زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

جمعہ، 3 اکتوبر، 2025

یہ مسائل صرف آزاد کشمیر کے نہیں!

یہ مسائل صرف آزاد کشمیر کے نہیں!
ڈاکٹر نذر حافی
 جو لوگ آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات کو نہیں سمجھتے، وہ اس مخمصے میں مبتلا ہیں کہ جب لوگ ٹیکس نہیں دیں گے تو ریاست کیسے چلے گی؟لیکن وہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسئلہ صرف ٹیکس کی ادائیگی کا نہیں بلکہ اس ٹیکس کے درست  استعمال کا ہے جو وصول کیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب پنجاب کے کسانوں، سندھ کے مزدوروں، خیبرپختونخوا کے نوجوانوں، بلوچستان کے باسیوں اور آزاد کشمیر کے شہریوں کا لہو مقتدر اشرافیہ چوس رہی ہے، تو پھر عام لوگ مفلوک الحال کیوں ہیں؟ وسائل کا غلط استعمال اور ناہمواری ہر صوبے اور علاقے میں کیوں ہے؟
ہمیں اتنا  سادہ لوح نہیں ہونا چاہیے کہ ہم احتجاج اور سازش میں تمیز  ہی نہ کر سکیں۔ آزاد کشمیر کی عوامی تحریک کا ایک اہم مطالبہ اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ہے۔ کیا یہ مطالبہ ہر پاکستانی کا نہیں ہونا چاہیے کہ  ہمارے ہاں آدھی رات کو عدالتیں صرف اشرافیہ کے لیے کیوں کھلتی ہیں  ! عام  لوگوں کو  بھی کھیتوں، ورکشاپوں اور بازاروں میں فوری انصاف میسّر  ہونا چاہیے؟۔
 سچ بات تو یہ ہے کہ صرف آزاد کشمیر میں ہی نہیں بلکہ سارے پاکستان کی اشرافیہ کی مراعات ختم کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح پاکستان کے سارے صوبوں میں سرکاری اور سیاسی سطح پر "غداری" کا لیبل ختم کر کے عوام کے بارے میں شراکت داری اور انصاف کی زبان اپنائی جانی چاہیے۔ملک کے ہر خطے میں قدرتی وسائل اور آمدنی کا کم از کم 50 فیصد براہِ راست مقامی ترقی اور عوامی بہبود پر خرچ کیا جانا چاہیے۔اسی طرح تمام ترقیاتی منصوبوں میں مقامی کمیونٹیز کی شمولیت کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔اگر پاکستان کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانا ہے تو ہمیں اپنی داخلی اصلاحات اور انسانی حقوق کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بلند کرنا ہوگا۔مزید برآں، ملک کے ہر کونے میں سرکاری خزانے سے بجلی، خوراک اور روزگار کے حوالے سے عوام کی سرپرستی ضروری ہے۔
آج ریاستِ پاکستان میں پنجاب کا کسان، جو ملک کی زرعی بنیاد ہے، منڈیوں اور سود خوروں کے رحم و کرم پر ہے۔اسی طرح سندھ کی صنعتی بندرگاہوں کی دولت مقامی عوام تک پہنچنے کے بجائے چند مراعات یافتہ گروہوں کے ہاتھوں میں محدود ہے۔خیبرپختونخوا کے نوجوان تعلیم یافتہ مگر بے روزگار ہیں، جبکہ بلوچستان کی معدنی دولت سے استفادہ مقامی آبادی کی بجائے غیر مقامی اشرافیہ اور بیرونی سرمایہ کاروں تک محدود ہے۔آزاد کشمیر کے عوام بھی بجلی، روزگار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جو ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی غیر منصفی کی نشانی ہے۔یہ تمام محرومیاں صرف ایک بات واضح کرتی ہیں کہ طاقتور اشرافیہ کا غیر منصفانہ قبضہ اور عوام کو غدار کہہ کر ان کی آواز دبانے کی ریاستی پالیسی سارے پاکستان میں یکساں طور پر نافذ ہے۔یہ پالیسی ریاست کے  اُس اصل کردار کے خلاف ہے جو کہ عوام کی خدمت اور ان کی سیاسی شمولیت کا ضامن ہوتا ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی عوام کی مشکلات مشترکہ ہیں، اور ان کی بات سننے کی بجائے انہیں "غدار" یا "ملک دشمن" قرار دے کر دبانے کی کوشش کرنا صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں بلکہ یہ سارے پاکستان کا المیہ ہے۔یہ رویہ ملک کی اجتماعی ترقی اور ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ریاست صرف اشرافیہ کی عیاشیوں  کا نام نہیں ہے  بلکہ ریاست تمام معاملات میں عوام کی سیاسی شمولیت، ریاستی اداروں کی کارکردگی اور بین الاقوامی ساکھ کے مجموعے کا نام ہے۔اگر اپنے قانونی حقوق مانگنا غداری ہے تو پھر عوام کو کمزور رکھنے، عوامی مینیڈیٹ پر شب خون مارنے،  کرپشن کرنے اور وسائل کو اشرافیہ کے قدموں میں ڈال دینے کو کیسے حب الوطنی کہا جا سکتا ہے؟کیا ایک ملک کے اندر مختلف گروہوں، سیاسی جماعتوں، قبائل اور مسالک کے درمیان اختلافات کو بڑھا کر حکومت کرنا حُبُّ الوطنی ہے؟کیا لوگوں کو تقسیم کر کے حکومت کرنا  ملک دوستی ہے؟ اگر ہم اسی طرح کرپشن کا خاتمہ کرنے اور قومی وسائل پر عوام کا حق تسلیم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو ملک دشمن اور غدار قرار دیتے رہے، تو پھر یہ ملک کیسے ترقی کرے گا؟ ہمیں کب یہ بات سمجھ آئے گی کہ جب  اس ملک کے لوگ  اپنے مسائل کے بارے میں خود سوچیں گے،  خود بولیں گے، خود اپنے مسائل کو اٹھائیں گے اور اپنے حقوق کو پہچانیں گے  تو تبھی یہ ملک ترقی کرے گا۔
یہ ہر باشعور پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ "تقسیم کرو، لڑاؤ اور الجھاؤ" کی سازشوں کو سمجھے، سیاسی مسائل کو مکالمے کی میز پر لائے، اور عوامی مطالبات کو تشویش کی بجائے اصلاح کا موقع سمجھے۔شفاف پالیسی، مقامی شمولیت، اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی داخلی اعتماد بحال کرنے اور پاکستان کو مضبوط بنانے کی کنجی ہے۔قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم  کے بغیر سارے پاکستان میں عسکری یا سیکیورٹی آپریشنز  در اصل اشرافیہ کے مفادات کے  تحفظ کیلئے ہیں، ان میں عوام کیلئے کچھ نہیں۔اب وقت ہے کہ ہر پاکستانی، چاہے وہ پنجاب کا کسان ہو، سندھ کا مزدور ہو، خیبرپختونخوا کا نوجوان ہو، بلوچستان کا طالبعلم ہو یا آزاد کشمیر کا شہری، اُسے اپنی بہتری کے لیے سوچنے اور بولنے کی آزادی دی جائے۔ بلاشُبہ اپنے حقوق کے لیے اٹھنے والی یہ آوازیں ایک قوم کی نبض ہیں، نہ کہ محض مطالبات۔
یاد رکھیں! جب قانونی مطالبات کو غداری کہا جاتا ہے تو اندرونی احتجاج کا سیاسی حل بند ہو جاتا ہے، اور جب سیاسی حل کی جگہ طاقت کا استعمال شروع ہو جاتا ہے تو پھر احتجاج عوامی نفرت میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔ پھر جب عوامی نفرت اندرونی انتشار کا روپ اختیار کر لیتی ہے تو بین الاقوامی سطح پر بدنامی اور اندرونی طور پر ذلت و رسوائی  کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ عوام کی محنت اور امیدوں کو نظر انداز کر کے صرف خاک و مٹی کو ملکی سرحد نہیں کہا جا سکتا۔قومی سرحدیں عوامی امنگوں سے تشکیل پاتی ہیں  اور عقلمند لوگ اپنی سرحدوں کو کمزور نہیں کیا کرتے۔ کبھی بھی سرحدوں کے باسی غدار نہیں ہوتے بلکہ غدار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان سرحدوں کو کھوکھلا کرتے ہیں۔اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانے والے اس ملک کے غدار یا دشمن نہیں ہیں، بلکہ ملک  دشمن وہ ہیں جو اِن قانونی  آواز وں  پر غداری کا لیبل لگا دیتے ہیں۔ آج کے دور میں اگر ہم نے اپنے لوگوں کو غدار اور ملک دشمن کہنے کی قدیمی روش ترک نہ کی تو جدید دور میں ہم ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ہمیں چاہیے کہ ہم آزاد کشمیر، بلوچستان، پنجاب، سندھ اور خیبر کے مسائل اٹھانے والوں کو غدار کہنے کے بجائے اُن کی مشکلات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم قانونی حق طلب کرنے والوں کو غدار کہہ کر خاموش کریں گے تو داخلی تقسیم گہری ہوگی اور ہم بھارت جیسے بیرونی حریف کے پروپیگنڈے کا نشانہ بنیں گے۔ بھارت جو ہمارے داخلی اختلافات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ماہر ہے وہ ہمیشہ اسے مواقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ جب پاکستان میں مقتدر اشرافیہ اور منہ زور بیوروکریسی کے خلاف بات کرنے کو "غداری" اور "دشمنی" کہہ دیا جاتا ہے تو یہ بیانیہ بھارت جیسے دشمن ملک کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ بھارت مسلسل کئی دہائیوں سے   ہمارے داخلی اختلافات کو عالمی فورمز اور میڈیا پر استعمال کر کے پاکستان کی ساکھ کو کمزور اور اپنی سیاسی و اخلاقی پوزیشن کو مستحکم کرتا چلا آ رہاہے۔لہذا داخلی توازن قائم رکھنے کے لیے سیاسی قیادت، مقتدر حلقوں اور ریاستی اداروں کو اپنی سوچ کو  بدل کر شفافیت، انصاف اور عوامی شمولیت کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ ضرورت ہے کہ ہم سارے پاکستان میں عوامی مسائل کے حل کو بندوقوں کے بجائے ایسے راستوں میں تلاش کریں جو ہماری حب الوطنی میں اضافے کا باعث بنیں۔


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...