اے ماہِ دسمبر! مائیں تو مائیں ہوتی ہیں :
ڈاکٹر نذر حافی :
گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی دسمبر کا خوف اور غم کم نہیں ہوا ۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) کی رات پاکستان کی تاریخ کی سب سے تاریک راتوں میں سے ایک تھی۔ اس شب نے سینکڑوں ماوں کے دلوں کو سوراخ سوراخ کر کے رکھ دیا۔ آج کے جدید عہد میں انسان یہ کیسے یقین کرے کہ کچھ لوگ اپنے ہی بچوں کو سانپوں کی طرح نگل جاتے ہیں؟ خون کے دھبّے شاید وقت کے ساتھ دھل جائیں، لیکن وہ زخم کیسے مندمل ہوں گے کہ جب سابق کور کمانڈر نے بچوں کی ماوں سے کہا کہ "جو ہوا وہ ہوا، آپ اور بچے پیدا کریں"۔
یہ بیان کسی دشمن ملک کے کمانڈر کا نہیں بلکہ ہمارے ہی ملک کے ایک جنرل ہدایت الرحمان کا ہے۔ یوں تو 16 دسمبر 2014 کا دن تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے لیکن اس کی سیاہی میں اس بیان نے مزید اضافہ کر دیا ہے۔ آپ خود یہ اندازہ کریں کہ اے پی ایس کے شہدا کی ماوں کا دل بچوں کی شہادت سے زیادہ زخمی ہوا یا ایک اعلی فوجی افیسر کے اس بیان سے؟ کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اس دن انسان دشمنوں کی درندگی پر روئے یا اپنوں کی بے حسی پر گریہ کرے؟ سوچئے اور ضرور سوچئے کہ منصب، طاقت اور اختیار۔۔۔ یہ سب کس حد تک انسان کو بہکا سکتے ہیں۔
سانحہ اے پی ایس کے پیچھے ہماراجتھہ سازی کا شوق پنہاں تھا۔ یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں جتھہ سازی ایک بڑی تاریخی اور انسانی غلطی تھی۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان بننے کے بعد انہی جتھوں اور عسکری گروہوں نے جیسے طالبان، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، البدر فورس وغیرہ نے ملک میں ان گنت بے گناہ اور قیمتی انسانوں نیز فوج و پولیس کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر کتنی ماوں کے دلوں کو گھائل کیا ہے۔
اسی طرح 1971 میں سقوطِ مشرقی پاکستان کی اصل وجوہات میں عوامی رائے کو نظرانداز کرنا اور عسکری و فاشسٹ جتھوں کو عوام کی سیاسی و جمہوری طاقت کے خلاف استعمال کرنا شامل تھا ۔ اسی جتھہ سازی اور برادر کُشی کی غلط حکمت عملی نے پاکستان کو دولخت کر دیا لیکن ہم نے اپنی سوچ پر نظر ثانی نہیں کی۔
7 دسمبر 1970 کے انتخابات اور مشرقی پاکستان کے عوامی مینڈیٹ کا احترام نہ کرنا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جمہوری عمل، انصاف اور عوامی رائے کسی بھی ریاست کی بنیاد ہیں۔ جب منطق اور مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے بجائے فاشسٹ جتھوں، عسکری گروپوں اور غیر قانونی قوتوں سے کام لیا جائے تو پھر 16 دسمبر 1971 یا 16 دسمبر 2014 جیسی المناک صورتحال ایک فطری ردعمل کے طور پر سامنے آتی ہے۔
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور (APS) پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا دردناک واقعہ ہے۔ ہم نے آج تک کسی ماں کی تکلیف کے جذبات کو سمجھنے کا کوئی درس اپنے سلیبس میں شامل ہی نہیں کیا۔ یہ کسی نے ہمیں سکھایا ہی نہیں کہ ایک روتی ہوئی ماں کے سامنے خاموش رہنا اور اُس کے آنسووں کی عزت کرنا کتنی عظیم سعادت ہے ۔ کاش! ۱۶ دسمبر کا روز ہمیں یہ احساس دلائے کہ ایک ماں کے لیے، اُس کے بچوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ کسی ماں کے صدمے کو تو کم نہیں کیا جا سکتا لیکن اُس کی ممتا کی عزت کرنے، اُس کے دکھ کا احترام کرنے اور اُس کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنانے سے اُسے زندگی کی تلخیوں میں تھوڑی سی راحت فراہم کی جا سکتی ہے۔
شہید بچوں کے والدین ۱۶ دسمبر کا زخم کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ ذرا سوچئے !جب کسی نے ایسے زخم خوردہ والدین سے یہ کہا ہوگا کہ " پھر کیا ہوا تم اور بچے پیدا کرو " تو پھر! کیا یہ صرف ایک جملہ تھا یا اُداس ماوں کے رُخساروں پر ایک بھیانک طمانچہ۔ ایسی مائیں جو اپنے بچوں کی قربانی کے بعد اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھیں، اِس جملے نے اُن سب کو زمین میں زندہ درگور کر دیا۔ المختصر یہ کہ جہالتِ قدیم میں بیٹیوں کو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور جہالتِ جدید میں ماوں کو۔ مائیں تو مائیں ہی ہوتی ہیں چاہے مشرقی پاکستان کی ہوں یا مغربی پاکستان کی۔ ماوں کے دکھ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ خدا جانے یہ مائیں اپنے بچوں کی موت سے پہلے مر کیوں نہیں جاتیں!
بقول مصطفی زیدی
تجھ سے ممکن ہو تو اے ناقدِ ایامِ کہن
اپنے گمنام خزانوں کو اٹھا کر رکھ لے
رات بے نام شہیدوں کے ليے روتی ہے
اِن شہیدوں کا لہو دل سے لگا کر رکھ لے
ماؤں کے میلے دوپٹوں میں ہیں جو آنسو جذب
ان کو آنکھوں کے چراغوں میں سجا کر رکھ لے







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں