اجمالی تعارف:
۱۔ تدریسی عملہ:
کسی بھی تعلیمی ادارے کی حقیقی پہچان اُس کے اساتذہ ہوتے ہیں۔ اساتذہ ہی قوم کے معمار اور ملت کے مستقبل کے مقدّر ساز ہوتے ہیں۔ جامعۃ الرضا کے تدریسی عملے میں جانی پہچانی علمی شخصیات شامل ہیں۔ادارے کے پاس ایک ایسی ماہر تدریسی ٹیم موجود ہے جس میں پانچ اساتذہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل ہیں۔ یہ تدریسی عملہ کئی برس کا تدریسی تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ دینی و عصری تعلیم کے جدید تقاضوں سے بھی آگاہ ہے۔
۲۔ نصابِ تعلیم کی انفرادیت:
۳۔ دینی اور عصری تعلیم کا امتزاج:
ادارہ ہذا میں اس وقت ۶۵ طلبا حصولِ علم میں مشغول ہیں ۔یہاں کے طلبا نہ صرف ادارہِ ہذا میں دینی علوم میں مہارت حاصل کر رہے ہیں بلکہ ملکی اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں سے بیچلر، ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں بھی حاصل کرتے ہیں۔یوں انہیں دینی و دنیاوی دونوں میدانوں میں کامیاب ہونے کے مقدمات فراہم کئے جاتے ہیں۔
۴۔ شعبہ تعلیم و تربیّت :
ایک دینی ادارے میں جیسے تعلیم کا نصاب موجود ہوتا ہے ویسے ہی تربیّت کا سلیبس بھی مشخص ہونا ضروری ہے۔ جامعۃ الرضا میں طلبا کی تمام تر نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کی مناسب نظارت کیلئے تعلیم و تربیّت کا شعبہ چوبیس گھنٹے فعال رہتا ہے۔ یہ شعبہ جہاں تعلیم و تربیّت کیلئے پلاننگ کرتا ہے وہیں چوبیس گھنٹے طلبا کے ساتھ رابطے میں رہ کر ان کی سرگرمیوں کو منضبط بھی کرتا ہے۔
۵۔شعبہ تحقیق:
جامعۃ الرضا ۱۹۹۸ میں قائم ہوا اور اس کے قیام سے لے کر اب تک سارا سال یہاں ملک کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کے طلبا تعلیم حاصل کرنے میں مشغول رہتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ میں بھی صرف کسی ایک صوبے کے اساتذہ پر انحصار نہیں کیا گیا۔ ادارہ ہذا میں ملک بھرکے مختلف صوبوں کے طلبا اور اساتذہ کا جمع ہونا بھی ایک لطفِ خداوندی ہے۔ طلبا اور اساتذہ کا یہ ثقافتی و لسانی تنوع طلبا کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو نکھارنے کا باعث بنتا ہے۔اس سے طلبا اپنی تعلیم کے ہمراہ با آسانی اپنے ملک کے مختلف علاقوں کے رسوم و رواج، تہذیب و ثقافت اور تمدّن سے آشنا ہوجاتے ہیں۔
۷۔بیرونِ ملک تعلیمی مواقع:
جامعۃ الرضا کے فارغ التحصیل طلبا کو بیرونِ ملک مختلف حوزاتِ علمیہ میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق اس وقت تقریباً سوکے قریب طلبا بیرون ملک مختلف حوزاتِ علمیہ میں اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ان میں سے کچھ پاکستان واپس آ کر وطنِ عزیز میں اپنی علمی و دینی خدمات پیش کر رہے ہیں۔
۸۔ دارالافتاء کی سہولت:
جامعۃ الرضا میں قائم دارالافتاء عوام کے شرعی سوالات کا فوری اور درست جواب فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں لوگ اپنی دینی رہنمائی کے لیے رجوع کرتے ہیں۔
۹۔ جامعۃ المصطفیٰﷺ العالمیہ ﴿ المصطفیٰﷺ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم﴾ کے ساتھ الحاق:
جامعۃ الرضا اسلام آباداپنے تعلیمی دائرہ کار کے لحاظ سے المصطفیٰﷺ انٹرنیشنل یونیورسٹی قم کے ساتھ الحاق شدہ اور رجسٹرڈ ادارہ ہے۔ یہاں زیرِ تعلیم طلبا کو اعلیٰ تعلیم کیلئے ایرانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اور وہاں سے ملنے والی ڈگریاں پاکستان میں بھی تسلیم کی جاتی ہیں۔
۱۰۔ وفاق المدارس شیعہ کے ساتھ الحاق :
یہ ادارہ پاکستان کے معروف ادارے وفاق المدارس شیعہ کے ساتھ بھی ملحق ہے۔ اس الحاق سے یہاں طلبا کو دینی تعلیم کے امتحانات میں شرکت کی سہولت حاصل ہوتی ہے، جس سے انہیں ملکی سطح پر تسلیم شدہ اسناد ملتی ہیں۔
۱۱۔ وفاقی تعلیمی بورڈ سے الحاق:
اسی طرح جامعۃ الرضا کا الحاق پاکستان کے وفاقی تعلیمی بورڈ سے بھی ہے، جس سے طلبا کو قومی سطح پر تعلیم مکمل کرنے اور امتحانات میں شرکت کا موقع ملتا ہے۔
۱۲۔ ڈیجیٹل ذرائع سے دین کی تبلیغ:
جامعۃ الرضا اپنے طلبہ کو سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فورمز کے ذریعے دین کی تبلیغ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہاں کے طلبا آن لائن کلاسز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے اسلامی معارف کو عوام تک پہنچانے میں مشغول رہتے ہیں۔
۱۳۔ غیر نصابی سرگرمیاں:
۱۴۔ ثقافتی سرگرمیاں:
۱۵۔ محافل و مجالس اور خصوصی دروس کا سلسلہ:
جامعۃ الرضا کے طلبہ رمضان المبارک اور محرم الحرام کے دوران مساجد، امام بارگاہوں، مدارس اور یونیورسٹیوں میں اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے ہیں ، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر سارا سال فعال رہتے ہیں جس سے دینی معارف کا پیغام وسیع پیمانے پر عوام النّاس تک پہنچتا ہے۔
۱۶۔ درس اخلاق :
طلبا کی روحانی و معنوی نشونما کیلئے ادارہِ ہذا میں اخلاقی و معنوی تربیّت کا خاص طور پر اہتمام ہے۔ ایک باقاعدہ شیڈول کے مطابق اذان، نمازِ جماعت، دعاوں، تلاوتِ قرآن اور درسِ اخلاق کا انتظام کیا گیا ہے۔ دروسِ اخلاق میں جید علمائے کرام طلبا کو وعظ و نصیحت کے علاوہ علمِ اخلاق کی خصوصی تعلیمات سے بھی مستفید کرتے ہیں۔
۱۸۔ داخلے کی شرائط:
جامعۃ الرضا میں داخلہ ہر سال اگست میں ہوتا ہے اور داخلے کے لیے کم از کم دسویں کلاس پاس ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ کسی مقامی عالم دین سے ایک تصدیق نامہ بھی لازمی ہے۔ جامعۃ الرضا ایک مضبوط علمی و دینی مرکز کے طور پر اپنے طلبا کو اسلامی معاشرے کی خدمت کے لیے تیار کرتا ہے۔ چنانچہ یہاں طلبا کو دینی تعلیم کے ہمراہ دنیاوی تعلیم کو جاری رکھنے کی بھی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔





















0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں