی دی گئی حدود کی پاسداری کریں شخصی فتوے جاری کرنے کی مثال نا بنائے ۔کونسل کا کام مصالحت، اتحاد اور فکری رہنمائی ہے نہ کہ سیاسی یا ریاستی مقدمات میں فریق بننا۔ اگر یہی روش جاری رہی، تو کونسل اپنی آئینی و اخلاقی ساکھ کھو بیٹھے گی۔ جاری کردہ : مرکزی میڈیا سیل مجلس علما مکتب اہلبیت پاکستان








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں