اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) — گلگت بلتستان کے یومِ آزادی کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد میں واقع معروف علمی و دینی ادارے جامعہ الرضا میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اساتذہ، طلباء اور جامعۃ الرضا اسٹوڈنٹس سوسائٹی کے مسئولین نے بھرپور شرکت کی۔
✍️ رپورٹ: مزمل حسین
🖼 تصاویر: جامعہ الرضا میڈیا ٹیم
تقریب کا آغاز مشہد علی کی روح پرور تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مختلف مقررین نے گلگت بلتستان کی تاریخی جدوجہد، ثقافت، اور موجودہ سماجی و سیاسی چیلنجز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ متعلم عارف حسین بلتستانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن اور غیور ہیں، ان کی قربانیاں اور ایثار پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش حصّہ ہیں۔ بعد ازاں نیر عباس اور ان کی ٹیم نے ایک خوبصورت ثقافتی ترانہ پیش کیا، جبکہ یاسر اور شمشاد علی نے منقبت خوانی کر کے روحانی ماحول پیدا کیا۔ تنویر علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان محض ایک خطہ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد نے اس خطے کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اور ہمیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
اسٹیج سیکریٹری مزمل حسین نے کہا کہ یومِ آزادی گلگت بلتستان منانے کا مقصد پاکستان بنانے والے شہداء کی یاد کو تازہ کرنا ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر یہ خطہ آزاد کرایا اور پاکستان سے غیر مشروط الحاق کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمن طاقتیں تاریخی حقائق کو مسخ کر کے عوامی اتحاد کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ ہمارے آباؤ اجداد نے 101 سالہ ڈوگرہ راج کو محض 16 دنوں میں ختم کیا، وہ بھی ایمان و اتحاد کی طاقت سے، بغیر کسی بڑی عسکری مدد کے۔
س موقع پر ڈاکٹر نذر حافی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ آج کا دن صرف گلگت بلتستان کی آزادی کا نہیں بلکہ ۷ جمادی الاوّل کی مناسبت سے شہید قاسم سلیمانی کی برسی کا دن بھی ہے، انہوں نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی اج کے دور میں گلگت و بلتستان کے استعمار مخالف لوگوں کیلئے بہترین رول ماڈل ہیں۔ ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ ہزاروں سال پر محیط ہے۔ ہمارے اسلاف نے ہمیشہ آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزاری۔ انہوں نے شہید قاسم سلیمانی سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم انسان تھے جنہوں نے امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے اپنی جان قربان کی۔
سینئر طالب علم ریحان بھٹو نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض پروگراموں میں گلگت بلتستان کی ثقافت کو محض تفریح اور ناچ گانے تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ثقافت کی اصل روح اور فکری پہلو کو اجاگر کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل اپنی اصل سے جڑی رہے۔ نشست کے اختتام پر شرکاء نے چند اہم سفارشات بھی پیش کیں جن میں گلگت بلتستان کی تاریخ پر جامع تحقیق اور اسے تعلیمی نصاب میں شامل کرنا، نوجوان نسل کو صحیح تاریخی آگاہی فراہم کرنا اور قومی یکجہتی و فکری بیداری کے پروگراموں کا تسلسل برقرار رکھنا شامل ہے۔تقریب کا اختتام مسلم اُمہ کے اتحاد، پاکستان کی سلامتی اور گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں کے ساتھ ہوا۔










0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں