جامعۃ الرضا اسلام آباد میں اسلامی بینکاری پر لیکچر
رپورٹ: حسن حیدر (متعلم جامعۃ الرضا)
جامعۃ الرضا اسلام آباد میں بینک الحبیب کے سینئر چیف منیجر جواد حسین رضوی صاحب نے شریعت اور جدید مالیاتی نظام کے عنوان سے ایک معلوماتی لیکچر دیا۔ جامعۃ الرضا کے طلبا اور اساتذہ نے اس لیکچر میں خصوصی دلچسپی لی۔ اس موقع پر محترم جواد حسین رضوی صاحب نے اپنے لیکچر میں کہا کہ اسلامی بینکاری ایک اخلاقی اور عدالتی مالیاتی ڈھانچہ ہے جو انسان کو سرمایہ داروں کا غلام بننے سے روکتا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ شریعتِ اسلامی کا معاشی تصور سود (ربا)، جوا (قمار) اور غیر یقینی لین دین (غرر) سے اجتناب پر قائم ہے۔ اس تصور کا مقصد یہ ہے کہ معیشت انسان کی خدمت گزار بنے اور سماج میں انسانوں کی مشکلات کم ہوں۔ انہوں نےسود سے اجتناب کی وجوہات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ربا محنت کے بغیر منافع کمانے کا راستہ کھول دیتا ہے جو شریعت کے منافی ہے۔ انہوں نے نفع و نقصان کی شراکت کی اہمیت کو بھی بیان کیا اور کہا کہ اس سے لین دین منصفانہ بنیادوں پر استوار رہتا ہے۔ انہوں نے معاشی معاملات کی شرعی مطابقت کو روشن کرنے کیلئے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ سود سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ بینکاری کو اسلامی احکام کے مطابق ڈھالا جائے۔ حلال سرمایہ کاری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حلال سرمایہ کاری سے سرمایہ صرف ایسے منصوبوں میں لگایا جاتا ہے کہ جو انسانی اقدار سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔
لیکچر کے دوران انہوں نے اسلامی بینکاری کی معروف مصنوعات جیسے مشارکہ، مضاربہ، اجارہ، مرابحہ وغیرہ کی تفصیلات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق یہ مالیاتی طریقے جدید معیشت میں ایک عملی متبادل فراہم کرتے ہیں اور حقیقی معیشت کو استحکام دیتے ہیں۔
جواد حسین رضوی نے کہا کہ اسلامی بینکاری کا مقصد مالی منافع نہیں بلکہ انسانی فلاح، معاشرتی انصاف اور اخلاقی توازن کا قیام ہے۔ یہ نظام دولت کو گردش میں رکھتا ہے اور محروم طبقے کو معاشی عمل کا حصہ بناتا ہے۔لیکچر کے بعد ہونے والے سوال و جواب کے سیشن میں طلبا نے اسلامی مالیات کے عملی پہلوؤں پر بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔ رضوی صاحب نے ہر سوال کا مدلل اور تحقیقی انداز میں جواب دیا ۔ جامعۃ الرضا کی یہ نشست ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ اسلامی بینکاری کا نظریہ ایک ٹھوس وجود رکھتا ہے اور اسلام ایک جامع نظام حیات ہے۔








0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں