زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 19 اکتوبر، 2025

۲۷ اکتوبر۔۔۔ خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

۲۷  اکتوبر۔۔۔  خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
ڈاکٹر نذر حافی
27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج  کشمیر پر قابض ہوئیں۔ یوں اس روز ایک ایسے تنازع کی بنیاد  پڑی جس سے جنوبی ایشیا کو آج تک مستقل کشیدگی، عسکری چپقلشوں  اور سفارتی بحران  کا  سامنا ہے۔ یہ بحران اس لئے ختم نہیں ہو سکتا چونکہ  ایک طرف   بین الاقوامی سطح پر ریاست جمّوں و  کشمیر پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کو متعین کرتی ہے جبکہ دوسری طرف   کشمیریوں کی نظریاتی زندگی جیسے حقِ خودارادیت، نوآبادیاتی ظلم کے خلاف مزاحمت، اور مسلم اُمہ کے ساتھ یکجہتی جیسے اصول بھی صرف پاکستان کی بدولت زندہ ہیں۔ اگر  ریاست جموّں و کشمیر کا محلِ وقوع پاکستان کے شمالی علاقوں، گلگت بلتستان، اور چین کے ساتھ زمینی رابطے کی بنیاد ہے تو پاکستان کا وجودریاست جموں و  کشمیر کی  بقا، خودمختاری اور تاریخی حیثیت کیلئے ناگزیر ہے۔ بطورِ مثال  اگر چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے منصوبے کشمیر کے بغیر ممکن نہیں تو اُسی طرح پاکستان کے بغیر کشمیر کو  گلگت و بلتستان، سیاچن گلیشیئر، لداخ اور کارگل جیسے کئی  علاقوں سے محرومی کا سامنا یقینی ہے۔
کہنے کو تو ۲۷  اکتوبر  کا دن  کشمیری عوام کے لیے ایک تاریخی سانحہ ہے۔ تاہم ہم  یہ کب سوچیں گے کہ یہ سانحہ کیوں رونما ہوا؟ ہمارے نزدیک  یہ سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا اگر ہمارے پالیسی ساز اپنی پالیسیوں  پر نظرِثانی کرنے کے عادی ہوتے۔ تاریخی شواہد کے مطابق  27 اکتوبر 1947  سے لے کر سقوطِ بنگلہ دیش 16 دسمبر 1971  تک ہم بحیثیتِ قوم دوقومی نظریّے سے مسلسل پسپا ہوتے گئے۔ ہمارے نزدیک اس پسپائی کی بنیادی وجہ جہاد کی غلط تبیین اور جتھوں کی سیاست تھی۔ ہمارے ہاں جہاد کو سیاسی، اقتصادی، علمی اور تعلیمی و  ریاستی عمل کے بجائے  ایک غیر سنجیدہ   اور فرقہ وارانہ عمل بنا دیا گیا ، جس کے نتیجے میں جہاد  کو ایک انڈسٹری بنا کر خون آشام جتھوں، ٹارگٹ کلرز، خود کُش بمبار فورسز، اور  مختلف مذہبی عسکری گروہوں کے حوالے کر دیا گیا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ریاستی سطح پر دفاعی اداروں کو مخصوص دینی طبقات نے اپنے مخالفین کو کچلنے کیلئے  استعمال کیا، جس کا نتیجہ متشددانہ رویّوں ،  غیر نظریاتی ردعمل اور جذباتی مہمات کی شکل میں نکلا۔
بھارت نے دنیا کے سامنے  ریاست جمّوں و کشمیر اور بنگلہ دیش دونوں محازوں پر  اپنی  مداخلت کو ایک قانونی عمل قرار دیا۔ اس کے جواب میں  ہم اپنی محدود جتھہ ساز سوچ  کے نتیجے میں بھارت کو  کہیں پر بھی  مات نہیں دے سکے۔  یہی وجہ ہے کہ  اقوامِ متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیتی ہیں لیکن اسے عملی کرنے کیلئے پاکستان کے پاس سوچنے اور پلاننگ کرنے والے افراد ہی نہیں۔ ہماری ساری سوچ گھوم پھر کر جنگ لڑنے پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔
پاکستان نے ۲۷ اکتوبر اور ۱۶ دسمبر کو  "یومِ سیاہ" کے طور پر منانے کی روایت قائم کر رکھی ہے، جو ایک علامتی احتجاج ضرور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ احتجاج کسے کہتے ہیں؟  اگر ہم غوروفکر سے کام لیں تو  اس احتجاج کو  اسٹریٹیجک اور سفارتی سطح پر ایک بھرپور عوامی، جمہوری، بین الاقوامی  اور سیاسی  مہم میں بدلا جا سکتا ہے ۔
اس سال 2025 کا 27 اکتوبر ماضی کے مقابلے میں کئی وجوہات کی بنا پر کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ایک طرف بھارت کی مودی سرکار نے پانچ اگست 2019 کے غیر آئینی اقدامات کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مکمل سیاسی، آئینی اور جغرافیائی تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں، جن کے منفی اثرات اب تیزی سے واضح ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف، بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں بڑھتی ہوئی ہندوتوا سیاست اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک نے عالمی برادری میں تشویش پیدا کر رکھی  ہے۔ یہ ایسا موقع ہے کہ  اس وقت  عالمی برادری مسئلہ کشمیر  پر توجہ دینے کے لیے زیادہ تیار اور حساس ہے۔ یعنی عالمی سیاسی منظرنامہ کچھ اس انداز میں ترتیب پا چکا ہے کہ اگر اس وقت ریاستِ پاکستان  اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرے  تو وہ عالمی پذیرائی حاصل کر سکتا ہے۔ آج بھارت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی تنقید بڑھ رہی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جسے پاکستان کو مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔
عالمی سطح پر جیوپولیٹیکل تبدیلیاں بھی اس سال کے ۲۷ اکتوبر کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ان دِنوں  فلسطین میں جاری انسانی بحران، یوکرین جنگ، اور دنیا میں ابھرتے ہوئے نئے بلاکس نے انسانی حقوق، قبضے، اور خودارادیت جیسے مسائل کو عالمی مباحثے کا مرکز بنا دیا ہے۔ پاکستان ان مواقع کو استعمال کرتے ہوئے کشمیر کو ان عالمی بیانیوں سے جوڑ کر بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کے لیے یہ وقت محض رسمی بیانات کا نہیں  بلکہ ایک منظم سفارتی حکمتِ عملی اپنانے کا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور یورپی یونین جیسے اداروں کو کشمیر کی موجودہ صورت حال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے نتائج سے از سرِ نو  آگاہ کیا جانا چاہیے۔ سفارتخانوں کو چاہیے کہ وہ اس دن کے موقع پر دنیا بھر میں خصوصی بریفنگز، کانفرنسز اور ریسرچ رپورٹس کے ذریعے کشمیر کا مقدمہ پیش کریں۔
میڈیا اور نریٹو وار کے میدان میں پاکستان کو اپنے حصّے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ آج کے دور میں جنگ صرف توپوں اور بندوقوں سے نہیں بلکہ بیانیے  سے لڑی جاتی ہے۔ بیانئے کی جنگ  سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، آن لائن نیوز، بلاگز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ بھارت  کا بیانیہ   ہے کہ "کشمیر میں سب کچھ معمول" پر ہے  لیکن پاکستان اور کشمیری عوام کی ذمے داری ہے کہ وہ سچ کو مؤثر اور منظم انداز میں دنیا تک پہنچائیں۔
اس مقصد کے لیے عینی شاہدین اور کشمیری مہاجرین  کی براہِ راست گواہیاں ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ کشمیری  خاندان جو بھارتی افواج کے مظالم، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، یا میڈیا پر پابندیوں کے عینی شاہد رہے ہیں، اگر ان کی بات عالمی میڈیا، یوٹیوب چینلز، اور بین الاقوامی فورمز پر پہنچائی جائے تو بھارت کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھل سکتی ہے۔ ایسے واقعات کی وڈیوز، تصاویر، تحریری رپورٹس اور زندہ شہادتیں بین الاقوامی ضمیر کو بیدار کر سکتی ہیں بشرطیکہ اس مواد کو پروفیشنل انداز میں تیار اور نشرکیا جائے۔
ایسے میں ایک اور طاقت جو پاکستان کے لیے نہایت قیمتی اثاثہ بن سکتی ہے، وہ ہے کشمیری ڈائسپورا۔ کشمیری ڈائسپورا سے مراد دنیا بھر میں آباد وہ کشمیری باشندے ہیں جو یا تو بھارتی مظالم سے ہجرت کر چکے ہیں یا نسل در نسل بیرونِ ملک مقیم ہیں، لیکن اب بھی کشمیر کے مسئلے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، یورپ، مشرق وسطیٰ، اور کینیڈا جیسے خطوں میں مقیم یہ کشمیری برادری، وہاں کے میڈیا، پارلیمان اور انسانی حقوق کے اداروں تک اپنی آواز پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ان کی رہنمائی، معاونت اور سفارتی تربیت کی جائے تو یہی کشمیری ڈائسپورا، دنیا بھر میں کشمیر کے حق میں ایک مستقل سفارتی قوت بن سکتی ہے۔ ان کی ذاتی ڈائریاں، تجربات اور شہادتیں بین الاقوامی میڈیا میں ایک انسانی چہرہ پیش کرتی ہیں، جو بھارت کے سرکاری بیانیے کا مؤثر توڑ ہو سکتی ہیں۔پاکستان کے لیے یہ دن قومی سلامتی کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی، نظریاتی اور اسٹریٹیجک بقا سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ عوامی قیادت، جمہوری رہنماوں ، سیاسی پارٹیوں ،عسکری قیادت اور ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ ۲۷ اکتوبر کے موقع پر یہ واضح پیغام دیں کہ کشمیر پاکستان کی قومی سلامتی کا جزوِ لاینفک ہے، اور اس کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں۔
المختصر یہ کہ  ۲۷ اکتوبر ایک تاریخی سانحہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھرپور سفارتی، ڈیجیٹل اور قانونی موقع بھی ہے۔ اگر پاکستان نے  اس دن کو محض تقریری بیانات اور احتجاجی مظاہروں تک محدود رکھا  تو شاید دنیا کی توجہ حاصل نہ کر سکے۔ تاہم  اگر اسے منظم حکمتِ عملی، مضبوط سفارت کاری، ڈیجیٹل نریٹو وار،  عینی شاہدین کی روداد،  قانونی اقدامات، کشمیری ڈائسپورا کی مؤثر شمولیت، اور  موجودہ سفارتی فضا  کو  حق و سچ بیان کرنے کیلئے  استعمال کیا جائے  تو یہ دن کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر دوبارہ زندہ کرنے کا موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ پاکستان روایتی طرزِعمل سے آگے بڑھ کر ایک فعال، مربوط اور پائیدار کشمیر پالیسی اپنائے  قبل اس کے کہ سانحہ بنگلہ دیش کی مانند وقت اور موقع دونوں ہاتھ سے نکل جائیں۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...