علم کی برکت عمل کے ساتھ ہے۔ مولانا رمیز الحسن موسوی صاحب
رپورٹ: ثاقب علی ناصری ﴿جامعۃ الرضا اسلام آباد﴾
جامعۃ الرضا اسلام آباد کے طلبا کو مولانا رمیز الحسن موسوی صاحب نے ہفتہ وار درسِ اخلاق سے مستفید کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں علم اور عمل کی ہمراہی اور ایک ساتھ ہونے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علم حاصل کرنا ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس وقت تک فائدہ مند نہیں جب تک اسے عمل کی شکل نہ دی جائے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ جو شخص خود علم پر عمل کرتا ہے، اس کی باتوں میں اثر ہوتا ہے۔ جب وہ دوسروں کو نیکی کی دعوت دیتا ہے تو اس کی شخصیت خود ایک نمونہ بن جاتی ہے، جس سے لوگ متاثر ہو کر اس کی باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
مولانا رمیز الحسن موسوی صاحب نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی شخص خود عمل نہ کرے اور دوسروں کو نصیحت کرے تو اس کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی نصیحت کھوکھلی محسوس ہوتی ہے اور اس کا فائدہ نہ خود کو ہوتا ہے نہ دوسروں کو۔ انہوں نے قائد شہید علامہ عارف حسینی اور دیگر علما کی زندگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ علم کا اصل حسن اس پر عمل کرنے میں ہے، اور عمل کی روشنی ہی دوسروں کو ہدایت کی طرف لے جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی عادات کو ملکات میں تبدیل کرنا ضروری ہے اور عمل کے بغیر علم میں کوئی برکت نہیں۔
درسِ اخلاق کے بعد انہوں نے جامعۃ الرضا کی لائبریری اور مطالعہ ہال کا دور بھی کیا۔ اس موقع پر کمپیوٹر لیب بھی انہیں دکھائی گئی اور شعبہ تحقیق کے مسئول برادر مزمل حسین نے جامعۃ الرضا میں طلبا کی جاری تحقیقی کاوشوں سے بھی انہیں آگاہ کیا۔









0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں