زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 13 اکتوبر، 2025

یکساں نصاب تعلیم اور تاریخ کا جبر

یکساں نصاب تعلیم اور تاریخ کا جبر
ڈاکٹر نذر حافی : 
بات صرف پاکستان کی نہیں اور نہ ہی ماضی کے مسلمانوں کی ہے۔ تاریخ کوچھوڑیں اور  آپ آج کے مسلمانوں کا مزاج ہی دیکھ لیں۔  مسلمانوں نے بحیثیت قوم اپنے دین سے شہید ہونے، غازی بننے، اور فتوحات و دفاع کے علاوہ متحد ہونا سیکھا ہی نہیں۔  پاکستان کی  قومی تعلیمی پالیسیوں کے ارتقا، تاریخی پس منظر اور عملی اثرات کا تجزیہ  کریں۔ 1947 سے 2025 تک مختلف پالیسیاں آئیں، جن میں کبھی نظریاتی اغراض کو ترجیح دی گئی، کبھی سائنسی اور تکنیکی تعلیم کو، اور کبھی نصاب میں یکسانیت اور قومی شناخت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔  یہ سارا زور زبانی کلامی ہی رہا  جبکہ عملاً ہر دور میں تعلیم کو اکثر سیاسی اور فرقہ وارانہ ترجیحات کے تابع رکھا گیا۔
قیام پاکستان کے تین ماہ بعد نومبر 1947 میں پہلی آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس منعقد ہوئی۔ وزیرِ تعلیم فضل الرحمن نے تعلیم کو روحانی، سماجی اور پیشہ ورانہ نکات کے تحت اصلاح کا ذریعہ قرار دیا۔ اسی کانفرنس میں زبان کی پالیسی طے کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ اردو کو ذریعہ تعلیم اور لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا۔ 1948 میں اردو کمیٹی قائم کی گئی اور 1950 میں اس نے مغربی پاکستان کے اسکولوں میں اردو کو ذریعہ تعلیم کے طور پر اپنانے کی تجویز دی۔ یہ تجویز جہاں پاکستان ٹوٹنے  کے اسباب میں سے ایک ہے وہیں  یہ سوال بھی موجود ہے  کہ اگر یہ تجویز کسی سیاسی مفاد یا دباو کے پیشِ نظر نہیں تھی تو پھر باقی بچ جانے والے پاکستان میں ہی اردو کو سرکاری زبان کے طور پر نافذ کیوں نہیں کیا گیا؟ ۔  اس کے بعد ایک  چھ سالہ تعلیمی منصوبہ 1952 میں بنایا گیا جو ناکام ہوا، یہ ناکامی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی مقاصد کو صرف منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ وسعتِ قلبی اور قومی  دھارے کے ساتھ حقیقی معنوں میں مل کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 1959 میں کمیشن برائے قومی تعلیم نے نصاب اور تعلیمی اہداف پر نظرثانی کی سفارش کی، جس میں شخصیت سازی اور مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے پر زور دیا گیا۔
1970 میں صدر جنرل یحییٰ خان نے وزارت تعلیم ائیر مارشل نور خان کو سونپی۔ نور خان نے ابتدائی کلاسوں سے سائنسی تعلیم اور نظریاتی تربیت دونوں پر زور دیا۔ 1972 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے نصاب میں قومی ہم آہنگی اور یکساں نصاب کی ضرورت پر زور دیا۔ تاریخی تجربہ بتاتا ہے کہ یہ سارا زور بھی بنگلہ دیشیوں کو زِچ کرنے کے علاوہ کسی اور کام نہیں آیا۔ وہ آبادی میں مغربی پاکستان سے زیادہ تھے اور اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔   اس تجربے سے ثابت ہوا کہ نصابِ تعلیم  میں ہم آہنگی پیدا  کرنے کے نام پر زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا اور لسانی، سماجی و مذہبی  تنوع کو قبول نہ کرنا حکمتِ عملی نہیں بلکہ سوئے تدبیر ہے۔
یہ سوئے تدبیر  بعدازاں بھی حکمتِ عملی کے نام سے جاری رہی۔1979 میں ضیاء الحق کے دور میں نصاب کی اسلامائزیشن کی گئی اور تعلیم میں مذہبی شدت پسندی داخل ہوئی۔ اب بنگلہ دیشیوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد دیگر ادیان و مسالک کی شامت آگئی۔ اس کا خمیازہ ہم آج تک بُھگت رہے ہیں۔ 1992 اور 1998 کی پالیسیاں مرحومین  کے فکری جانشینوں نے مرتب کیں اور نصاب تعلیم کی دنیا میں عملی طور پر فرقہ وارانہ بیانیہ غالب رہا۔ 2009 کی پالیسی نے سب کے لیے معیاری تعلیم، خواتین کی تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دیا، لیکن نصاب میں یک رخی تاریخِ اسلام اور فقہی  اثرات برقرار رہے۔ 2017 سے 2025 تک اصلاحاتی اقدامات، ڈیجیٹل تعلیم اور خصوصی تعلیم میں توسیع کی گئی اور ساتھ ہی ساتھ بنیادی چیلنج یعنی فرقہ وارانہ غلبہ، تاریخی حقائق کو مسخ کرنے  اور علمی تنوع کے بجائے  متشدد مذہبی بیانیے  کا فروغ بھی حاکم رہا۔ اس کی چھوٹی سی مثال درسی کتابوں میں زبردستی درود شریف میں  "اصحابہ"  کا اضافہ کرنا ہے۔  درود شریف میں یہ اضافہ  نبیؐ کے  دور میں بھی نہیں تھا اور خلافتِ راشدہ سے لے کر  کسی صحابی یا تابعی نے بھی اپنی زبان پر نہیں لایا اور نہ ہی امّت مسلمہ نے  کسی بھی زمانے میں نبی ؐ کے نام کے ساتھ ایسا درود لکھا یا پڑھاہے۔ اب یہ نئی نویلی بدعت درسی کتابوں میں لکھ کر روزانہ مسلمان بچوں کی زبانوں سے  زبردستی ادا کروائی جا رہی ہے۔
کیا ہمارے ماہرین تعلیم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ زور و زبردستی کے رویّے مسلمانوں کو کسی بھی پلیٹ فارم پر جمع نہیں ہونے دیتے۔  ہمیں  یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  بحیثیت قوم  مسلمانوں کو اپنے دین سے شہید ہونے، غازی بننے، اور فتوحات و دفاع کے علاوہ تعلیم و تربیّت، تہذیب و تمدّن، سائنس و ٹیکنالوجی   اور نصابِ تعلیم پر بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔  ہمیں اگر جدید  دنیا میں باوقار طریقے سے داخل ہونا ہے تو  نصابِ تعلیم کے میدان میں ہر طرح کے غیر علمی یعنی  سیاسی و فرقہ وارانہ سوچ کی برتری پر مبنی رویّوں سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔  
کیااب ماہرین تعلیم کو یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تعلیم لوگوں کے عقائد تبدیل کرنے ، انہیں مطیع و فرمانبردار بنانے، ان سے سچ کو چھپانے  کا ہتھکنڈہ ہے یا  فکری و روحانی آزادی و حُریّت کی مشعل ہے۔ پاکستان میں یکساں نصاب میں فرقہ وارانہ غلبہ علمی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف  ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ اتنا خطرناک کہ جتنا ایٹم بم ہے۔ کیا ہمارے ماہرینِ تعلیم اس خطرے کو نہیں سمجھتے؟  کیا نصاب تعلیم بنانے والے یہ جانتے ہیں کہ  تعلیم کو سیاسی و فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی کی وفاداریوں کو تبدیل کرنے، کسی کے عقائد کو بدلنے  اور کسی کو تعلیم  کی نکیل  ڈال کر  اُسے  کسی کی ا طاعت و  تعظیم پر مجبور  کرنے سے وہ  کس جرم کے مرتکب  ہو رہے ہیں؟
اس سلسلے میں ہماری کچھ تجاویز ہیں جو نصاب تعلیم  میں موجود میٹھے زہر کو کم کرنے کے حوالے سے یقیناً ارباب حل و عقد کیلئے مفید ہونگی۔
1. نصاب میں فقہی اور فکری تنوع کو یقینی بنایا جائے تاکہ  طلبا کی ذہنی آزادی محفوظ رہے۔
2. دینی نصاب میں مشترکہ اصول، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں پر زور دیا جائے۔
3. نصاب میں تاریخی شخصیات کا ٹھوس حقائق پر مبنی ایسا  جامع اور متوازن تعارف شامل کیا جائے جو تعلیمی معیارات کے عین مطابق ہو۔
4. نصاب سازی میں  سچائی کو جانچنے  والے ماہرین کو شامل کیا جائے۔
5. اساتذہ کی تربیت میں فرقہ وارانہ حساسیت  کے خاتم اور تحقیقی تدریس کی مہارت شامل کی جائے۔
6. نصاب پر آزاد اور شفاف تعلیمی نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔
7. مذہبی تعلیم کو تنقیدی فہم اور تحقیقی زاویے سے جوڑا جائے۔
8. تعلیمی بجٹ میں اضافہ اور معیاری تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے۔
9. ڈیجیٹل تعلیم اور دیہی علاقوں میں تعلیم کے وسائل میں  غیر مسلموں کیلئے بھی مساوات کو یقینی بنایا جائے۔
آخر میں ہم  ماہرین تعلیم کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ نصاب تعلیم میں آیات و روایات کی تعداد بڑھانے یا تاریخ کو کسی ایک فرقے کی منشا کے مطابق ڈھال کر پیش کرنے، یا درود شریف جیسی مقدس عبارات میں کسی فرقے کی  دھونس کی بنیاد  پر کسی طرح کا اضافہ کرنے سے نصابِ تعلیم اسلامی نہیں ہو جائے گا۔ نصابِ تعلیم کو اسلامی کرنے کیلئے ضروری ہے کہ  تعلیم کو دینی تعلیمات سمیت تمام مضامین میں  جبر ی اطاعت کے بجائے  تحقیق و تجربے، فیکٹ چیکنگ اور کھوج و تلاش سے جوڑا جائے۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...